سورة طه - آیت 108

يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ لَا عِوَجَ لَهُ ۖ وَخَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اس دن سب لوگ بغیر اس کے کہ ادھر ادھر کو مڑیں پکارنے والے کے پیچھے ہوں گے ، اور رحمن کیلئے آوازیں پست ہونگی ، سو تو سوائے نرم کھس کھسی آواز کے اور کچھ نہ سنے گا ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ محشر کے دن لوگوں کی حالت۔ جونہی اسرافیل صور میں پھونک مارے گا تو جن و انس اس آواز کی طرف بھاگے جا رہے ہوں گے۔ اس آواز میں اس قدر کشش اور خوف ہوگا کہ کوئی شخص دائیں، بائیں جانے اور ادھر ادھر دیکھنے کی بجائے صرف اس آواز کی طرف ہی سرپٹ چلا جا رہا ہوگا۔ لوگوں پر محشر کا خوف اس قدر حاوی ہوگا کہ کوئی بھی رب رحمٰن کے سامنے اونچی بولنے کی سکت نہیں کر پائے گا۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہوں گے کہ ان کے چلنے اور بولنے کی آواز ایک سرسراہٹ کے سوا کچھ نہیں ہوگی۔ اس دن مشرک اور کافر کو کسی کی سفارش کچھ فائدہ نہیں دے گی اور نہ کوئی ان کے حق میں سفارش کرسکے گا۔ البتہ ایسے لوگوں کے لیے سفارش کرنے والے کی سفارش مفید ثابت ہوگی جن سے بتقاضائے بشریت چھوٹے بڑے گناہ ہوئے ہوں گے مگر ان کے لیے بھی وہی شخص سفارش کر پائے گا جس کو رب رحمٰن اجازت دے گا اور سفارشی وہی انداز اور الفاظ اختیار کرے گا۔ جیسے اللہ تعالیٰ سننا پسند فرمائیں گے۔ اس فرمان میں ایک طرف یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ اے لوگو! آج تم داعی حق کی بات سننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو۔ لیکن ایساوقت آنے والا ہے کہ جب تم ایک داعی کی آواز پر بے چوں و چراں اپنے رب کے حضور دوڑے چلے آؤ گے۔ لیکن مجرموں کو اس دن داعی کی دعوت قبول کرنے کا عذاب کے سوا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ یہاں مجرموں کے اس عقیدہ کی نفی بھی کردی گئی ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمارے معبود اور بزرگ ہمیں اللہ کی گرفت سے بچالیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی سفارش کو مسترد نہیں کر پائے گا۔ ان کی نفی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کوئی چھوٹا ہو یا بڑا، بزرگ ہو یا اللہ کا رسول۔ کوئی بھی رب رحمٰن کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ سفارش وہی کرسکے گا جسے رحمٰن اپنے کرم سے اجازت عطا فرمائے گا۔ اجازت ملنے کے باوجود سفارش کرنے والا اسی کے حق میں سفارش کرپائے گا جس کے لیے اللہ تعالیٰ اجازت مرحمت فرمائے گا۔ اس کے لیے یہ شرط بھی لازم ہوگی کہ وہ وہی الفاظ اور انداز اختیار کرے جو انداز اور الفاظ آداب خداوندی کے مطابق ہوں گے۔ کسی کو سفارش کرنے کی اجازت دینے کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ مجرم کے حالات سے بے خبر ہوگا۔ وہ تو لوگوں کے ماضی، حال اور مستقبل کو پوری طرح جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔ غلط سفارش کی نفی کرتے ہوئے قرآن مجید نے گفتگو کا ایسا پر جلال اور دو ٹوک انداز اختیار فرمایا ہے جس میں ابہام کا دور دور تک تصور نہیں پایا جاتا۔ اس نفی میں اس قدر انتباہ اور خوف کا انداز پایا جاتا ہے کہ جس کے دل میں کھوٹ اور اس کے سامنے کوئی مفاد نہیں وہ اس عقیدہ کے خلاف زبان کھولنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ آئیں قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے ان پر ایمانداری کے ساتھ غور کریں۔ (مَنْ ذَالَّذِیْ ےَشْفَعُ عِنْدَہُ إِلَّا بِإِذْنِہٖ) [ البقرۃ: ٢٥٥] کون ہے جو اسکی جناب میں اسکی اجازت کے بغیرسفارش کرے۔ (ےَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إلِاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الَّرحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلًا۔) [ طہ : ١٠٩] ” اس روز شفاعت فائدہ مندنہ ہوگی، اِلا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔“ (ےَوْمَ ےَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٰءِکَۃُ صَفًّا لَّا ےَتَکَلَّمُوْنَ إِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا۔ ذَالِکَ الْےَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ إِلٰی رَبِّہٖ مَاٰ با۔) [ النبا : ٣٨ تا ٣٩] ” جس دن جبریل اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے کوئی نہ بولے گا سوائے اس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور وہ ٹھیک بات کہے۔ وہ دن برحق ہے اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرے۔“ (ےَوْمَءِذٍ ےَتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَہُ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَات للرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا ھَمْسًا۔ ےَوْمَءِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ إِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلًا۔) [ طہ : ١٠٨، ١٠٩] ” اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ اس روز شفاعت فائدہ مندنہ ہوگی إلا یہ کہ کسی کو رحمٰن اسکی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔“ (اَ ےُشْرِکُوْنَ مَا لَا ےَخْلُقُ شَےْأً وَّ ھُمْ ےُخْلَقُوْنَ وَلَا ےَسْتَطِےْعُوْنَ لَھُمْ نَصْرًا وَّلَآ اَنْفُسَھُمْ ےَنْصُرُوْنَ وَإِنْ تَدْعُوْھُمْ إِلَی الْھُدٰی لَا ےَتَّبِعُوْکُمْ سَوَآءٌ عَلَےْکُمْ اََدَعَوْتُمُوْ ھُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ إِنَّ الَّذِےْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْےَسْتَجِےْبُوْا لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِےْنَ) [ الاعراف : ١٩١ تا ١٩٤] ” کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ ان کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں۔ جونہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہودونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی ہے۔ تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے مانگ کردیکھو یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔“ روز محشر نیک لوگوں کی سفارش گنہگاروں کے بارے میں سوفیصد برحق ہے۔ شفاعت کا انکار کرنا کسی صاحب علم کے لیے ممکن نہیں مگر کچھ علما یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے شعوری یا غیر شعوری طور پر ان اصولوں کو فراموش کردیتے ہیں حالانکہ سفارش کرنے والا بال برابر بھی ان سے انحراف نہیں کرسکے گا۔ مسائل ١۔ قیامت کے دن لوگ داعی کی آواز پر بے چوں و چراں اکٹھے ہوں گے۔ ٢۔ کوئی شخص رب رحمٰن کے سامنے اونچی آواز سے بولنے کی سکت نہیں پائے گا۔ ٣۔ قیامت کے دن کوئی بھی رب رحمٰن کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں کرسکے گا۔ ٤۔ سفارش کرنے والا رب رحمٰن کی اجازت کے مطابق ہی سفارش کرے گا۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے علم کا کوئی بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن سفارش کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ضابطے : ١۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہیں ہوسکے گی۔ (البقرۃ: ٢٥٥) ٢۔ سفارش بھی اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق ہوگی۔ (النبا : ٣٨) ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنی پسندکی بات ہی قبول فرمائیں گے۔ (طٰہٰ: ١٠٩)