سورة مريم - آیت 76

وَيَزِيدُ اللَّهُ الَّذِينَ اهْتَدَوْا هُدًى ۗ وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَخَيْرٌ مَّرَدًّا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جو ہدایت پر ہیں خدا ان کی ہدایت اور بڑھاتا ہے ، اور باقی رہنے والی نیکیاں تیرے رب کے پاس ثواب اور انجام کے لحاظ سے زیادہ (ف ١) ۔ بہتر ہیں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منکرین حق کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ مؤمنوں کو ہدایت میں زیادہ کرتا ہے۔ منکرین حق کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت میں زیادہ کرتا ہے اچھے اعمال کرنے کی مزید توفیق عطا فرماتا ہے اچھے اعمال ہی ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ ایسے لوگ ہی آپ کے رب کے نزدیک اجر و ثواب اور نتیجہ کے اعتبار سے بہتر ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ منکرین حق کے مقابلہ میں نہ صرف ہدایت میں اپنے بندوں کو مضبوط اور زیادہ کرتا ہے۔ بلکہ انھیں صالح اعمال کی توفیق بخشتا ہے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْآخِرَۃِ نَزِدْ لَہٗ فِیْ حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہٗ فِی الْآخِرَۃِ مِنْ نَّصِیبٍ) [ الشوریٰ: ٢٠] ” جو شخص آخرت کا خواہاں ہے ہم اس کی آخرت کی کھیتی میں اضافہ کردیں گے اور جو دنیا کا طلب گار ہے ہم اسے دنیا عطا کریں گے اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔“ (عَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہٗٓ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ الاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ یُّنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ یَّدْعُوْ لَہٗ) [ رواہ مسلم : باب مَا یَلْحَقُ الإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِہٖ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ذکر کرتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آدمی کے فوت ہونے سے اس کے عمل کا تسلسل ختم ہوجاتا ہے۔ مگر تین اعمال کے علاوہ (١) صدقہ جاریہ۔ (٢) ایساعلم جس سے لوگ مستفید ہوتے رہیں۔ (٣) نیک اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے۔“ مسائل ١۔ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نیکو کاروں کو نیکی کا بہترین صلہ عطا فرمائیگا۔