سورة الكهف - آیت 2

قَيِّمًا لِّيُنذِرَ بَأْسًا شَدِيدًا مِّن لَّدُنْهُ وَيُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِينَ الَّذِينَ يَعْمَلُونَ الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ أَجْرًا حَسَنًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

ٹھیک اتاری ہے تاکہ وہ اس کی طرف سے ایک سخت آفت سے ڈرائے اور نیک اعمال مومنین کو بشارت سنائے کہ ان کے لئے اچھا اجر ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

تضاد اور تعارض نہیں پایا جاتا۔ ناصرف اس میں الجھاؤ اور تعارض نہیں پایا جاتا بلکہ اس کی یہ بھی صفت ہے کہ اس کے ارشادات سادہ اور ٹھوس ہیں جن پر عمل پیرا ہونا آسان ہے اور اس کے بدلے دنیا اور آخرت کی کا میابی نصیب ہوتی ہے۔ مسائل ١۔ حقیقی تعریفات کے لائق صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ٢۔ قرآن مجید میں کسی قسم کی کجی نہیں ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی۔ ٤۔ قرآن مجید اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کاموثرذریعہ ہے۔ ٥۔ قرآن مجید مومنوں کے لیے باعث رحمت اور بشارت ہے۔ ٦۔ اعمال صالحہ کرنے والے مومنین کے لیے بہترین اجر اور خوشیوں کا پیغام ہے۔ تفسیر بالقرآن عمل صالح کا صلہ : ١۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے لیے خوشخبری اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ (الکھف : ٢) ٢۔ جو بھی مومن صالح عمل کرے گا اس کی محنت کو رائیگاں نہیں کیا جائے گا۔ (الانبیاء : ٩٤) ٣۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے بخشش اور رزق کریم ہے۔ (الحج : ٥) ٤۔ عمل صالح کرنے والے مومنوں کے گناہوں کو اللہ ختم کردیں گے۔ (العنکبوت : ٧) ٥۔ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لیے نعمتوں والی جنت ہے۔ (لقمان : ٨) ٦۔ ایمان دار اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس میں مہمانی کا اہتمام ہوگا۔ (الکھف : ١٠٧)