سورة طه - آیت 49

قَالَ فَمَن رَّبُّكُمَا يَا مُوسَىٰ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

وہ بولا ، اے موسیٰ ! تم دونوں کا رب کون ہے ،

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : فرعون کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تکرار۔ فرعون نے حقیقت تسلیم کرنے کی بجائے موسیٰ (علیہ السلام) کو الجھانے اور حواریوں کے سامنے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے دو سوال کیے۔ پہلا سوال یہ تھا اے موسیٰ ! تمھارا رب کون ہے ؟ فرعون اس بات سے یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ میں لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہوں اس لیے کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ میرے سوا کسی کو رب مانے اور اس کا حکم تسلیم کرے۔ اسی سوچ کی وجہ سے فرعون نے اپنی عوام میں ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی“ کا نظریہ پیش کیا اور اسے تسلیم کروانے کے لیے لوگوں پر جبر کرتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے موقعہ کی نزاکت اور اس کے سوال کی حقیقت جانتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی دو ایسی صفات کا ذکر فرمایا جس کا انکار کرنا اس کے بس کی بات نہ تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کے حقیقی وجود اور اس کی صحیح شکل و صورت کے ساتھ پیدا فرما کر اس کی راہنمائی کا بندوبست فرمایا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ بطخ کا بچہ انڈے سے نکل کر پانی کی طرف جاتا ہے۔ مرغی کا بچہ انڈے سے نکلتے ہی مرغی کے قدموں کی طرف لپکتا ہے۔ انسان پیدا ہوتے ہی ماں کی چھاتی کے ساتھ چمٹتا ہے۔ اس طرح ہر نومولود کو نہ صرف اپنے جنم دینے والی کا علم ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی مامتا کی بولی سمجھنے کے ساتھ خود بخود اس ماحول کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔ جس میں رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ یہاں ہدایت سے پہلی مراد فطری رہنمائی ہے جس بنا پر گونگا بہر ابچہ بھی چہرے کے اتار اور چڑھاؤ اور آنکھوں کے اشارے سے مامتا کو اپنی ضرورتوں سے آگاہ کرلیتا ہے۔ فرعون کا دوسرا سوال یہ تھا کہ جو لوگ توحید و رسالت اور آخرت کی جزا، سزا کے قائل نہ تھے اور اس دنیا سے چل بسے ان کا انجام کیا ہوگا ؟ فرعون کا خیال تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کا جواب یہ دے گا کہ وہ سب کے سب جہنم میں جائیں گے۔ جس سے فائدہ اٹھا کر میں لوگوں کو اس کے خلاف بھڑکا ؤنگا کہ یہ شخص کس قدر گستاخ اور ظالم ہے کہ ہمارے فوت شدہ بزرگوں کو گمراہ اور جہنمی قرار دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس سوال کا پس منظر سمجھ چکے تھے۔ لہٰذا پیغمبرانہ بصیرت سے کام لیتے ہوئے فرمایا ان کا حال رب جانتا ہے جو نہ بھولتا ہے اور نہ اس کے احاطۂ علم سے کوئی چیز غائب ہوتی ہے یہاں تک کہ اس نے ہر چیز کے بارے میں سب کچھ لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ (سَوَآءٌ مِّنْکُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَ مَنْ جَھَرَ بِہٖ وَ مَنْ ھُوَ مُسْتَخْفٍ بالَّیْلِ وَ سَارِبٌ بالنَّھَارِ لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَ مِنْ خَلْفِہٖ یَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ وَ اِذَآ اَرَاد اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْٓءً افَلَا مَرَدَّلَہٗ وَمَا لَھُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ مِنْ وَّال) [ الرعد : ١٠۔ ١١] ” کوئی تم سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے اس کے نزدیک برابر ہے۔ اس کے آگے اور پیچھے اللہ کے چوکیدار ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں اللہ اس نعمت کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کے ساتھ برائی کا ارادہ کرتا ہے تو پھر وہ پھر نہیں سکتی۔“ مسائل ١۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ وہ نہ بھولتا ہے نہ ہی اس سے بے خبر ہوتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے بارے میں لوح محفوظ میں سب کچھ لکھ رکھا ہے۔ ٣۔ مبلغ کو سوال کا جواب خداداد بصیرت کے ساتھ دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم میں ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ وسیع علم والا ہے۔ (البقرۃ: ١١٥) ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جانتا ہے۔ (البقرۃ: ٢٩) ٣۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ (الاعراف : ٨٩) ٤۔ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے۔ (الطلاق : ١٢) ٥۔ بے شک اللہ لوگوں کے اعمال کا احاطہ کرنے والا ہے۔ (آل عمران : ١٢٠) ٦۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو گھیرنے والا ہے۔ (حٰم السجدۃ: ٥٤) ٧۔ اللہ ہر چیزکا احاطہ کرنے والا ہے۔ (النساء : ١٢٦)