سورة مريم - آیت 22

فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

پھر مریم علیہا السلام نے اس لڑکے کو پیٹ میں لیا پھر اسی لیکر کسی دور کے مکان میں کنارے ہوئی ہوں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : فرشتے نے حضرت مریم [ کے جسم پر پھونک ماری جس سے وہ حاملہ ہوگئیں۔ اٹھائیسویں پارہ سورۃ التحریم کی آخری آیت میں جبرائیل امین (علیہ السلام) کی پھونک کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے عمران کی بیٹی مریم [ جس نے اپنی شرم و حیاء کی حفاظت فرمائی۔ ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ جبرئیل امین کی پھونک کے ساتھ وہ حاملہ ہوگئیں تو اس حالت میں مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں جا ٹھہریں۔ جب اسے زچگی کی تکلیف محسوس ہوئی تو وہ ایک کھجور کے تنے کے قریب آئیں۔ تکلیف اور ولادت کی وجہ سے بے ساختہ کہنے لگی ہائے کاش! میں اس سے پہلے مرچکی ہوتی اور لوگوں کے ذہن میں بھولی بسری ہوچکی ہوتی۔ اس مشکل وقت میں کھجور کے نیچے سے فرشتے نے آواز دی اے مریم [! تجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے رب نے تیرے پاؤں کے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے اور کھجور کے تنے کو ہلاؤ تیرے سامنے ترو تازہ کھجوریں آگریں گی۔ کھجوریں کھاؤ، پانی پیو اور بیٹے سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر اپنی طرف کسی آدمی کو آتے ہوئے دیکھو تو اسے کہو کہ میں نے رب رحمن کے لیے روزے کی منت مانی ہے اس لیے میں آج کسی مرد و زن سے بات نہیں کروں گی۔ قرآن مجید کے الفاظ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ حضرت مریم [ زچگی کے وقت مسجد اقصیٰ سے دور ایک مکان میں چلی گئی تھیں۔ جس کے متعلق مفسرین نے مختلف باتیں لکھیں ہیں جن میں اقرب ترین بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہی وہ مقام ہے جسے تاریخ میں بیت لحم کہا جاتا ہے۔ معراج کے واقعے میں سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اس مقام سے گزرے تو جبرئیل امین (علیہ السلام) نے آپ کو توجہ دلائی یہ وہ بیت اللحم ہے جہاں عیسیٰ ( علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے براق سے اتر کر یہاں دو نفل ادا کیے۔ اسی مقام پر حضرت مریم [ کو یہ ہدایات دی جا رہی ہیں کہ آپ تازہ کھجوریں کھائیں، ٹھنڈا پانی پئیں اور بیٹے سے پیار کرکے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔ اگر کوئی آپ سے بات کرنا چاہے تو کہیں کہ میں نے نہ بولنے کی منت مانی ہوئی ہے۔ بنی اسرائیل کی شریعت میں چپ کا روزہ رکھنا جائز تھا مگر ہماری شریعت میں چپ کا روزہ رکھنا اور ایسی نذر ماننا جائز نہیں، یہاں تک کہ مصیبت کے وقت موت مانگنا یا خود کشی کرنا بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ حضرت مریم [ نے ارادتاً نہیں بلکہ لوگوں کی طعنہ وتشنیع کے خوف سے انتہائی کرب کے عالم میں یہ الفاظ کہے تھے۔ مصیبت کے وقت ایسے الفاظ بڑے بڑے نیک لوگوں کی زبان سے بے ساختہ نکل جایا کرتے ہیں۔ ان الفاظ کا معنٰی موت مانگنا نہیں ہوتا بلکہ انتہا درجہ کے غم کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ نذر کے مسائل : (عَنْ عَاءِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَنْ نَذَرَ أَنْ یُطِیع اللَّہَ فَلْیُطِعْہُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ باب النَّذْرِ فِی الطَّاعَۃِ یَعْصِیَہُ فَلاَ یَعْصِہِ)[ رواہ البخاری : باب النَّذْرِ فِی الطَّاعَۃِ] ” سیدہ عائشہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتی ہیں جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانتا ہے اس چاہیے کہ وہ نذر پوری کرے اور جس نذر میں اللہ کی نافرمانی ہو اسے پورا نہیں کرنا چاہیے۔“ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ بَیْنَا النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَخْطُبُ إِذَا ہُوَ بِرَجُلٍ قَاءِمٍ فَسَأَلَ عَنْہُ فَقَالُوا أَبُو إِسْرَاءِیلَ نَذَرَ أَنْ یَقُومَ وَلاَ یَقْعُدَ وَلاَ یَسْتَظِلَّ وَلاَ یَتَکَلَّمَ وَیَصُومَ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مُرْہُ فَلْیَتَکَلَّمْ وَلْیَسْتَظِلَّ وَلْیَقْعُدْ وَلْیُتِمَّ صَوْمَہُ) [ رواہ البخاری : باب النَّذْرِ فیمَا لاَ یَمْلِکُ وَفِی مَعْصِیَۃٍ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہوا ہے آپ نے اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھالوگوں نے عرض کیکہ یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں نہ سایہ میں جائے گا، نہ کلام کرے گا اور ہمیشہ روزے کی حالت میں رہے گا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسے کہو کلام کرے سایہ میں جائے، بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ ہُرَیْرَۃَنَذَرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَعْتَکِفَ فِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ أُرَاہُ قَالَ لَیْلَۃً قَالَ لَہُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَوْفِ بِنَذْرِکَ) [ رواہ البخاری : باب إِذَا نَذَرَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ أَنْ یَعْتَکِفَ ثُمَّ أَسْلَمَ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے دور جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں اعتکاف کریں گے راوی کہتا ہے میرا خیال ہے انہوں نے ایک رات کی نذر مانی تھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی نذر پوری کرو۔“ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ہُرَیْرَۃَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لاَ یَتَمَنَّیَنَّ أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍّ أَصَابَہُ، فَإِنْ کَانَ لاَ بُدَّ فَاعِلاً فَلْیَقُلِ اللَّہُمَّ أَحْیِنِی مَا کَانَتِ الْحَیَاۃُ خَیْرًا لِی، وَتَوَفَّنِی إِذَا کَانَتِ الْوَفَاۃُ خَیْرًا لِی) [ رواہ البخاری : باب تَمَنِّی الْمَرِیضِ الْمَوْتَ] ” حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تکلیف کی وجہ سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے اگر وہ ایسا کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ یہ دعا کریں۔ اے اللہ! جب تک میرا زندہ رہنا بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب میرا فوت ہونا بہتر ہو تو مجھے فوت فرما لے۔“ کون سی نذر نہیں ماننا چاہیے : (حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ ہُرَیْرَۃَ قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَی النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّیْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر] ” مجھے ثابت بن ضحاک (رض) نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنالازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔“ (عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ہُرَیْرَۃَ وَ ابْنِ عُمَرَ (رض) قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا تَنْذُرُوْا فَإِنَّ النَّذْرَ لَا یُغْنِیْ مِنَ الْقَدْرِ شَیْءًا وَإِنَّمَا یُسْتَخْرَجُ بِہٖ مِنَ الْبَخِیْلِ) [ رواہ مسلم : باب النَّہْیِ عَنِ النَّذْرِ وَأَنَّہُ لاَ یَرُدُّ شَیْءًا] ” حضرت ابوہریرہ (رض) اور عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نذر نہ مانا کرو‘ اس لیے کہ نذر تقدیر کو نہیں ٹال سکتی اس طرح صرف بخیل سے کچھ نہ کچھ مال نکلوایا جاتا ہے۔“ مسائل ١۔ حضرت مریم [ زچگی کے عالم میں مسجد اقصیٰ سے دور چلی گئیں تھیں۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے زچگی کے وقت حضرت مریم [ کو چشمہ کا پانی اور تازہ کھجوریں عنایت فرمائی تھیں۔ ٣۔ نذر شریعت کے مطابق ماننا اور اسے پورا کرنا چاہیے۔ ٤۔ ہارون سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون نہیں۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کی نظر میں نذر : ١۔ میں نے رحمٰن کے لیے نذر مانی ہے میں کسی سے کلام نہیں کروں گی۔ (مریم : ٢٦ ) ٢۔ جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتے ہو یا تم نذر مانتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔ (البقرۃ: ٢٧٠) ٣۔ عمران (علیہ السلام) کی بیوی نے کہا جو کچھ میرے بطن میں ہے میں اس کی نذر مانتی ہوں۔ (آل عمران : ٢٥)