سورة طه - آیت 116

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے انکار کیا ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت آدم (علیہ السلام) کا اپنے عہد پر عزم بالجزم کے ساتھ قائم نہ رہنا شیطان کی وجہ سے تھا اور شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ شیطان کی دشمنی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرما کر تمام ملائکہ جن میں ابلیس بھی شامل تھا حکم دیا کہ آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ لیکن ابلیس نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو کھلے الفاظ میں بتلایا کہ اے آدم ! شیطان تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے۔ خیال رکھنا کہیں وہ تم دونوں کو اس جنت سے نکلوا کر تمھیں دنیا کی مشقت میں نہ ڈال دے۔ بلاشبہ اس جنت میں نہ تو بھوکا رہے گا اور نہ ہی ننگا ہوگا اور اس جنت میں نہ تمھیں پیاس لگی اور نہ ہی تم پر دھوپ آئے گی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بھی عیاں فرما دی کہ جنت میں تمھارے لیے ہر قسم کا آرام اور نعمتیں موجود ہیں۔ تمھیں صرف ایک درخت کے قریب جانے سے روکا گیا ہے اگر تم اس کے قریب جاؤ گے تو تمھیں جنت سے نکال باہر کیا جائے گا۔ جنت کے بعد تمھارا ٹھکانہ ایک مدت تک دنیا میں رہنا ہے۔ یہاں جنت کی نعمتوں کا ذکر فرما کر دنیا کی مشقت کے بارے میں بتلادیا گیا کہ دنیا میں بھوک، پیاس، دھوپ ہر قسم کی تلخی اور مشقت کا تمھیں سامنا کرنا پڑے گا۔ چنانچہ دنیا کی یہی حقیقت ہے کہ یہاں مومن کے لیے دکھ زیادہ اور سکھ تھوڑے ہیں۔ جنت میں صرف ایک پابندی تھی کہ درخت کے قریب نہیں جانا۔ دنیا میں مومن کے لیے بے شمار پابندیاں ہیں جن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں فرمایا تھا۔ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ خَطَّ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مُرَبَّعًا وَخَطَّ خَطًّا فِی الْوَسْطِ خَارِجًا مِّنْہُ وَخَطَّ خُطَطًا صِغَارًا إِلٰی ھٰذَا الَّذِیْ فِی الْوَسْطِ مِنْ جَانِبِہِ الَّذِیْ فِی الْوَسْطِ وَقََالَ ھٰذَا الْإِنْسَانُ وَھٰذَا أَجَلُہٗ مُحِیْطٌ بِہٖ أَوْ قَدْ أَحَاطَ بِہٖ وَھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ خَارِجٌ أَمَلُہٗ وَھٰذِہِ الْخُطَطُ الصِّغَارُ الْأَعْرَاضُ فَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا وَإِنْ أَخْطَأَہٗ ھٰذَا نَھَشَہٗ ھٰذَا) [ رواہ البخاری : کتاب الرقاق، باب فی الأمل وطولہ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مربع نمالکیر کھینچی اور اس کے درمیان باہر تک لکیر لگائی پھر اس درمیانی لکیر کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچیں اور فرمایا یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور جو اس خانے سے باہر لکیر ہے یہ اس کی خواہشات ہیں اور یہ چھوٹی لکیریں آفات ہیں اگر ایک سے بچتا ہے تو دوسری اسے دبوچ لیتی ہے۔ اس سے بچتا ہے تو کوئی اور اسے آ لیتی ہے۔“ مسائل ١۔ شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ ٢۔ شیطان آدم، حوّا اور ان کی اولاد کا ازلی دشمن ہے۔ ٣۔ جنت میں بھوک، پیاس، دھوپ، مشقت نہیں ہوگی اور نہ کوئی شخص بے لباس ہوگا۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بے خار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبے سائے، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعۃ : ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقۃ: ٢٣) ٥۔ جنت میں نیچی نگاہ رکھنے والی حوریں ہوں گی جنہیں کسی جن وانس نے چھوا تک نہیں ہوگا۔ ( الرحمن : ٥٦) ٦۔ جنت میں محبت کرنے والی ہم عمر حوریں ہوں گی۔ ( الواقعہ : ٣٧)