سورة المؤمنون - آیت 62

وَلَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَلَدَيْنَا كِتَابٌ يَنطِقُ بِالْحَقِّ ۚ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ نکلیف نہیں دیتے ، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سچ بولتی ہے اور ان پر ظلم نہ ہوگا (ف ٢) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے نیکی کے کاموں میں سبقت کرنے کی ترغیب اور حکم دیا ہے لیکن کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا۔ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنے کا حکم دیا ہے ایک دوسرے سے سبقت کرنے میں مشقت کا پہلو محسوس ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری سمجھا گیا ہے کہ مومنوں کو اس بات کی تسلی دی جائے کہ نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے سے سبقت کرنا ہے مگر اپنے آپ پر اتنا بوجھ نہیں ڈالنا جس میں آدمی حد سے زیادہ تکلیف محسوس کرے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کے کسی کام میں انسان کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف اور بوجھ نہیں رکھا۔ انسان معمول کے مطابق نیکی کرے یا دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کرے وہ جس نیت اور انداز سے نیکی کرتا ہے اس کا ہر عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں لکھا جاتا ہے جسے شریعت کی زبان میں انسان کا اعمال نامہ کہا جاتا ہے۔ اعمال نامے کے بارے میں بتلایا ہے کہ وہ قیامت کے دن حق کے مطابق بولے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ اعمال نامے کا بولنا ایک محاورہ بھی ہے جسے ہر زبان میں یوں ادا کیا جاتا ہے۔ مجرم کاریکارڈ اس کے سامنے رکھ کر کہا جاتا ہے کہ اپنا اعمال نامہ پڑھ اس کا ایک ایک لفظ تیری کرتوتوں کی گواہی دے رہا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حقیقتاً دوسری شہادتوں کے ساتھ انسان کے اعمال نامہ کو گویائی کی قوت دی جائے اور اس کا ایک ایک لفظ بول کر انسان کے اچھے اور برے اعمال کے بارے میں گواہی دے۔ اگر آج ٹیپ ریکارڈر اور ڈیجیٹل قرآن کے ذریعے الفاظ بولتے ہیں تو قیامت کے دن اعمال نامہ کیوں نہیں بول سکتا؟ انسانی اعضا بھی بول کر گواہی دیں گے۔ (حَتّٰی اِِذَا مَا جَاءُ وْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ) [ حٰم السجدۃ: ٢٠] ” یہاں تک کہ وہ اس تک پہنچ ہی جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم ان کے خلاف پر ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔“ (عَنْ عَاءِشَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دَخَلَ عَلَیْہَا وَعِنْدَہَا امْرَأَۃٌ قَالَ مَنْ ہَذِہِ قَالَتْ فُلاَنَۃُ تَذْکُرُ مِنْ صَلاَتِہَا قَالَ مَہْ، عَلَیْکُمْ بِمَا تُطِیقُونَ، فَوَاللَّہِ لاَ یَمَلُّ اللَّہُ حَتَّی تَمَلُّوا وَکَانَ أَحَبَّ الدِّینِ إِلَیْہِ مَا دَامَ عَلَیْہِ صَاحِبُہُ) [ باب أَحَبُّ الدِّینِ إِلَی اللَّہِ أَدْوَمُہُ] ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ہاں تشریف لائے اس وقت میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی آپ نے پوچھا یہ کون ہے حضرت عائشہ (رض) کہنے لگی یہ وہی عورت ہے جس کے کثرت نماز کے تذکرہ ہوتا ہے آپ نے فرمایا بہت اچھا مگر تم پر اتنی عبادت لازم ہے جس قدر تم طاقت رکھتی ہو۔ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اجر دیتے ہوئے نہیں تھکتے تم اعمال کرتے کرتے تھک جاؤ گے۔ اللہ کے ہاں وہی عمل محبوب ہے جس پر عمل کرنے والا اس پر ہمیشگی اختیار کرے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کسی انسان کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ ٢۔ قیامت کے دن انسان کا اعمال نامہ بول بول کر گواہی دے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن کسی پر کوئی زیادتی نہیں ہونے پائے گی۔ تفسیر بالقرآن دین میں تکلّف نہیں ہے : ١۔ دین میں جبر نہیں۔ (البقرۃ: ٢٥٦) ٢۔ اللہ تعالیٰ کسی کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ (البقرۃ: ٢٨٦) ٣۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔ (بنی اسرائیل : ٥٤) ٤۔ نبی کسی کو ہدایت کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ (القصص : ٥٦) ٥۔ نبی کسی پر نگران نہیں ہوتا۔ (النساء : ٨٠) ٦۔ کیا آپ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ( یونس : ٩٩) ٧۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کے ذمے صرف پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں۔ ( النحل : ٨٢) ٨۔ رسول کا کام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے۔ ( العنکبوت : ١٨)