سورة البقرة - آیت 183

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! تم پر روزہ فرض ہوا ہے جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض ہوا تھا ۔ شاید تم پرہیزگار ہوجاؤ (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : روزہ دار اللہ تعالیٰ کا حکم مانتے ہوئے حلال چیزیں چھوڑدیتا ہے اس بناء پر اسے حرام چھوڑنا مشکل نہیں رہتا تزکیۂ نفس اور حقیقی تقو ٰی روزے سے حاصل ہوتا ہے بشرطیکہ روزے کے تقاضے پورے کیے جائیں۔ سال کے گیارہ مہینے مسلمان کو حلال کھانے کی کھلی چھٹی تھی کہ وہ جو چاہے اور جس وقت چاہے کھاپی سکتا ہے۔ لیکن جونہی رمضان کا چاند نمودار ہوا یکدم اس پر پابندی لاگو کردی گئی کہ صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے کی کسی چیز کو خوردو نوش کی نیت سے ہاتھ نہ لگائے اور نہ بیوی سے جماع کرے۔ حرام کھانے پر تو دائرہ اسلام میں داخل ہوتے ہی قدغن لگ چکی تھی اب تو حلال پر بھی دن بھر کے لیے پابندی عائد کردی گئی۔ گیارہ مہینے کی آزاد طبیعت کو اس پابندی کا خوگر بنانے کے لیے اس کے نفسیاتی پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرمایا ہے کہ روزے تم پر ہی نہیں بلکہ تم سے پہلی امّتوں اور ملّتوں پر بھی فرض کیے گئے تھے۔ بس یہ گنتی کے چنددن ہیں حوصلہ کیجیے یہ دیکھتے ہی دیکھتے گزر جائیں گے۔ ہاں اگر کوئی تم میں سے ان دنوں میں بیمار ہویا اسے سفر درپیش ہو تو وہ اتنے دن کے روزے بعد میں پورے کرے۔ یہاں مریض کو یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ رمضان کے مہینے میں تکلیف کی وجہ سے اس سے جتنے روزے چھوٹ جائیں وہ سال کے گیارہ مہینوں میں جب چاہے ان کی گنتی پوری کرسکتا ہے۔ اس میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جو بچے کی پیدائش یا اس کے دودھ پینے کی صورت میں روزہ نہ رکھ سکتی ہوں۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : (کَانَ یَکُوْنُ عَلَیَّ الصَّوْمُ مِنْ رَمَضَانَ فَمَا أَسْتَطِیْعُ أَنْ أَقْضِیَ إِلَّا فِیْ شَعْبَانَ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب متی یقضی قضاء رمضان] ” میرے ذمّہ رمضان کے کچھ روزے ہوتے جنہیں میں شعبان کے علاوہ کسی مہینے میں نہیں رکھ سکتی تھی۔“ البتہ دائمی مریض جسے بظاہر بیماری سے نجات پانے کی کوئی امید نہ ہو تو وہ کسی مستحق کو رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کی گنتی کے مطابق فدیہ دے گا۔ سفر میں روزے کے حوالے سے رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قدر نرمی اور آسانی کا ماحول پیدا فرمایا کہ فتح مکہ کے سفر میں جہاد اور موسم کی شدت کے پیش نظر آپ نے نہ صرف لوگوں کو روزہ توڑنے کا حکم دیا بلکہ نماز عصر کے بعد اپنی سواری پر جلوہ افروز ہو کر لوگوں کو دکھا کر پانی نوش فرمایا۔ حالانکہ سورج غروب ہونے میں تھوڑا ہی وقت باقی تھا۔[ رواہ البخاری : کتاب المغازی، باب غزوۃ الفتح فی رمضان] اسی سنّتِ مبارکہ کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام (رض) سفر میں روزہ چھوڑنے کو قابل اعتراض نہیں سمجھتے تھے اور نہ ہی سفر میں روزہ رکھنے کو غیرمعمولی نیکی تصور کرتے تھے۔ جہاں تک سفر کی مسافت کا تعلق ہے آپ کے مختلف اسفار کو سامنے رکھتے ہوئے سفر کی مسافت کے تعیّن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام بخاری (رح)، امام احمد بن حنبل (رح) اور امام ابو حنیفہ (رض) 48 میل سے کم مسافت کو سفر شمار نہیں کرتے۔ جب کہ دوسرے علماء اپنے شہر کی حدود کے باہر 13 میل تقریبًا 23 کلو میٹر کو سفر تصور کرتے ہیں۔ آیت کے آخر میں تدریجی حکمت عملی کا خیال رکھتے ہوئے پہلے اجازت دی گئی کہ جو روزہ نہیں رکھنا چاہتا وہ کسی مسکین کو فدیہ دے تاہم روزہ رکھنا بہتر ہے۔ بعد ازاں اگلی آیت میں اس حکم کو منسوخ فرما کر معذورین کے سوا سب پر روزہ فرض کردیا گیا۔ روزہ فارسی کا لفظ ہے عربی میں اسے صوم کہا جاتا ہے۔ عربی ڈکشنری کے لحاظ سے روزہ کا لغوی معنی ہے کسی کام سے رک جانا‘ شرعی اصطلاح میں صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے‘ جماع کرنے سے رک جانے اور فسق وفجور سے بچنے کا نام روزہ ہے۔ برکات رمضان (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إذَا کَانَتْ اَوَّلُ لَےْلَۃٍ مِّنْ رَمَضَانَ صُفِّدَتِ الشَّےَاطِےْنُ وَمَرَدَۃُ الْجِنِّ وَغُلِّقَتْ اَبْوَاب النَّارِ فَلَمْ ےُفْتَحْ مِنْھَا بَابٌ وَفُتِحَتْ اَبْوَابُ الْجَنَّۃِ فَلَمْ ےُغْلَقْ مِنْھَا بَابٌ وَنَادٰی مُنَادٍ ےَا بَاغِیَ الْخَےْرِ اَقْبِلْ وَ ےَا بَاغِیَ الشَّرِّاَقْصِرْ وَلِلّٰہِ عُتَقَاءٌ مِّنَ النَّارِ وَذٰلِکَ فِیْ کُلِّ لَےْلَۃٍ) [ رواہ ابن ماجۃ، کتاب الصیام، باب ماجاء فی فضل شہر رمضان] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا رمضان کی پہلی رات شیاطین اور سرکش جن گرفتار کرلیے جاتے ہیں اس کے ساتھ ہی جہنم کے تمام دروازے بند کردیے جاتے ہیں ان میں کوئی ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہنے دیا جاتا پھر جنت کے تمام دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک دروازہ بھی بند نہیں رہنے دیا جاتا اور ایک منادی کرنے والافرشتہ اعلان کرتا ہے اے بھلائی کے چاہنے والے! آگے بڑھ اور اے شر کے خوگر! رک جا۔ اور اللہ تعالیٰ دوزخ سے لوگوں کو آزاد کرتے ہیں اور یہ آزادی رمضان کی ہر رات ہوتی ہے۔“ فضیلت صوم (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) یَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال اللّٰہُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ اٰدَمَ لَہُ إِلَّا الصِّےَامَ فَإِنَّہُ لِیْ وَأَنَا أَجْزِیْ بِہِ وَالصِّےَامُ جُنَّۃٌ فَإِذَا کَانَ ےَوْمُ صَوْمِ أَحَدِکُمْ فَلَا ےَرْفُثْ وَلَا ےَصْخَبْ فَإِنْ سَابَّہُ اَحَدٌ اَوْقَاتَلَہُ فَلْےَقُلْ إِ نِّی امْرُؤٌ صَاءِمٌ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِےَدِہٖ لَخَلُوْفُ فَمِ الصَّاءِمِ أَطْےَبُ عِنْدَاللّٰہِ مِنْ رِےْحِ الْمِسْکِ للصَّاءِمِ فَرْحَتَانِ ےَفْرَحُھُمَا اِذَا اَفْطَرَ فَرِحَٖ وَاِذَا لَقِیَ رَبَّہُ فَرِحَ بِصَوْمِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب ھل یقول إنی صائم ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ابن آدم کا ہر عمل اس کی ذات کے لیے ہے مگر روزہ میرے لیے ہے اس لیے میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ روزہ ڈھال ہے جب تم میں کوئی روزہ دار ہو تو وہ فحش گوئی اور بد کلامی سے اجتناب کرے۔ اگر کوئی اس سے گالی گلوچ یا لڑنے کی کوشش کرے تو وہ فقط اسے اتنا کہے کہ میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوگی۔ روزہ دار کے لیے خوشی کے دو مواقع ہیں جن سے وہ مسرت وانبساط حاصل کرتا ہے اولاً جب وہ روزہ افطار کرتا ہے۔ ثانیاً جب قیامت کے دن اپنے رب سے روزہ کے بدلے میں انعام پائے گا تو انتہائی خوش ہوگا۔“ ثواب کی حدہی نہیں (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آَدَمَ ےُضَاعَفُ الْحَسَنَۃُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا إِلٰی سَبْعِمِاءَۃِ ضِعْفٍ قَال اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ إِلَّا الصَّوْمَ فَإِنَّہُ لِیْ وَاَنَا أُجْزٰیْ بِہٖ) [ رواہ مسلم : کتاب الصیام، باب فضل الصیام ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ آدمی کے ہر اچھے عمل کا اجر دس سے سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ لیکن روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔“ دومقبول ترین سفارشی (عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍ و (رض) اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال الصِّےَامُ وَالْقُرْاٰنُ ےَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ ےَوْمَ الْقِےَامَۃِ ےَقُوْلُ الصِّےَامُ اَیْ رَبِّ مَنَعْتُہُ الطَّعَامَ وَالشَّھْوَات بالنَّھَارِ فَشَفِّعْنِیْ فِےْہِ وَےَقُوْلُ الْقُرْاٰنُ مَنَعْتُہُ النَّوْمَ بالَّلے ْلِ فَشَفِّعْنِیْ فِےْہِ قَالَ فَےُشَفَّعَانِ) [ مسند أحمد : کتاب مسند المکثرین من الصحابۃ، باب مسند عبدا اللہ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) ذکر کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے لیے سفارش کریں گے۔ روزہ کہے گا اے میرے رب ! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور خواہشات سے روکے رکھا لہٰذا اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا اے میرے رب! میں نے اس بندے کو تلاوت کی وجہ سے سونے سے روکے رکھا لہٰذا اس کے بارے میں میری گذارش قبول فرما۔ اللہ تعالیٰ دونوں کی سفارش قبول فرما لیں گے۔“ (عَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْد (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَابًا ےُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ ےَدْخُلُ مِنْہُ الصَّآءِمُوْنَ ےَوْمَ الْقِےَامَۃِ لَا ےَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَےْرُھُمْ) [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب الریان للصائمین] ” حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا! جنت کے ایک دروازے کا نام ہی ” الریان“ رکھ دیا گیا ہے۔ جس سے قیامت کے دن روزہ دار گزر کر جنت میں داخل ہوں گے۔ ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی دوسرا داخل نہیں ہو سکے گا۔“ مسلمان پر ارکان اسلام فرض ہیں اور ہر مسلمان ان کی ادائیگی کا پابند ہے۔ حدیث میں ارشاد ہواکہ جنت کے دروازے کا نام یہ اور یہ رکھا گیا ہے۔ آدمی کو اس نیکی کی بناء پر خصوصی طور پر مخصوص دروازے سے بلایا جائے گا اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ باقی ارکان اور نیکیاں کرنے کے ساتھ اس نیکی میں زیادہ رغبت اور لذّت محسوس کرتا ہے اس فرمان کے ساتھ جذبہ اور ترغیب پیدا کرنا مقصودبھی ہے کہ مومن کو ہر نیکی پوری توجہ اور للہیت سے ادا کرنی چاہیے۔ جو لوگ ہر نیکی رغبت سے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا۔ جیساکہ حضرت ابوبکر (رض) کے ایک سوال کے جواب میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ابو بکر تو انہی حضرات میں شامل ہے جنہیں جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا۔ [ رواہ البخاری : کتاب الصوم، باب الریان للصائمین] روزے کا مقصد گناہوں سے بچنا ہے۔ اگر سنّت کے مطابق کچھ بھوک رکھ کر روزہ رکھا جائے تو آدمی گناہوں کی معافی کے ساتھ کئی بیماریوں سے بچ سکتا ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب : برکات رمضان) مسائل ١۔ روزے ہر امت پر فرض تھے۔ ٢۔ روزے کا مقصد تقو ٰی میں اضافہ کرنا ہے۔ ٣۔ بیماری اور سفر کی وجہ سے چھوڑے ہوئے روزے بعد میں پورے کرنا فرض ہے۔ ٤۔ روزہ رکھنا ہر لحاظ سے بہتر ہے۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں میری کتاب ” برکات رمضان“ ) ٥۔ تقویٰ نام ہے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور گناہوں سے بچنے کا۔