سورة النور - آیت 6

وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگائیں ، اور ان کے پاس خود اپنی جانوں کے اور گواہ نہ ہوں تو ایسے کسی کی گواہی ہے کہ اللہ کی قسم کھا کر چار دفعہ گواہی دے ، کہ مقرر وہ سچوں میں ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پاکدامن عورتوں اور مردوں پر جھوٹی تہمت لگانے کی سزا کے ذکر کے بعد اپنی بیویوں پرجھوٹی تہمت لگانے والوں کی سزا اور ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا طریقہ۔ جس طرح عام مسلمان پاکدامن عورت اور مرد پر جھوٹی تہمت لگ سکتی ہے اسی طرح میاں بیوی کے درمیان تنازع پیدا ہوجانے کی شکل میں ان سے ایک دوسرے پر تہمت لگانے کا عمل سرزد ہوسکتا ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات کو صحیح خطوط پر استوار رکھنے اور انہیں غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے یہ قانون جاری کیا گیا ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی پر بدکاری کی تہمت لگاتا ہے اور اپنے سوا چارگواہ ثابت نہیں کرتا تو اسے چار مرتبہ ” اللہ“ کی قسم اٹھا کر شہادت دیناہو گی کہ میں سچے لوگوں میں شامل ہوں یعنی میں سچا ہوں۔ پانچویں دفعہ اسے اس طرح قسم اٹھانا ہوگی کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ اگر عورت اپنے آپ کو تہمت سے بری الذّمہ قرار دیتی ہے تو اسے چار مرتبہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھا کر یہ گواہی دینا ہوگی کہ اس کا خاوند جھوٹ بولتا ہے اور پانچویں مرتبہ عورت اس طرح قسم دے گی کہ اگر اس کا خاوند سچ بولتا ہے تو مجھ پر ” اللہ“ کا غضب نازل ہونا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے مسلمان معاشرے کو بے راہ روی سے بچانے کے لیے یہ سزائیں مقرر کیں اور میاں بیوی کے تعلق کو غلط فہمیوں سے بچانے کے لیے ٹھوس اور واضح طریقہ کار بتلایا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہقبول کرنے والا ہے اور اس کے ہر ارشاد اور حکم میں حکمتیں پنہاں ہوتی ہیں۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ ہلاَلَ بْنَ أُمَیَّۃَ قَذَفَ امْرَأَتَہُ، فَجَاءَ فَشَہِدَ وَالنَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَکُمَا کَاذِبٌ، فَہَلْ مِنْکُمَا تَاءِبٌ ثُمَّ قَامَتْ فَشَہِدَتْ) [ رواہ البخاری : باب یَبْدَأُ الرَّجُلُ بالتَّلاَعُنِ] ” حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں بیشک ہلال بن امیہ نے اپنی عورت پر الزام لگایا انہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو شہادت کے لیے لایا گیا آپ نے فرمایا یقیناً اللہ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر دعورت کھڑی ہوئی اس نے قسمیں اٹھائیں کہ ہلال جھوٹا ہے۔ ” حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی عاصم بن عدی (رض) انصاری کے پاس آئے اور اس سے کہا کیا خیال ہے آپ کا اگر ایک آدمی اپنی عورت کے ساتھ کسی اور آدمی کو دیکھتا ہے کیا وہ اسے قتل کر دے اور اس کے بدلے میں اسے قتل کردیا جائے گا؟ یا اس صورت حال سے کیسے نپٹا جائے؟ اے عاصم اس سلسلہ میں میرے لیے سوال کیجئے تو عاصم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت فرمایا تو آپ نے اس پوچھے جانے کو ناپسند فرمایا اور اسے ڈانٹ پلائی حتیٰ کہ اس بات کو عاصم (رض) نے برا محسوس کیا جو اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی تو عاصم اپنے اہل وعیال میں پلٹ آیا تو ان کے پاس حضرت عویمر تشریف لائے اور دریافت کیا کہ اس مسئلہ کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ارشاد فرمایا ہے عاصم نے کہا میں آپ کے پاس اس کے متعلق کوئی اچھی خبر نہیں لایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سوال کو ناپسند جانا ہے حضرت عویمر کہنے لگے اللہ کی قسم میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کے متعلق ضرور دریافت کروں گا۔ عویمر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اس وقت آپ لوگوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرمائیے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی کو پائے تو کیا اسے قتل کردے؟ ایسی صورت میں ردعمل کے طور پر تو اس عورت کے وارث اس کو قتل کردیں گے۔ پھر اسے کیا کرنا چاہیے؟ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارے بارے میں یہ حکم نازل ہوا ہے‘ تم جاؤ اور اپنی بیوی کو لے آؤ۔ سہل (رض) بیان کرتے ہیں کہ پھر میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب وہ لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا : اگر میں اس کو بیوی بنا کر رکھوں‘ تو میں جھوٹاہوں اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم دینے سے پہلے ابن شہاب کہتے ہیں اس وقت سے لعان کرنے والوں کے لیے یہی طریقہ جاری ہوا۔ [ رواہ البخاری : باب اللِّعَانِ وَمَنْ طَلَّقَ بَعْدَ اللِّعَانِ] اس کے بعدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انتظار کرو! اگر بچہ سیاہ رنگ کا ہو‘ اس کی آنکھیں بڑی بڑی اور گہری سیاہ ہوں اس کے سرین بڑے اور پنڈلیاں موٹی ہوئیں‘ تو عویمر سچا ہے اور اگر بچہ سرخ رنگ کا ہوا گویا کہ وہ کچھیرا ہے تو میرا خیال ہے کہ پھر عویمر جھوٹا ہے۔ جب بچے کو اس کی ماں نے جنا تو بچہ انہیں اوصاف پر پیدا ہوا جن پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عویمر کو سچاقرار دیاتھا۔ اس وجہ سے بچہ باپ کی بجائے اپنی ماں کی نسبت سے بلایا جاتا تھا۔“ لعان کے بعد فریقین میں مستقل جدائی ہوجائے گی۔ بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب ہوگا بچہ اور ماں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے۔ لعان کے ذریعے جدائی ہونے کے بعد خاوند مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ مسائل ١۔ خاوند کے پاس اگر چار گواہ نہ ہوں تو اسے چار قسمیں اٹھانی ہونگی کہ وہ سچا ہے۔ اور پانچویں قسم اس طرح ہوگی کہ جھوٹا ہونے کی صورت میں اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ ٢۔ عورت کی چار قسمیں اٹھانے کی وجہ سے کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے عورت سزا سے بچ جائے گی۔ ٣۔ عورت کو پانچویں قسم اٹھانی ہوگی کہ جھوٹی ہونے کی صورت میں اس پر اللہ کا غضب ہو۔ ٤۔ لعان کے بعد میاں، بیوی ہمیشہ کے لیے جدا ہوجائیں گے۔ ٥۔ اللہ اپنے بندوں پر فضل فرمانے والا ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن میاں، بیوی کی علیحد گی کی صورتیں : ١۔ حدود کو قائم نہ رکھ سکیں۔ ( البقرۃ: ٢٢٩) ٢۔ جب خاوند بیوی کی نافرمانی سے خوف کھائے۔ ( النساء : ٣٤) ٣۔ طلاق رجعی کے بعد ان کی مدت پوری ہوجائے تو ان کے درمیان علٰیحدگی ہوگی۔ ( البقرۃ: ٢٣٠)