سورة الإسراء - آیت 72

وَمَن كَانَ فِي هَٰذِهِ أَعْمَىٰ فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَىٰ وَأَضَلُّ سَبِيلًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جو اس دنیا میں اندھا رہا ، وہ آخرت میں اندھا ہے اور راہ سے بہت دور ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : ہدایت سے اندھے لوگ صرف خود گمراہ اور اندھے نہیں ہوتے۔ بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ اور اندھا کرنے کی کو شش کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ گمراہ لوگ انبیاء (علیہ السلام) کو ورغلانے کی ناکام کوشش کرتے تھے۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفوں کی بھی یہی کوشش تھی کی کسی طرح آپ کو بہکا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے آپ کو بہکانے میں کامیاب ہوجائیں۔ ان کی سازشوں اور کوششوں کے پیش نظر آپ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ استعمال فرمائے۔ ان آیات کا ترجمہ بریلوی مکتبہ فکرکے ایک عالم نے اپنی تفسیر میں یوں کیا ہے۔ اے پیغمبر! اللہ تعالیٰ نے آپ کو ثابت قدم رکھا۔ اگر اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی۔ تو کفار کی سازشیں اور مخالفت اس قدر شدید تھیں کہ آپ بھی ان کی طرف جھک جاتے۔ اگر آپ جھک جاتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا اور آخرت میں دوگنا عذاب کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے الفاظ آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں بھی استعمال فرمائے ہیں۔ اے پیغمبر کے گھر والو! اگر تم میں سے کوئی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کرے تو اسے دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے مشکل نہیں۔ (الاحزاب : ٣٠) (ضیاء القرآن) انہوں نے پختہ ارادہ کیا کہ وہ آپ کو بر گشتہ کردیں۔ اس کتاب سے جو ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے تاکہ آپ ہماری طرف بہتان منسوب کریں۔ اس صورت میں وہ آپ کو اپنا گہرادوست بنا لیں گے (٧٣) اور اگر ہم نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ ضرور مائل ہوجاتے ان کی طرف کچھ نہ کچھ۔ (٧٤) بفرض محال اگر آپ ایسا کرتے تو اس وقت ہم آپ کو چکھاتے دوگنا عذاب، موت کے بعد۔ پھر آپ نہ پاتے اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار۔ ان آیات میں ایک طرف کفار کی سازشوں اور مذموم کوششوں کا ذکر ہے اور دوسری طرف ان الفاظ میں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ثابت قدمی اور استقامت کا تذکرہ پایا جاتا ہے۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظیم جدوجہد اور بے مثال استقامت دیکھ کر بالآخر کفار ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔ مسائل ١۔ جو کوئی اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ ٢۔ کفار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو راہ حق سے بھٹکانہ چاہتے تھے۔ ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حق پر قائم رہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا۔ ٥۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کفار کے پیچھے لگتے تو آپ کو دوگنا عذاب کا سامنا کرنا پڑتا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کوئی نہیں ٹال سکتا : ١۔ پھر ہم تجھے دنیا اور آخرت میں دو گنے عذاب سے دو چار کرتے اور آپ ہمارے مقابلہ میں کوئی مددگار نہ پاتے۔ (بنی اسرائیل : ٧٥) ٢۔ پھر وہ اپنا کوئی دوست اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الفتح : ٢٢) ٣۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ بھلائی یا برائی کا ارادہ کرے تو کوئی اس سے آپ کو بچا نہیں سکتا۔ (الاحزاب : ١٧) ٤۔ وہ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہیں پائیں گے۔ (الاحزاب : ٦٥)