سورة الأنبياء - آیت 85

وَإِسْمَاعِيلَ وَإِدْرِيسَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّابِرِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اسمعیل اور ادریس اور ذوالکفل کو یاد کر ‘ یہ سب صابر تھے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : انبیاء کا ذکر جاری ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا تفصیلی ذکر سورۃ مریم میں ہوچکا ہے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا تعارف حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نسب اور زمانہ کے بارے میں مؤرخین کی سوچ میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ اس عظیم پیغمبر کے بارے میں قرآن مجید اور احادیث کی دستاویزات میں نہایت ہی مختصر ذکر ہے۔ جس کسی نے ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں لکھا ہے۔ اس کی تحریر کا مآخذ بنی اسرائیل کی روایات کے سوا کچھ نہیں۔ اسرائیلی روایات کے بارے میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت کو اس اصول کا پابند کیا ہے کہ ان روایات کی تصدیق یا تردید نہ کرو۔ لہٰذا حرف آخر یہی ہے کہ ان کے بارے میں ثقہ معلومات موجود نہیں ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معراج کے موقعہ پر ادریس (علیہ السلام) سے ملاقات : آپ فرماتے ہیں پھر جبریل مجھے چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے دروازہ کھولنے کو کہا۔ سوال ہوا کہ کون ہے؟ کہا : میں جبریل ہوں۔ پوچھا : تمہارے ساتھ کون ہے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں پوچھا گیا کیا انہیں بلوایا گیا ہے ؟ جبریل نے کہا : ہاں کہا گیا : خوش آمدید جو آیا ہے کتنا ہی اچھا ہے؟ دروازہ کھول دیا گیا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں ادریس (علیہ السلام) تھے جبریل نے کہا : یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں انہیں سلام کریں۔ میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دیا اور کہا : صالح بھائی اور پیغمبر کو خوش آمدیدکہتا ہوں۔ [ رواہ البخاری : باب المعراج] حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں تذکرہ : ١۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا قرآن مجید میں دو بار تذکرہ ہوا ہے۔ ٢۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) صدیق نبی تھے۔ (مریم : ٥٦) ٣۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) صبر کرنے والے تھے۔ (الانبیاء : ٨٥) (تفصیل کے لیے سورۃ مریم آیت ٥٦ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں) سیدنا ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر مبارک اس آیت کریمہ میں حضرت اسماعیل، حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ جس پیغمبر یا شخصیت کا ذکر ہوا ہے ان کا نام نامی ذالکفل ہے قرآن و سنت میں ان کے نام کے تذکرہ کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ البتہ اسرائیلی روایات کے حوالے سے مؤرخین نے چند معلومات فراہم کی ہیں۔ قرآن مجید نے ان کی عظمت و فضیلت کا تذکرہ یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ساتھ کیا ہے۔ سورۃ ص کی آیت ٤٨ میں ان کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے۔ ” اے پیغمبر ! اسماعیل اور الیاس کے ساتھ ذالکفل کا تذکرہ فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی رحمت سے ہمکنار کیا کیونکہ وہ اللہ کے نیک بندوں میں تھے۔ (وَإِسْمَاعِیْلَ وَإِدْرِیْسَ وَذَا الْکِفْلِ کُلٌّ مِنَ الصَّابِرِیْنَ وَ اَدْخَلْنٰھُمْ فِیْ رَحْمَتِنَا اِنَّھُمْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ) [ الانبیاء : ٨٥۔ ٨٦] ” اور اسمٰعیل وادریس اور ذوالکفل سب صبر کرنے والے تھے ہم نے انہیں اپنی رحمت کے سایہ میں لے لیا۔ یقیناً وہ نیک بندوں میں سے تھے۔“ (وَاذْکُرْ إِسْمَاعِیْلَ وَالْیَسَعَ وَذَا الْکِفْلِ وَکُلٌّ مِنَ الْأَخْیَارِ) [ آ : ٤٨] ” اور یاد کرو اسمعیل اور الیسع اور ذوالکفل یہ سب نیکو کاروں میں سے تھے۔“ ذوالکفل کا لفظی ترجمہ ” صاحب نصیب“ ہے اخلاق اور بزرگی میں بڑا حصہ پانے والا۔ قرآن حکیم نے ان کو اسی لقب سے یاد کیا ہے اور یہ لقب ان کے نام کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جو ان کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے اور ان کا اصل نام بشر تھا۔ علامہ آلوسی (رض) نے تفسیر روح المعانی میں لکھا ہے کہ اہل کتاب ان کا نام ” حِزقی ایل“ بتاتے ہیں جو بنی اسرائیل کی اسیری کے زمانے میں نبوت سے سرفراز ہوئے۔ بُخت نصر نے عراق میں اسرائیلی قیدیوں کی ایک نو آبادی قائم کی تھی جس کا نام تل اَبِیب تھا۔ حضرت ذوالکفل اسی مقام پر ہدایت ورسالت کے منصب پر سرفراز کیے گئے اور طرح طرح کی تکالیف اٹھائیں مگر اس کے باوجود یروشلم کے حکمرانوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ جس کی وجہ سے ان کے مصائب میں مزید اضافہ ہوتا رہا۔ ممکن ہے ان کے اسی صبر وضبط کی وجہ سے انہیں ذوالکفل کا لقب دیا گیا ہو۔ مسائل ١۔ حضرت ذوالکفل بھی اللہ کے صابر، شاکر بندوں میں سے تھے۔ ٢۔ اللہ نے انھیں اپنی رحمت سے سرفراز فرمایا تھا۔ ٣۔ اللہ نے انھیں اپنے صالح بندوں میں شمار فرمایا ہے