سورة طه - آیت 123

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّي هُدًى فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

فرمایا ، تم دونوں یہاں سے اکٹھے اترو ، ایک دوسرے کے دشمن ہو ، پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کے تابع ہوگا ، وہ نہ بہکے گا ، اور نہ دکھ اٹھائے گا ،

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ اعراض سے مراد کفر و شرک اور کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرنا ہے۔ ایسے لوگ دنیا میں کشادہ دست ہونے کے باوجود پریشان رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے رزق سے برکت اٹھا لیتا ہے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ دنیا کے حصول کے لیے ہلکان رہتے ہیں۔ انھیں دل کی تونگری حاصل نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی ان کے مال کی ہوس دن بدن بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کنارے پہنچ جاتے ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَیْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ، وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ) [ رواہ البخاری : باب الْغِنَی غِنَی النَّفْسِ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہتونگری دولت کی بہتات سے نہیں بلکہ دل کے غنٰی سے حاصل ہوتی ہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی نصیحت سے منہ پھیرنے والے ہمیشہ تنگ رہتے ہیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ دنیا پرست لوگوں کو قیامت کے دن اندھا کرکے اٹھائے گا۔ تفسیر بالقرآن ذکر کا مفہوم اور اس کے فائدے : ١۔ قرآن ذکر ہے۔ ( الحجر : ٩) ٢۔ نماز ذکر ہے۔ ( العنکبوت : ٤٥) ٣۔ اللہ کے ذکر سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔ (الرعد : ٢٨) ٤۔ نصیحت ذکر ہے۔ ( طٰہٰ: ١٤٤) ٥۔ اللہ کے ذکر سے غافل لوگوں پر شیطان کا تسلط ہوتا ہے۔ (الزخرف : ٣٦) ٦۔ صبح اور شام کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کرو۔ (آل عمران : ٤١) ٧۔ اے ایمان والو! کثرت سے اللہ کو یاد کرو۔ (الاحزاب : ٤١) ٨۔ اللہ کو کثرت کے ساتھ یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ (الجمعۃ: ١٠ ) ٩۔ اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والوں کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔ (الاحزاب : ٣٥)