سورة الإسراء - آیت 110

قُلِ ادْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَٰنَ ۖ أَيًّا مَّا تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تو کہہ اللہ کو پکارو ، یا رحمن کو پکارو ، جس نام سے پکارو ، سو اس کے اچھے نام کئی ایک ہیں اور تو اپنی نماز میں نہ پکار ، اور نہ چپکے پڑھ ، اور اس کے درمیان کی راہ تلاش کر (ف ٣) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کے لیے تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن مجید نازل کیا تاکہ اس پر ایمان لانے والوں کو اس پر عمل کرنا آسان ہو۔ لیکن منکرین قرآن نے اس سہولت کو عیب بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کیا اس کے ساتھ انھوں نے ” الرحمن“ کے نام کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جس کا جواب دیا گیا ہے۔ مکہ کے لوگ اپنی دعاؤں میں ” اللہ“ کا نام استعمال کرتے تھے۔ مدینہ کے یہودی ” اللہ“ کی بجائے ” الرحمن“ کے نام سے رب تعالیٰ کا ذکر کرتے اور اپنی دعاؤں میں الرحمن کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ رسول کریم نے اسمِ ” اللہ“ کے ساتھ جب ” الرحمن“ کا لفظ استعمال کرنا شروع کیا تو مکہ کے مشرکوں کو آپ کے خلاف پروپیگنڈا کا بہانہ ہاتھ آیا۔ انہوں نے یہ الزام لگایا کہ ہمارے ساتھ ایک الٰہ پر صبح وشام تکرار کرتا ہے۔ اس کا اپنا یہ حال ہے کہ ” اللہ“ کے ساتھ ” الرحمن“ کو شریک بنا تا ہے۔ اس پر انہیں یہ جواب دیا گیا کہ لوگو ! اپنے رب کو ” اللہ“ کے نام سے پکارو یا اس کو ” الرحمن“ کے نام سے یاد کرو۔ اللہ کے جس نام سے پکارو اس کے تمام نام ہی بہترین ہیں۔ کیونکہ سورۃ الاعراف آیت ١٨٠ میں یہ تعلیم دی گئی کہ اللہ کے سب نام بہترین ہیں لہٰذا جس نام کے ساتھ چاہواسے پکارو۔ لیکن اس کے اسماء میں کسی قسم کا الحادنہ کرو۔ جو لوگ ایساکریں گے انہیں اپنے اعمال کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ جہاں تک اللہ کے اسمائے گرامی کا تعلق ہے۔ اس میں اسم جنس ” اللہ“ ہے۔ باقی اسمائے گرامی اللہ تعالیٰ کے وصفی یعنی تعریفی نام ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ننانوے نام ہیں جبکہ دوسری روایات کو جمع کیا جائے توایک سو سے زیادہ بنتے ہیں۔ قرآن مجیدکی تلاوت کا عام اصول : (عَنْ أَبِی قَتَادَۃَ (رض) أَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خَرَجَ لَیْلَۃً فَإِذَا ہُوَ بِأَبِی بَکْرٍ (رض) یُصَلِّی یَخْفِضُ مِنْ صَوْتِہِ قَالَ وَمَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَہُوَ یُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَہُ قَالَ فَلَمَّا اجْتَمَعَا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا أَبَا بَکْرٍ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تُصَلِّی تَخْفِضُ صَوْتَکَ قَالَ قَدْ أَسْمَعْتُ مَنْ نَاجَیْتُ یَا رَسُول اللَّہِ قَالَ وَقَالَ لِعُمَرَ مَرَرْتُ بِکَ وَأَنْتَ تُصَلِّی رَافِعًا صَوْتَکَ قَالَ فَقَالَ یَا رَسُول اللَّہِ أُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَأَطْرُدُ الشَّیْطَانَ زَادَ الْحَسَنُ فِی حَدِیثِہِ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَا أَبَا بَکْرٍ ارْفَعْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْءًا وَقَالَ لِعُمَرَ اخْفِضْ مِنْ صَوْتِکَ شَیْءًا )[ رواہ البخاری : باب فی الرفع الصوت بالقراء ۃ] ” حضرت ابو قتادۃ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر نکلے۔ ابو بکر (رض) کو دھیمی آواز میں نماز پڑھتے ہوئے پایا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر عمر بن خطاب (رض) کے پاس سے ہوا وہ بلند آواز میں قرأت کر رہے تھے، جب دونوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو بکر (رض) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ابوبکر! میں رات کو آپ کے پاس سے گزراتھا آپ بالکل ہلکی آواز میں قرأت کر رہے تھے ابو بکر نے عرض کی اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس لیے آہستہ آواز میں قرأت کر رہا تھا تاکہ جس سے میں سرگوشی کر رہا ہوں اسے سنا سکوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا میں آپ کے پاس سے گزرا آپ اونچی آواز میں قرأت کر رہے تھے انہوں نے جواب دیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اس لیے بلند آوازسے قرأت کررہا تھا تاکہ میں سونے والوں کو جگا سکوں اور شیطان کو بھگا سکوں۔ حسن کی روایت میں یہ الفاظ زیادہ ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو بکر سے فرمایا کہ اپنی آواز کو تھوڑا سا بلند کرو اور عمر (رض) سے کہا اپنی آواز کو تھوڑا سا دھیما رکھو۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کو اس کے ناموں میں سے جس نام کے ساتھ چاہوپکارو۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کے اچھے اور بہترین نام ہیں۔ ٣۔ عبادت میں میانہ روی ہونی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن میانہ روی اختیار کرنی چاہیے : ١۔ نماز بلند آواز سے نہ پڑھو نہ آہستہ بلکہ درمیانہ انداز اختیار کرو۔ (بنی اسرائیل : ١١٠) ٢۔ رحمٰن کے بندے جب خرچ کرتے ہیں۔ نہ اسراف کرتے ہیں نہ بخیلی۔ بلکہ درمیانی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ (الفرقان : ٦٧) ٣۔ چال میں اعتدال اور آواز کو پست رکھو۔ (لقمان : ١٩) ٤۔ کچھ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہیں اور کچھ میانہ رو ہیں۔ (فاطر : ٣٢) ٥۔ لوگوں میں سے کچھ میانہ رو ہیں اور بہت سے ایسے ہیں جن کے اعمال برے ہیں۔ (المائدۃ: ٦٦)