سورة الإسراء - آیت 59

وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور ہم نے معجزے بھیجنے اس لئے موقوف کردیئے ہیں کہ اگلے لوگوں نے انہیں جھٹلایا تھا ، اور ہم نے ثمود کو بطور دلیل (یعنی معجزہ) اونٹنی دی تھی ، پھر اس پر انہوں نے ظلم کیا ، اور معجزے ہم صرف ڈرانے کے لئے بھیجتے ہیں (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

جھٹلا کر تباہ ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو مہلت دینا چاہتا ہے۔ اگر تمہارے مطالبے پر من وعن معجزہ نازل کر دے تو پہلی اقوام کی طرح مہلت کی گنجائش نہ ہوگی۔ البتہ تم غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا جو معجزے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیئے گئے ہیں۔ وہ اپنی تاثیر اور نتائج کے لحاظ سے پہلے معجزات کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں۔ پہلے جیسے معجزات نازل نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پہلے لوگوں نے ان معجزات کو جھٹلا دیا تھا اور تم بھی ایسا کرو گے۔ اب تمھارے سامنے قوم ثمود کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ قوم ثمود کے مطالبہ پر ان کے سامنے اونٹنی کا معجزہ ظاہر ہوا۔ جو پہاڑ کو چیرتی، لوگوں کے سامنے ہنہناتی ہوئی ظاہر ہوئی۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ یہ اونٹنی اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی اونٹنی ہے۔ اسے تکلیف پہنچانے کی نیت سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ تمہیں اذیت ناک عذاب آلے گا۔ (الاعراف : ٧٣) مگر ان لوگوں نے حضرت صالح کو جھٹلایا اور اونٹنی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ تب ان کے اس جرم کی وجہ سے عذاب نازل کیا گیا۔ جس نے انہیں زمین کے برابر کردیا۔ (الشمس : ١٤) جس کا بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہم نے قوم ثمود کو اونٹنی کا کھلا معجزہ دیا۔ انہوں نے اونٹنی پر ظلم کیا۔ حا لا نکہ اللہ تعالیٰ نے یہ نشانیاں لوگوں کو ڈرانے کے لیے بھیجی تھیں۔ مسائل ١۔ ہر بستی کی تباہی و بربادی کے متعلق لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ٢۔ کفار معجزات سے بصیرت حاصل نہیں کرتے۔ تفسیر بالقرآن ہر ایک چیز کتاب میں لکھی ہوئی ہے : ١۔ کوئی بستی نہیں مگر ہم اسے قیامت سے پہلے ہلاک یا پھر عذاب میں مبتلا کریں گے یہ کتاب میں لکھا ہوا ہے۔ (بنی اسرائیل : ٥٨) ٢۔ کیا تم نہیں جانتے جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے اللہ اسے جانتا ہے یہ سب کچھ کتاب میں موجود ہے۔ (الحج : ٧٠) ٣۔ کوئی بھی مصیبت جو زمین سے آتی اور تمھیں پہنچتی ہے وہ پہلے ہی کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔ (الحدید : ٢٢)