سورة النور - آیت 15

إِذْ تَلَقَّوْنَهُ بِأَلْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِكُم مَّا لَيْسَ لَكُم بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّنًا وَهُوَ عِندَ اللَّهِ عَظِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جب اس تہمت کو تم اپنی زبانوں پر لیتے تھے ، اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہتے تھے جس کا علم تمہیں نہ تھا اور اسے ہلکی بات سمجھتے تھے اور (حالانکہ) وہ خدا کے نزدیک بڑی بات تھی ،

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القران ربط کلام : صحابہ پرخصوصی فضل ورحمت کا تذکرہ کرنے کے بعد انہیں مزید احساس دلایا گیا کہ جس بات کو تم نے معمولی سمجھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ گناہ اور نتائج کے اعتبار سے بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت بڑا مقام رکھتی ہے اس لیے ایک دفعہ پھر صحابہ کرام (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ جس بات کو تم ہلکا سمجھتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی بات ہے یعنی بہت بڑا جرم ہے کیونکہ اس سے پاکدامن مومن مرد اور عورت کی عزت و حرمت پامال ہوتی ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ ہرگز برداشت نہیں کرتا۔ تمہارا اخلاقی فرض تھا کہ جو نہی تم نے اس بات کو سنا تو فوراً کہہ دیتے کہ ہماری کیا مجال کہ ہم سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ مطہرہ کے بارے میں منفی بات کریں تمہیں اس میں حصہ لینے کی بجائے صاف صاف کہنا چاہیے تھا یہ تو عظیم بہتان ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم حقیقتاً اپنے رب پر ایمان لانے والے ہو تو آئندہ اس قسم کی بات تمہاری زبان پر نہیں آنی چاہیے۔ اس نے اپنے احکام تمہارے لیے کھول کر بیان کردیے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھنا کہ اللہ تعالیٰ ہر کام اور ہر بات کو جانے والا ہے اور اس کے ہر حکم اور ارشاد میں حکمت ہوتی ہے۔ مسائل ١۔ مسلمان مرد اور عورت کی عزت و حرمت کے بارے میں منفی بات کرنا بڑا گناہ ہے۔ ٢۔ صحابہ (رض) اور صحابیات (رض) کے بارے میں منفی گفتگو کرنا قابل تعزیر جرم ہے۔ ٣۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی عصمت وحرمت کے بارے میں منفی گفتگو کرنے سے اجتناب کریں۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور اس کے ہر کام اور حکم میں حکمت ہوتی ہے : ١۔ بے شک اللہ جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔ (المائدۃ: ١) ٢۔ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ ( المائدۃ: ٩٨) ٣۔ جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو سب کچھ اللہ کو معلوم ہے۔ ( المائدۃ: ٩٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو بھی جانتا ہے۔ ( المؤمن : ١٩) ٥۔ جو کچھ ہوچکا اور جو ہونے والا ہے سب اللہ کو معلوم ہے اس کے علم کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ ( طٰہٰ: ١١٠) ٦۔ اللہ سے ڈر جاؤ اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ (الحجرات : ١) ٧۔ اللہ تعالیٰ کی مثل کوئی چیز نہیں وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (الشوریٰ: ١١)