سورة طه - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

سورۃ طٰہٰ کا تعارف ربط سورۃ: سورۃ مریم کا اختتام ان الفاظ میں ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان پر قرآن مجید کو آسان کردیا گیا ہے جس کا مرکزی پیغام ” اللہ“ کی توحید ہے، سورۃ طٰہٰ کا آغاز اس بات سے کیا ہے کہ آپ قرآن کو مشکل نہ سمجھیں اور اپنے رب کی توحید بیان کرتے جائیں۔ یہ سورۃ اپنے نام یعنی طٰہٰ کے لفظ سے شروع ہوتی ہے، 8 رکوع اور 135 آیات پر مشتمل ہے۔ یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سورۃ طٰہٰ مکہ میں اس وقت نازل ہوئی جب عمر بن خطاب مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ ایک دن عمر بن خطاب یہ عزم لے کر گھر سے نکلے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام تمام کردیا جائے۔ راستہ میں ان کی برادری کا ایک آدمی ملا اور اس نے عمر کے تیور دیکھ کر پوچھا کہ کدھر کا ارادہ ہے؟ عمر بن خطاب کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ بزرگ نے فرمایا انہیں قتل کرنے کے لیے چڑھ دوڑے ہوپہلے اپنے گھر کو تو سنبھالو۔ تیرا بہنوئی سعید اور تیری بہن فاطمہ مسلمان ہوچکے ہیں یہ سنتے ہی عمر اپنے بہنوئی کے گھر پہنچے دروازے پر سنا کہ ان کی بہن سورۃ طٰہٰ کی تلاوت کر رہی ہے۔ اندر گئے بہنوئی اور بہن کو مارا وہ بہن جس نے بھائی کے سامنے کبھی آنکھ نہیں اٹھائی تھی زخمی ہونے کے باوجود کہنے لگی جس قدر چاہو مار لو ہم دین نہیں چھوڑ سکتے۔ بہن کی ایمانی جُرأت پر حیران ہو کر کہتے ہیں کہ جو پڑھ رہی تھی مجھے بھی سناؤ۔ بہن نے سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات پڑھ کر سنائیں۔ زخمی بہن کی دکھ بھری آواز اور قرآن کی جلالت کی تاب نہ لا کر بالآخر حضرت عمر (رض) مسلمان ہوئے۔ تفصیل کے لیے سیرت عمر (رض) کا مطالعہ فرمائیں۔ اس سورۃ مبارکہ کی ابتداء ان الفاظ سے ہوئی ہے کہ اے پیغمبر ! ہم نے یہ قرآن آپ کی مشکلات کو بڑھانے کے لیے نازل نہیں کیا۔ اس کے نزول کا مقصد تو یہ ہے کہ آپ اس شخص کو نصیحت فرمائیں جو اپنے رب سے ڈرنے والا ہے۔ قرآن کو اس ذات کبیریا نے نازل کیا ہے جس نے زمین کو پیدا فرمایا ور آسمان کو بلند وبالا کیا وہ ذات بڑی الرّحمان ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان جو چیز ہے وہ اسی کی ملکیت ہے۔ انسان اپنی بات کو خفیہ رکھے یا اس کا الفاظ میں اظہار کرے، وہ ذات سب کچھ جانتی ہے۔ اس کا نام اللہ ہے۔ اس کے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں اور اس کے بہترین نام ہیں وہ آپ کو موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ہونے والے طویل اور شدید کشمکش سے آگاہ کرتا ہے جس کا آپ کو پہلے سے کچھ علم نہیں۔ اس کے ساتھ ہی موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ قدرے تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا جس میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رہنما اصول اور آپ کی امت کے لیے بہترین نصائح بیان کرنے کے ساتھ بتلایا گیا ہے کہ بے شک باطل جس قدر چاہے طاقتور ہو بالآخر وہ ناکام رہتا ہے۔ بشرطیکہ حق والے حق پر قائم رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔ اس سورۃ کے آخر میں حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں شیطان کی سازش اور شرارت کا ذکر فرما کر اولاد آدم کو نصیحت کی گئی ہے کہ جو شخص اپنے رب کی نصیحت سے اعراض کرے گا اور شیطان کے پیچھے لگے گا اس کی دنیا تنگ کردی جائے گی اور آخرت میں اس حالت میں پیش ہوگا کہ اپنے رب کے حضور کوئی حجّت پیش نہیں کرسکے گا۔ ایسے لوگوں کو دنیا میں عذاب سے دوچار کیا جائے تو کہتے ہیں کہ کاش ہمارے پاس رسول آتا۔ ہم اس کی پیروی کر کے ذلّت سے بچ جاتے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو ان میں موجود ہیں لیکن پھر بھی یہ ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انہیں فرما دیں کہ تم اپنی جگہ اپنے انجام کا انتظار کرو میں اپنے مقام پر اپنے کام کے انجام کا منتظر ہوں۔ اس میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو تسلّی دی گئی ہے کہ تمہارا دشمن فرعون سے زیادہ باوسائل اور طاقتور نہیں اور تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں سے بڑھ کر کمزور اور مظلوم نہیں ہو۔ لہٰذا پورے حوصلے سے اپنا کام جاری رکھو۔ فتح تمہاری ہوگی کیونکہ انجام کار متقی حضرات کے لیے ہے۔