سورة الحج - آیت 38

إِنَّ اللَّهَ يُدَافِعُ عَنِ الَّذِينَ آمَنُوا ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُورٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بے شک اللہ مومنوں سے (ان کے دشمنوں کو) دفع کرتا ہے ، اللہ کو کوئی دغا باز ناشکرپسند نہیں آتا ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : قربانی کے جذبہ کا منطقی نتیجہ ہے کہ مسلمان اپنا تن، من، دھن ” اللہ“ کی راہ میں نچھاور کر دے اس لیے قربانی کے مسائل بیان کرتے ہوئے قتال فی سبیل اللہ کی اجازت کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مکہ معظمہ میں تیرہ سال تک مسلمان ہر قسم کے مظالم برداشت کرتے رہے۔ مقابلے میں جب کبھی لڑنے کی اجازت طلب کی گئی تو مسلمانوں کو اپنا دفاع کرنے سے روک دیا گیا۔ ہجرت کے بعد یہ پہلا فرمان ہے جس میں مظلوم مسلمانوں کو نہ صرف لڑنے کی اجازت دی گئی بلکہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ مسلمانوں اب تمھیں ظلم کے خلاف لڑنے کی اجازت ہے۔ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ تمھاری مدد کرنے پر قادر ہے۔ باالفاظ دیگر تمہاری ضرور مدد کی جائے گی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ مسلمانوں کا دفاع کرتا ہے کیونکہ وہ کسی خائن اور ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ جب کفار کے ساتھ قتال کا سلسلہ شروع ہوا تو بدر سے لے کر تبوک تک نہتے مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے وہ کامیابیاں عنایت فرمائیں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ مَّاتَ وَلَمْ ےَغْزُ وَلَمْ ےُحَدِّثْ بِہٖ نَفْسَہٗ مَاتَ عَلٰی شُعْبَۃٍ مِّنْ نِّفَاقٍ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃِ، باب ذم من مات ولم یغزولم یحدث نفسہ بالغزو] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی دل میں جہاد کا خیال لایا تو وہ منافقت کی ایک قسم پر فوت ہوا۔“