سورة النحل - آیت 65

وَاللَّهُ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اللہ نے آسمان سے پانی آتارا ، پھر اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے جلایا ، اس میں ان کے لئے جو سنتے ہیں نشانی ہے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : انسان کی زندگی اور دنیا کی بقا کے لیے پانی اس کی بقا کا ضامن ہے۔ اسی طرح انسان کی روحانی اور ایمانی زندگی کے لیے قرآن مجید تریاق اور آب حیات ہے۔ انسان کی روحانی اور ایمانی زندگی کا انحصار آسمانی وحی پر ہے آخری وحی قرآن مجید کی شکل میں نازل کی گئی ہے۔ اس کے بغیر انسان کی روح اور اس کا ایمان صحت مند اور توانا نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح انسان کی مادی زندگی کی بنیاد پانی پر رکھی گئی ہے۔ (أَوَلَمْ یَرَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا أَنَّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضَ کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ أَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ )[ الانبیاء : ٣٠] ” کیا کافروں نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ زمین و آسمان آپس میں ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر جاندار چیز کو پانی سے زندگی بخشی کیا پھر بھی یہ لوگ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔“ آبیات (ہائیڈرولوجی): آج ہم جس تصور کو ” آبی چکر“ (واٹر سائیکل) کے نام سے جانتے ہیں اسے پہلے پہل ١٥٨٠ ء میں برنارڈ پیلیسی نامی ایک شخص نے پیش کیا۔ اس نے بتایا کہ سمندروں سے کس طرح پانی تبخیر ( Evaporation) ہوتا ہے اور کس طرح وہ سرد ہو کر بادلوں کی شکل اختیار کرتا ہے۔ یہ بادل خشکی پر آگے کی طرف بڑھتے ہیں، بلند تر ہوتے ہیں، ان میں پانی کی تکثیف (Condensation) ہوتی ہے اور بارش برستی ہے۔ یہ پانی جھیلوں، جھرنوں، ندیوں اور دریاؤں کی شکل میں آتا ہے اور بہتا ہوا واپس سمندر میں چلا جاتا ہے اس طرح پانی کا یہ چکر جاری رہتا ہے۔ ساتویں صدی قبل از مسیح میں تھیلز نامی ایک یونانی فلسفی کو یقین تھا کہ سطح سمندر پر باریک باریک آبی قطروں کی پھوار (اسپرے) پیدا ہوتی ہے۔ ہوا اسی پھوار کو اٹھا لیتی ہے اور خشکی کے دور افتادہ علاقوں پر لے جا کربارش کی صورت میں برساتی ہے۔ پرانے وقتوں میں لوگ یہ بھی نہیں جانتے تھے کہ زیر زمین پانی کا ماخذ کیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ہوا کی زبردست قوت کے زیر اثر سمندر کا پانی براعظموں (خشکی) میں اندرونی حصوں تک داخل ہوتا ہے۔ انہیں یہ یقین بھی تھا کہ پانی ایک خفیہ راستے یا ” عظیم تاریکی“ (Great Abyss) سے آتا ہے، سمندر سے ملا ہوا یہ تصوراتی راستہ افلاطون کے زمانے سے میں ” ٹارٹارس“ کہلاتا تھا، حتی کہ اٹھارہویں صدی کے عظیم مفکر، ڈیکارتے (dEsvarts) نے بھی انہیں خیالات سے اتفاق کیا ہے۔ انیسویں صدی عیسوی تک ارسطو کانظریہ ہی زیادہ مقبول ومعروف رہا۔ اس نظریے کے مطابق، پہاڑوں کے سرد غاروں میں پانی تکثیف (Condensation) ہوتی ہے اور وہ زیر زمین جھیلیں بناتا ہے جو چشموں کا باعث بنتی ہیں۔ آج ہمیں معلوم ہوچکا ہے کہ بارش کا پانی زمین پر موجود دراڑوں کے راستے رِس رِس کر زیر زمین پہنچتا ہے اس سے چشمے بنتے ہیں۔ درج ذیل آیات قرآنی میں اس نکتے کی وضاحت فرمائی گئی ہے۔ ” کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریاؤں کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی مختلف قسمیں ہیں۔“ [ الزمر : ٢١] ” آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔“ [ الروم : ٢٤]” اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرادیا، ہم اسے جس طرح چاہیں غائب کرسکتے ہیں۔“ [ ا لمؤمنون : ١٨]” قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی۔“ [ الطارق : ١١] (وَأَرْسَلْنَا الرِّیَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَأَسْقَیْنَاکُمُوْہُ)[ الحجر : ٢٢] ” اور ہم ہی ہواؤں کو بارآور بناکر چلاتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے اور تم کو اس سے سیراب کرتے ہیں۔“ یہاں عربی لفظ ” لواقح“ استعمال کیا گیا ہے، جو ” لاقح“ کی جمع ہے اور ” لاقحہ“ سے مشتق ہے، جس کا مطلب ” بارآور“ کرنا یا ” بھردینا“ ہے، اسی سیاق وسباق میں بار سے مراد یہ ہے کہ ہوا، بادلوں کو (ایک دوسرے کے) قریب دھکیلتی ہے جس کی وجہ سے ان پر تکثیف کا عمل بڑھتا ہے جس کا نتیجہ بجلی چمکنے اور بارش ہونے کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ اسی طرح کی توضیحات، قرآن پاک کی دیگرآیات مبارکہ میں بھی موجود ہے۔ (از : خطبات ڈاکٹر ذاکر نائیکْ ” کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے اور پھر اس کے ٹکروں کو باہم جوڑتا ہے پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں اولے برساتا ہے پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچالیتا ہے اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔“ [ النور : ٤٣] ” اللہ ہی ہے جو ہواؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادلوں کو اٹھاتی ہیں، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکریوں میں تقسیم کرتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے بھیجتا تو یکایک وہ خوش ہوجاتے ہیں۔“ [ الروم : ٤٨]