سورة الإسراء - آیت 30

إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تیرا رب جس کی چاہے روزی فراخ کرے اور جس کی چاہے تنگ کرے ، وہ اپنے بندوں کا دانا بینا ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اخراجات میں اعتدال اختیار کرنے کے ساتھ غربت کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ بخل کا بنیادی سبب مال کم ہوجانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اسی اندیشہ کی وجہ سے لوگ اپنی اولاد کو قتل کرتے آرہے ہیں۔ بخل اور اولاد کا قتل اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے ناصرف سنگین جرم ہیں۔ بلکہ ان کے پیچھے آدمی کے عقیدہ کی کمزوری کا بڑا عمل دخل ہوا کرتا ہے۔ ایسے سنگین جرائم سے روکنے اور عقیدہ توحید کے ضعف سے بچانے کے لیے یہ بات سمجھائی ہے کہ رزق کی کمی وبیشی انسان کے بس کی بات نہیں۔ یہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کا رزق چاہے کشادہ فرمائے اور جس کا چاہے تنگ کر دے۔ وہ اپنے بندوں کی ضروریات اور فطرت کو اچھی طرح جانتا اور دیکھتا ہے۔ رزق کی تنگی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنے والے کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ جس رب نے میری پرورش کی ہے۔ وہی میری اولاد کو بھی روزی مہیا کرنے والا ہے۔ اولاد کو معیشت کی تنگی کی وجہ سے قتل کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ قتل اولاد کے پیچھے ہمیشہ سے یہ فکر رہی ہے کہ اگر اولاد زیادہ ہوگی تو اس سے معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اسی کے پیش نظر پہلے لوگ اپنی اولاد کو قتل کیا کرتے تھے۔ اور آج ترقی یافتہ دور میں پڑھے لکھے لوگ انفرادی طور پر نہیں بلکہ بڑی بڑی حکومتوں نے بچے قتل کرنے کے لیے مستقل وزارتیں قائم کر رکھی ہیں۔ جو صبح شام میڈیا کے ذریعے کروڑوں روپے خرچ کرکے لوگوں کو یہ باور کروانے میں مصروف ہیں کہ ” بچے دو ہی اچھے“، ” چھوٹا خاندان زندگی آسان“، ” چھوٹا خاندان خوشحالی کی ضمانت ہے“ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے ساتھ ہی خطیر سرمایہ میڈیسن پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ہر سال نسل انسانی میں اضافہ کی رپورٹس شائع ہوتی ہیں۔ حالانکہ اگر یہی سرمایہ زراعت اور آمدنی کے حصول کے دیگر ذرائع پر خرچ کیا جائے تو اناج کی قلت سے بچا جا سکتا ہے۔ اولاد کو قتل کرنا صرف اخلاقی جرم نہیں بلکہ اس کے پیچھے شرک جیسا ناقابل معافی گناہ بھی پایا جاتا ہے۔ جس سے اللہ کے رزاق ہونے کی نفی ہوتی ہے۔ حالانکہ ہمارے خالق کا اعلان ہے کہ زمین میں چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللہ کے ذمہ نہ ہو۔ وہ کھانے والے کی مستقل اور عارضی قیام گاہ کو پوری طرح جانتا ہے۔ اس نے سب کچھ لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ ( ہود : ٦) یہی وجہ ہے کہ جوں جوں آبادی میں اضافہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ لوگوں کے اناج میں بھی اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ ١٩٦٥ ء تک پاکستان میں گندم کی فی ایکڑ پیداوار پندرہ، سولہ من سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن آج فی ایکڑ پیداوار دگنی سے بڑھ چکی ہے۔ یہی رفتارچاول اور دیگر اجناس کی ریکارڈ کی گئی ہے۔ قتل اولاد کا دوسرا سبب ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ لوگ بیٹیوں کی ذمہ داریوں سے بچنے کے لیے ان کو قتل کرتے ہیں۔ جس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ (وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بالْأُنْثَی ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَہُوَ کَظِیْمٌ۔ یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْءٍ مَا بُشِّرَ بِہِ أَیُمْسِکُہُ عَلٰی ہُوْنٍ أَمْ یَدُسُّہُ فِیْ التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا یَحْکُمُوْنَ )[ النحل : ٥٨، ٥٩] ” حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خبر ملتی ہے۔ تو اس کا منہ غم کے سبب کے کالا پڑجاتا ہے اور وہ اندوھناک ہوجاتا ہے اور اس بری خبر سے وہ چھپتا پھرتا ہے اور سوچتا ہے کہ آیا ذلت برداشت کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔“ (وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُہُمْ بِمَا ضَرَبَ للرَّحْمَنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْہُہُ مُسْوَدًّا وَہُوَ کَظِیْمٌ )[ الزخرف : ١٧] ” جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی خوشخبری دی جاتی ہے جو وہ رحمن کے لیے منسوب کرتے ہیں تو اس کا منہ غم کے سبب کالا پڑجاتا ہے۔ (رحمٰن کے لیے بیان کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ لوگ ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہیں۔) قیامت کے دن بیٹی باپ سے سوال کرے گی : ( وَإِذَا الْمَوْءُ ودَۃُ سُءِلَتْ بِأَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ )[ التکویر : ٨۔ ٩] ” جب زندہ درگور کی گئی بچی سے سوال کیا جائے گا۔ تجھے کس جرم کی پاداش میں قتل کیا گیا؟“ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ سَأَلْتُ أَوْ سُءِلَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّ الذَّنْبِ عِنْدَ اللّٰہِ أَکْبَرُ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَہْوَ خَلَقَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃَ أَنْ یَطْعَمَ مَعَکَ قُلْتُ ثُمَّ أَیٌّ قَالَ أَنْ تُزَانِیَ بِحَلِیلَۃِ جَارِکَ )[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قولہ الذین لایدعون مع اللہ ....] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کونسا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پھر سوال کیا اس کے بعد ؟ آپ نے فرمایا کہ اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ میں نے پھر عرض کی اس کے بعد کونسا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔“ (یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا جَاءَ کَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَکَ عَلٰی أَنْ لَا یُشْرِکْنَ باللّٰہِ شَیْءًا وَلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ أَوْلَادَہُنَّ وَلَا یَأْتِیْنَ بِبُہْتَانٍ یَفْتَرِیْنَہُ بَیْنَ أَیْدِیْہِنَّ وَأَرْجُلِہِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَکَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْہُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَہُنَّ اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ )[ الممتحنۃ: ١٢] ” اے نبی ! جب مومن عورتیں آپ کی بیعت کرنے آئیں کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہیں کریں گی، چوری اور بدکاری نہیں کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور اپنے ہاتھ پاؤں سے کوئی بہتان باندھ کر نہیں لائیں گی اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی تو ان سے بیعت لے لیں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگیں یقیناً اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والاہے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ جس کا چاہتا ہے رزق بڑھا دیتا ہے۔ ٢۔ رزق تنگ کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا اور دیکھنے والا ہے۔ ٤۔ اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل نہیں کرنا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ سب کو روزی دینے والاہے۔ ٦۔ قتل اولاد بہت بڑا جرم ہے۔ تفسیر بالقرآن قتل اولاد کا جرم : ١۔ نہ اسراف کرو، نہ زنا کرو اور نہ اپنی اولاد کو قتل کرو۔ (الممتحنۃ: ١٢) ٢۔ اولاد کو قتل کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣١) ٣۔ اپنی اولاد کو غربت کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ (الانعام : ١٥١) ٤۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا نقصان پائیں گے۔ (الانعام : ١٤٠)