سورة الكهف - آیت 32

وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تو انہیں دو آدمیوں کی مثال سنا ، ان میں سے ایک کو ہم نے دو انگور کے باغ دیئے ، اور ان دونوں کے گرد کھجور کے درخت تھے اور ان دونوں کے بیچ میں ہم نے کھیتی رکھی ،

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کے ذکر سے پہلے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے حوالے سے مومنوں کو سمجھایا گیا کہ وہ دنیا پرست لوگوں کے پیچھے لگنے سے بچیں۔ اب نیک اور دنیا دار کی مثال پیش فرما کر دونوں کے کردار اور انجام کافرق بیان کیا جاتا ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! لوگوں کے سامنے دو آدمیوں کا واقعہ بیان کریں۔ جن میں ایک کو ہم نے انگوروں کے دو باغ عنایت فرمائے اور ان کی حفاظت کھجور کے درختوں کے ساتھ کی اور ان کے درمیان فصل پیدا کی باغوں کو سیراب کرنے کے لیے ان کے درمیان نہریں جاری کیں۔ یہ باغ بھر پور طریقے سے پھل دیتے تھے ان کی پیداوار میں کسی قسم کی کمی واقع نہ ہوتی۔ اس مثال میں بیک وقت دوباتیں سمجھائی جا رہی ہیں۔ ایک دنیوی اعتبار سے اور دوسری آخرت کے حوالے سے۔ دنیا کے اعتبار سے باغبانی کی طرف اشارہ ہے کہ زمیندار کس طرح زمین سے بیک وقت زیادہ فصلیں اگا سکتا ہے۔ آخرت کے حوالے سے یہ سمجھایا جارہا ہے کہ آدمی کو اترانے کی بجائے عاجزی اختیار کرنی چاہیے۔ اس کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے جس طرح لہلہاتا باغ خاکستر ہو سکتا ہے اسی طرح وقت آئے گا جب دنیاکی چہل پہل بھی ختم ہوجائے گی۔ باغ کے مالک کی طرح دنیا پرست کو بھی پچھتانا پڑے گا۔ چنانچہ جس شخص کے پاس یہ باغ تھے وہ اپنے ساتھی سے اس بات پر اترا رہا تھا کہ میں تجھ سے مال اور افرادی قوت کے اعتبار سے بڑا ہوں۔ ہوا یہ کہ ایک دن وہ متکبرانہ انداز میں اپنے باغ میں داخل ہو کر کہنے لگا۔ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ باغ کبھی اجڑ جائیں گے اور نہ ہی میں یہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت بر پا ہوگی۔ بالفرض اگر قیامت قائم ہوئی اور میں اپنے رب کے حضور پیش کیا گیا۔ تو مجھے یقین ہے کہ میں اس سے اچھا مقام اور بہترین انعام پاؤں گا۔ یہاں مال دار متکبر کی مالدارانہ ذہن کی عکاسی کی جارہی ہے کہ جب انسان دولت میں مست ہوجائے۔ تو وہ اس قدر متکبر اور اللہ کے خوف سے غافل ہوجاتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ دنیاکی عیش وعشرت اور مال ودولت ہمیشہ رہنے والے ہیں اور آخرت کا فیصلہ بھی دنیا کو پیش نظر رکھ کر کیا جائے گا کہ دنیا میں جو مال دارہے یا منصب دار ہے۔ آخرت میں بھی اسے سب کچھ دیا جائے گا۔ اس سوچ کی وجہ سے وہ صالح کردار کی بجائے دنیا کے مال اور اقتدار کو عزت کا معیا رسمجھتا ہے۔ اس وجہ سے اپنے سے کم ترلوگوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ جو دنیا کا مال و اسباب ہمیں ملاہے۔ یہ ہماری ذاتی محنت کا نتیجہ اور اللہ تعالیٰ کے ہم پر راضی ہونے کی دلیل ہے۔ اس خوش فہمی کی وجہ سے فخروغرور میں آکر کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں دوسروں سے بہتر ہیں اگر ہم اپنے رب کے حضور لوٹائے گئے تو آخرت میں بھی نیک لوگوں سے بہتر ہوں گے۔ دنیا کے اقتدار اور اسباب کی مستی میں وہ بھول جاتے ہیں جو مال انہیں دیا گیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش اور اس کی ناراضگی کاسبب ہے۔ وہ اس لیے ایسے لوگوں کو دنیا کے مال واسباب زیادہ دیتا ہے تاکہ انہیں گناہ کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ یہی قریش کا حال تھا وہ مال اور افرادی قوت کی بنیاد پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھیوں کو حقیرسمجھتے اور ان پر ظلم کرتے تھے۔ بالآخر باغ والے شخص کی طرح برباد ہوئے ہیں۔ قرآن مجیدنے اس بات کو یوں بیان فرماتا ہے کہ کفار یہ خیال نہ کریں کہ ہم انھیں جو مہلت دے رہے ہیں یہ ان کے حق میں اچھی ہے۔ ہرگز نہیں ہم ان کو اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ وہ اور زیادہ گناہ کرلیں بالآخران کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا۔ (آل عمران : ١٧٨) دنیا پر اترانے والے قارون کا انجام : (فَخَسَفْنَا بِہِ وَبِدَارِہِ الْأَرْضَ فَمَا کَانَ لَہُ مِنْ فِءَۃٍ یَنْصُرُوْنَہُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَمَا کَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِیْنَ)[ القصص : ٨١] ” ہم نے اسے اس کے گھر سمیت زمین میں دھنسا دیا۔ اللہ کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی اور نہ وہ بدلہ لے سکا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو سمجھانے کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے۔ ٢۔ مال ودولت پر فخرو غرور نہیں کرنا چاہیے۔ ٣۔ دنیا کا مال ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن غرور وتکبر نہیں کرنا چاہیے : ١۔ دنیا دار نے اپنے نیک ساتھی سے کہا کہمیں تم سے مال ودولت کے لحاظ سے بہتر ہوں۔ (الکھف : ٣٤) ٢۔ اللہ فخر وغرور کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا۔ (النساء : ٣٦) ٣۔ اللہ نے جو تمہیں دیا ہے اس پر نہ اتراؤ اللہ فخر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (الحدید : ٢٣) ٤۔ زمین میں اکڑ اکڑ کر نہ چل تو زمین کو پھاڑ نہیں سکتا۔ (بنی اسرائیل : ٣٧) ٥۔ زمین میں اکڑاکڑکر نہ چل اللہ اترانے والے کو پسند نہیں کرتا۔ (لقمان : ١٨) ٦۔ آخرت کا گھر ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جودنیا میں تکبر وفساد نہیں کرتے۔ (القصص : ٨٣)