سورة مريم - آیت 56

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِدْرِيسَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور کتاب میں ادریس (علیہ السلام) کا ذکر کر ، بےشک وہ سچا نبی تھا (ف ٣) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد حضرت ادریس (علیہ السلام) کی سیرت کا بیان۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بارے میں کافی حد تک اہل علم کا خیال ہے کہ آپ نوح (علیہ السلام) سے پہلے مبعوث کیے گئے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نسل اور مدت کے اعتبار سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے قریب تر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی سچے نبی ہونے کے لقب سے نوازا ہے اور ان کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے اس کو بلند مقام پر اٹھا لیا۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے دو اوصاف بالخصوص ذکر کیے گئے ہیں۔ مسائل ١۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) نہایت ہی سچے اللہ کے پیغمبر تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں بلند ترین مقام عنایت کیا تھا۔ تفسیر بالقرآن حضرت ادریس (علیہ السلام) کے اوصاف حمیدہ : حضرت ادریس کا قرآن مجید میں ٢ بار تذکرہ ہوا ہے۔ ١۔ ادریس (علیہ السلام) نہایت سچے نبی تھے۔ (مریم : ٥٦) ٢۔ اسماعیل، ادریس، ذالکفل تمام صبر کرنے والوں میں سے تھے۔ (الانبیاء : ٨٥) حضرت ادریس (علیہ السلام) قرآن عزیز میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کا ذکر صرف سورۃ مریم اور سورۃ الانبیاء میں آیا ہے۔ نام ونسب اور زمانہ : حضرت ادریس (علیہ السلام) کے نام ونسب اور زمانہ کے متعلق مورخین کو شدید اختلاف ہے۔ تمام اختلافی دلائل کو سامنے رکھنے کے بعد بھی کوئی فیصلہ کن یا کم از کم راجح رائے قائم نہیں کی جاسکتی ہے۔ قرآن عزیز نے رشد وہدایت کے پیش نظر صرف ان کی نبوت رفعت مرتبت کا ذکر کیا ہے اور اسی طرح حدیث کی روایات بھی اس سے آگے نہیں جاتیں ایک جماعت کہتی ہے کہ وہ نوح کے جد امجد ہیں اور ان کا نام اخنوخ ہے۔ اور ادریس لقب ہے یاعربی زبان میں ادریس اور عبرانی یاسریانی میں ان کا نام اخنوخ ہے اور ان کانسب نامہ یہ ہے۔ خنوخ یا اخنوخ بن یارد بن مہلائیل بن قینان بن انوش بن شیث بن آدم (علیہ السلام)۔ ابن اسحاق کا رجحان اسی جانب ہے اور دوسری جماعت کا خیال ہے کہ وہ انبیاء بنی اسرائیل میں سے ہیں اور الیاس وادریس ایک ہی شخصیت کے نام اور لقب ہیں ان دونوں روایات کے پیش نظر بعض علماء نے یہ تطبیق دینے کی کوشش کی ہے کہ جد نوح (علیہ السلام) کا نام اخنوخ ہے اور ادریس لقب اور بنی اسرائیل کے پیغمبر کا نام ادریس ہے اور الیاس لقب مگر یہ رائے بھی بے سند اور بےدلیل ہے۔ صحیح ابن حبان میں روایت ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) پہلے شخص ہیں جنہوں نے قلم کو استعمال کیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی اکر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی نے رمل کے خطوط کے متعلق سوال کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” یہ علم ایک نبی کو دیا گیا تھا۔ اگر کسی شخص کے نقوش اس کے مطابق ہوجاتے ہیں تو اندازہ صحیح نکلتا ہے ورنہ نہیں۔“ [ رواہ مسلم : باب تحریم الکہانۃ واتیان الکہان] معراج کے واقعہ میں صرف اس قدر ذکر ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ادریس (علیہ السلام) سے چوتھے آسمان پر ملاقات کی۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کی تعلیم کا خلاصہ : اللہ کی ہستی اور اس کی توحید پر ایمان لانا، صرف خالقِ کائنات کی پرستش کرنا، آخرت کے عذاب سے رستگاری کے لیے اعمال صالحہ کو ڈھال بنانا، دنیا سے بے التفاتی اور تمام امور میں عدل وانصاف کو پیش نظر رکھنا اور مقررہ طریقہ پر عبادت الٰہی ادا کرنا، اور ایام بیض کے روزے رکھنا، دشمنان اسلام سے جہاد کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، طہارت ونظافت سے رہنا، خصوصیت کے ساتھ جنات، کتے اور سور سے اجتناب کرنا ہر نشہ آورشے سے پرہیز کرنا ان کی تعلیم کا لب لباب ہے۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کا حلیہ مبارک : حضرت ادریس (علیہ السلام) کا حلیہ یہ ہے کہ گندم گوں رنگ، پورا قدوقامت، خوبصورت وخوبرو، گھنی ڈاڑھی، سرمگیں چمکدار آنکھیں، گفتگو باقار، خاموشی پسند سنجیدہ اور متین چلتے ہوئے نیچی نظر انتہائی فکر وخوض کے عادی حضرت ادریس (علیہ السلام) نے بیاسی سال کی عمر پائی۔ ان کی انگوٹھی پر یہ عبارت کندہ تھی۔ اَلصَّبْرُ مَعَ الْاِیْمَان باللّہِ یُوْرِثُ الظَّفَرَ ” اللہ پر ایمان کے ساتھ صبر فتح مندی کا باعث ہے۔“ اور کمر سے باندھنے والے پٹکہ پر یہ تحریر تھا۔ الَاَْعْیَادُ فِیْ حِِفْظِ الْفُرُوْضِ وَالشَّرِیْعَۃِ مِنْ تَمَام الدِّیْنِ وَتَمام الدِّیْنِ کَمَالُ الْمُرُوَّۃِ ” حقیقی عیدیں اللہ تعالیٰ کے فرائض کی حفاظت میں مضمرہیں اور دین کا کمال شریعت سے وابستہ ہے اور مروت میں دین کی تکمیل ہے۔“ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے بہت سے پند ونصائح اور آداب واخلاق کے جملے مشہور ہیں جو مختلف زبانوں میں ضرب المثل ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں : اللہ کی بیکراں نعمتوں کا شکر یہ انسانی طاقت سے باہر ہے۔ جو علم میں کمال اور عمل صالح کا خواہش مند ہو اس کو جہالت کے اسباب اور بد کرداری کے قریب بھی نہیں جانا چاہیے۔ دنیا کی بھلائی ” حسرت“ ہے اور برائی ” ندامت“۔ اللہ کی یاد اور عمل صالح کے لیے خلوص نیت شرط ہے۔ نہ جھوٹی قسمیں کھاؤ، نہ اللہ تعالیٰ کے نام کو قسموں کے لیے تختہ مشق بناؤ اور نہ جھوٹوں کو قسمیں کھانے پر آمادہ کرو کیونکہ ایسا کرنے سے تم بھی شریک گناہ ہوجاؤ گے۔ اطاعت کرو اور اپنے بڑوں کے سامنے پست رہو اور ہر وقت ذکر الٰہی میں زبان تر رکھو۔ دوسروں کی خوشی پر حسد نہ کرو اس لیے کہ یہ مسرور زندگی چند روزہ ہے۔ جو ضروریات زندگی سے زیادہ طالب ہو اور وہ کبھی قانع نہیں ہوتا۔