سورة الحج - آیت 54

وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوا بِهِ فَتُخْبِتَ لَهُ قُلُوبُهُمْ ۗ وَإِنَّ اللَّهَ لَهَادِ الَّذِينَ آمَنُوا إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جان لین کہ وہ (یعنی قرآن) تیرے رب کی طرف سے حق ہے پھر وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کے لئے عاجز ہوں اور اللہ ایمانداروں کو راہ راست دکھلاتا ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ظالموں کے مقابلے میں ایمانداروں کے دل اور کردار۔ اللہ تعالیٰ اس لیے شیطان کی شیطنت کو دباتا اور مٹاتا ہے تاکہ حقیقی علم رکھنے والے لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان سچ اور حق ہے۔ حقیقی علم رکھنے والے لوگ ” اللہ“ کے فرمان پر ایمان لاتے ہیں اور ان کے دل حق بات کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کی ضرور رہنمائی کرتا اور انھیں سیدھے راستے پر گامزن رہنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں علم سے مراد شریعت کا وہ علم ہے جس سے ایماندار لوگ رہنمائی حاصل کرکے شیطانی قوتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ” اُوْتُوْ العِلْمَ“ سے مراد وہ لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو پہلے عیسائی اور یہودی تھے۔ جب ان کے سامنے قرآن و سنت پیش کیے جاتے ہیں تو انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ وہی حق ہے جس کا ذکر انھوں نے تورات، انجیل میں پڑھا تھا۔ پھر وہ حق کو قبول کرنے میں کسی قسم کا تامل نہیں کرتے۔ ” اللہ“ سے ڈرنے والے علماء اُوْتُوا الْعِلْمَ میں شامل ہیں۔ (عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یَقُولُ فِی دُبُرِ الْفَجْرِ اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَعَمَلاً مُتَقَبَّلاً وَرِزْقاً طَیِّباً) [ رواہ احمد : مسند ام سلمہ زوج النبی] ” حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ بے شک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے ( الٰہی! میں تجھ سے نفع مند علم اور قبول ہونے والا عمل اور رزق حلال کا طلبگار ہوں۔“ (حَدَّثَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَلاَمٍ مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ ؟ قَالَ الَّذِینَ یَعْمَلُونَ بِمَا یَعْلَمُونَ قَالَ فَمَا یَنْفِی الْعِلْمَ مِنْ صُدُور الرِّجَالِ ؟ قَال الطَّمَعُ) [ رواہ دارمی : باب صِیَانَۃِ الْعِلْمِ ] ” عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں بے شک عمر بن خطاب (رض) نے عبداللہ بن سلام (رض) سے سوال کیا کہ علم والے کون ہیں؟ عبداللہ (رض) بن سلام نے جواب دیا جو علم کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ حضرت عمر نے دریافت کیا لوگوں کے دلوں سے علم کو ختم کرنے والی کون سے چیز ہے ؟ اُنہوں نے کہا دنیا کا لالچ۔“ ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھنے سے پہلے یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔ اے الٰہی! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب، تو ہی زمین و آسمانوں کا پیدا کرنے اور حاضر و غائب کا علم رکھنے والاہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان کے آپس کے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ اختلافی معاملات میں حق اور سچ کے ساتھ میری رہنمائی فرما۔ یقیناً تو جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت عطا کرتا ہے۔“ [ رواہ مسلم : باب الدعاء فی الصلوۃ اللیل] مسائل ١۔ حقیقی علم وہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرے۔ ٢۔ حق کی رہنمائی پانے کے بعد ایمان دار کا دل اس کی جانب جھک جانا چاہیے۔ ٣۔ جو لوگ حق کے سامنے جھکتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن صراط مستقیم کے سنگ میل : ١۔ اللہ ہی ایمان والوں کو صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (الحج : ٥٤) ٢۔ اللہ کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔ (یٰسٓ: ٦١) ٣۔ اللہ جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔ (البقرۃ: ٢١٣) ٤۔ اللہ ہی صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ (الشوریٰ : ٥٢) ٥۔ اللہ میرا اور تمھارا رب ہے۔ تم اسی کی عبادت کرو یہی صراط مستقیم ہے۔ (آل عمران : ٥١، مریم : ٣٦) ٦۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی جماعت کو چن لیا اور ان کو صراط مستقیم کی ہدایت دی۔ (الانعام : ٨٧) ٧۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صراط مستقیم کی طرف دعوت دینے والے ہیں۔ (الشوریٰ : ٥٢) ٨۔ صراط مستقیم کی ہی پیروی کرو۔ (الانعام : ١٥٣)