سورة النور - آیت 32

وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اپنی رانڈوں اور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کے نکاح کرادو ‘ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ اپنے فضل سے انہیں تونگر کر دے گا اور اللہ سمائی والا جاننے والا ہے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نظر اور شرمگاہ کو بچانے کے لیے نکاح کرنے کا حکم۔ اس سورۃ کی آیت ٢٦ میں یہ ارشاد ہوا کہ پاکباز عورتیں پاکباز مردوں کے لیے اور پاکباز مرد پاکباز عورتوں کے لیے ہیں یعنی انہیں ایک دوسرے سے نکاح کرنا چاہیے اب کھلے الفاظ میں حکم دیا ہے کہ جو لوگ غیر شادی شدہ ہیں انہیں اپنے میں سے یعنی مسلمانوں سے نکاح کرنا چاہیے اور جو تم میں نیک غلام اور لونڈیاں ہیں ان کے بھی ایک دوسرے کے ساتھ نکاح ہونے چاہئیں اگر وہ غریب ہوں تو انہیں نکاح کرنے سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں غنی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ بہت وسعت والا اور ہر کام اور بات کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اسلام سے پہلے مختلف مذاہب میں لوگ تارک الدنیا ہونے کو سب سے بڑی نیکی سمجھتے تھے۔ جس طرح آج بھی ہندوؤں کے گرو اور پروہت، عیسائیوں کے پوپ، پادری شادی کروانے کو دنیاداری تصور کرتے ہیں۔ اسلام نے جسمانی عذر کے بغیر شادی نہ کرنے کو گناہ قرار دیا ہے ہندو، عیسائی، بدھ مت اور دیگر مذاہب کا عقیدہ ہے کہ شادی نہ کرنے والا دوسروں سے نیک ہوتا ہے لیکن اسلام کا تصور یہ ہے کہ شادی کرنے سے انسان کی آنکھوں میں حیا اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت ہوتی ہے۔ اس لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا نکاح کرنا میری سنت ہے اور جو میری سنت سے انحراف کرے گا اس کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ (ابن ماجۃ: باب ماجاء فی فضل النکاح) جہاں تک غربت کا معاملہ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ تسلّی دی ہے کہ تم غربت سے ڈرنے کی بجائے اپنے رب کا حکم سمجھ کر نکاح کرو۔ جب تم اس کا حکم سمجھ کر نکاح کروگے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے تمہاری ضرورتیں پوری کرے گا۔ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا نتیجہ ہے کہ آج تک کوئی شخص ایسا نہیں ہوا۔ جو شادی کرنے کی وجہ سے پہلے سے زیادہ غریب ہوا ہو۔ بشرطیکہ وہ محنت مزدوری کو عارنہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اس کی روزی میں پہلے کی نسبت وسعت کردیتا ہے آدمی کے جتنے بھی بچے ہوں اللہ تعالیٰ انہیں بھی رزق عطا کرتا ہے کیونکہ وہ کشادگی کا مالک اور سب کو روزی فراہم کرنے والا ہے اسی بات کو دوسرے الفاظ میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ جو بھی ذی روح زمین پر چلنے پھرنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی اپنے ذمہ لے رکھی ہے وہ انسان کی مستقل قیام گاہ اور اس کے عارضی پڑاؤ سے پوری طرح واقف ہے اس نے ہر کسی کی روزی اور اس کے حالات کو لوح محفوظ پر لکھ رکھا ہے ( ھود : ٦) ” ایامی ایم“ کی جمع ہے جو ہر اس مرد اور عورت کے لیے استعمال ہوتا ہے جو کنوارہ ہو یا کسی وجہ سے رنڈوا ہو۔ جہاں تک رنڈوے مرد اور عورت کے نکاح کا تعلق ہے اس کے لیے یہ حکم نہیں کہ وہ دوسرا نکاح کرے اگر وہ اپنی اولاد یا کسی دوسری وجہ سے دوسرا نکاح نہیں کرنا چاہتا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ بشرطیکہ اپنی طبیعت پر ضبط رکھنے والا ہو۔ (عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الأَشْجَعِیِّ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنَا وَامْرَأَۃٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّیْنِ کَہَاتَیْنِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَوْمَأَ یَزِید بالْوُسْطَی وَالسَّبَّابَۃِ امْرَأَۃٌ آمَتْ مِنْ زَوْجِہَا ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ حَبَسَتْ نَفْسَہَا عَلَی یَتَامَاہَا حَتَّی بَانُوا أَوْ مَاتُوا) [ رواہ ابوداود : باب فِی فَضْلِ مَنْ عَالَ یَتَامَی] ” حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اور سیاہ رخساروں والی عورت قیامت کے دن اس طرح ہوں گے۔ آپ نے سبابہ اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ ایسی عورت بھی جس کا شوہر فوت ہوگیا ہو باوجود اس کے وہ حسب و نسب اور شکل وصورت والی ہو لیکن پھر بھی اپنے شوہر کے یتیم ہونے والے بچوں کے لیے اپنے آپ کو وقف کردیتی ہے حتیٰ کہ بچے گھر بار والے ہوجائیں یا فوت ہوجائیں۔“ (سیاہ رخساروں والی سے مراد وہ عورت ہے جو محنت، مزدوری اور باورچی خانے کا کام کرنے کی وجہ سے اپنا بناؤ سنگھار نہیں کرسکتی جس وجہ سے اس کے چہرے کی رنگت سیاہی میل ہوگئی ہے۔) مسائل ١۔ جو لوگ نکاح کرنے کے قابل ہوں انہیں نکاح کرنا چاہیے۔ ٢۔ نیک غلاموں اور لونڈیوں کے بھی نکاح کرنے چاہئیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ غریبوں کو غنی کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والاہے۔ ١۔ اللہ تعالیٰ ہی رازق ہے۔ (الذاریات : ٥٨) ٢۔ اللہ ہی رزق فراخ کرتا اور کم کرتا ہے۔ (ا لسباء : ٣٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں سے رزق طلب نہیں کرتا وہ لوگوں کو رزق دیتا ہے۔ (طٰہٰ : ١٣٢) ٤۔ اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق دیتا ہے۔ (البقرۃ: ٢١٢) ٥۔ اللہ تعالیٰ مہاجروں کو ضرور اچھا رزق دے گا۔ (الحج : ٥٨) ٦۔ اللہ تعالیٰ چوپاؤں اور تمام انسانوں کو رزق دیتا ہے۔ (العنکبوت : ٦٠) ٧۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمھیں اور انھیں بھی رزق دینے والا ہے۔ (الانعام : ١٥٢)