سورة الأنبياء - آیت 37

خُلِقَ الْإِنسَانُ مِنْ عَجَلٍ ۚ سَأُرِيكُمْ آيَاتِي فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

آدمی جلدی سے بنا ہے ، عنقریب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ، سو تم مجھ سے جلدی نہ کرو ،

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار نہ صرف رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور آپ کی دعوت کو مذاق کا نشانہ بناتے تھے بلکہ وہ عذاب کے بارے میں بھی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے بلکہ اسے بھی مذاق سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بطور امتحان ہر انسان میں کچھ طبعی کمزوریاں رکھی ہیں تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ ان کمزوریوں میں عجلت پسندی بھی ہے۔ جو ہر انسان میں کسی نہ کسی حد تک پائی جاتی ہے۔ خوشی، غمی، کامیابی، ناکامی، تنگدستی اور کشادگی، اقتدار اور اختیار ملنے پر انسان کسی نہ کسی موقع پر ضرور جلد باز ہوجاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ ایماندار خوشی کے موقع پر شکر اور غم کے موقع پر صبر کرکے اس کمزوری پر قابو پالیتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا وہ ان مواقعوں پر جلد بازی کا مظاہرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ رسول اکرم جب کفار اور مشرکین کو ان کے کفر و شرک کے انجام سے ڈراتے تو وہ لوگ اپنے خوفناک انجام سے ڈرنے کی بجائے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب کا مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں صبح و شام ڈرایا جاتا ہے اس کے آنے میں آخر کیا رکاوٹ ہے ؟ اے محمد! تم سچے ہو تو یہ وعدہ اب تک پورا کیوں نہیں ہوا؟ بسا اوقات ان کے مظالم اور پراپیگنڈہ سے متاثر ہو کر مسلمان بھی یہ سوچتے کہ ان لوگوں پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ یہاں مسلمانوں کو تسلّی دینے کے ساتھ کفار کو انتباہ کیا گیا ہے کہ جلد بازی کا مظاہرہ مت کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائے گا یعنی جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو بہت جلد اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ (اَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الأَنَاۃُ مِنَ اللَّہِ وَالْعَجَلَۃُ مِنَ الشَّیْطَانِ) [ رواہ الترمذی : باب مَا جَاءَ فِی التَّأَنِّی وَالْعَجَلَۃِ] ” حضرت سہل بن سعد اپنے باپ سے وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تحمل مزاجی اللہ کی طرف سے ہے اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔“ (عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ یَہُودَ أَتَوُا النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالُوا السَّامُ عَلَیْکُمْ فَقَالَتْ عَاءِشَۃُ عَلَیْکُمْ، وَلَعَنَکُمُ اللَّہُ، وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ قَالَ مَہْلاً یَا عَاءِشَۃُ، عَلَیْکِ بالرِّفْقِ، وَإِیَّاکِ وَالْعُنْفَ وَالْفُحْشَ قَالَتْ أَوَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا قالَ أَوَلَمْ تَسْمَعِی مَا قُلْتُ رَدَدْتُ عَلَیْہِمْ، فَیُسْتَجَابُ لِی فیہِمْ، وَلاَ یُسْتَجَابُ لَہُمْ فِیَّ) [ باب لَمْ یَکُنِ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَاحِشًا وَلاَ مُتَفَحِّشًا] ” حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ یہودی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے کہا السام علیکم یعنی تم پر موت واقع ہو۔ حضرت عائشہ نے جواباً کہا تم پر بھی موت واقع ہو، اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے اور اپنا غضب نازل فرمائے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے عائشہ ! نرمی اختیار کرو سختی اور بد کلامی نہ کرو حضرت عائشہ (رض) نے عرض کی اے اللہ کے نبی آپ نے ان کی بات نہیں سنی آپ نے فرمایا جو میں نے ان کو جواب دیا ہے آپ نے وہ نہیں سنا۔ میری بات ان کے بارے میں قبول ہوگئی ہے ان کی بات میرے بارے میں قبول نہیں ہوئی۔“ مسائل ١۔ انسان بنیادی طور پر جلد باز ہے۔ ٢۔ اللہ اور آخرت کا منکر ضرور جلد باز ہوتا ہے۔ ٣۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفار بار بار عذاب کا مطالبہ کرتے تھے۔ تفسیر بالقرآن انسان کی طبعی کمزوریاں : ١۔ انسان جلد باز ہے۔ (بنی اسرائیل : ١١) ٢۔ انسان فطرتاً جلد باز ہے۔ (الانبیاء : ٣٧) ٣۔ لوگ عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الحج : ٤٧) ٤۔ کیا وہ ہمارے عذاب کے معاملے میں جلدی کرتے ہیں۔ (الشعرا : ٢٠٤) ٥۔ میں عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا سو جلدی نہ کرو۔ (الانبیاء : ٣٧) ٦۔ اللہ کا حکم آنے والا ہے جلدی نہ کرو۔ (النحل : ١) ٧۔ یقیناً انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے۔ ( العادیات : ٦) ٨۔ اکثر انسان رب کے ناشکرے ہیں۔ ( بنی اسرائیل : ٨٩) ٩۔ انسان دل کا تنگ ہے۔ ( بنی اسرائیل : ١٠٠) ١٠۔ یہ لوگ عذاب الٰہی میں جلدی کرتے ہیں حالانکہ اس سے پہلے عذاب آنے کے واقعات گزرچکے ہیں۔ (الرعد : ٦)