سورة ابراھیم - آیت 48

يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَاوَاتُ ۖ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جس دن یہ زمین ایک اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور اللہ اکیلے زبردست کے سامنے سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے منکرین حق کو دنیا میں تباہ وبرباد کیا اور آخرت میں بھی انہیں شدید ترین عذاب دے گا۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ایک دفعہ ہر چیز کو نیست ونابود کردیا جائے گا، پھر محشر کا میدان لگے گا اور اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کو دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ لیکن مخلوق کو زندہ کرنے سے پہلے زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے اس کے بعد لوگوں کو صرف رب ذوالجلال کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔ آج دنیا میں حق کے منکر، فاسق اور ظالم لوگ اپنے اثرورسوخ کی وجہ سے دندناتے پھرتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن انہیں بھاری زنجیروں میں جکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے گا۔ پھر انہیں جہنم میں دھکیلتے ہوئے تار کول کے کپڑے پہنا کر آگ میں جھونکاجائے گا۔ وہ آگ ان کے چہروں تک پہنچ جائے گی۔ یہ اس لیے ہوگا تاکہ مجرموں کو ان کے جرائم کی پوری طرح سزادی جائے۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ دین کے بنیادی عقائد میں تیسرا عقیدہ فکرآخرت ہے۔ جسے قرآن مجید پوری شرح وبسط کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہاں ہم قیامت کے مختلف مراحل کے بارے میں قرآن مجید کی چند آیات اور احادیث کی چند مستند روایات کا حوالہ دیں گے تاکہ موقع کی مناسبت سے قیامت کے منظر کی ایک جھلک ہمارے سامنے آجائے اور ہم رب ذوالجلال کی بارگاہ میں پیشی کی تیاری کرلیں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں۔ (عن أَنَس بن مالِکٍ أَنَّ رَجُلاً قَالَ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ یُحْشَرُ الْکَافِرُ عَلٰی وَجْہِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ أَلَیْسَ الَّذِیْ أَمْشَاہُ عَلَی الرِّجْلَیْنِ فِی الدُّنْیَا قَادِرًا عَلَی أَنْ یُّمْشِیَہٗ عَلٰی وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ قَالَ قَتَادَۃُ بَلٰی وَعِزَّۃِ رَبِّنَا)[ رواہ البخاری : کتاب التفسیر، باب قَوْلِہِ (الَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوہِہِمْ إِلٰی جَہَنَّمَ أُولٰٓءِکَ شَرٌّ مَّکَانًا وَّأَضَلُّ سَبِیْلاً ] ” حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی ! کافروں کو چہروں کے بل قیامت کے دن کیسے جمع کیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا کیا وہ ذات جو دنیا میں ان کو قدموں پر چلانے پر قادر ہے کیا وہ ذات چہرے کے بل نہیں چلا سکتی؟ قتادہ نے کہا کیوں نہیں !“ (عَنْ سَھْلِ ابْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُحْشَرُالنَّاسُ یَوْ مَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی اَرْضٍ بَیْضَآءَ عَفْرَآءَ کَقُرْصَۃِ النَقِیِّ لَیْسَ فِیْھَا عَلََمٌ لِاَحَدٍ) [ متفق علیہ] ” حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے روز لوگوں کو سرخی مائل سفید زمین پر جمع کیا جائے گا زمین میدے کی روٹی کی مانند ہوگی زمین پر کسی قسم کا ٹیلہ نہیں ہوگا۔“ (عَنِ الْمِقْدَادِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ تُدْ نَیْ الشَّمْسُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مِنَ الْخَلْقِ حَتّٰی تَکُوْنَ مِنْھُمْ کَمِقْدَارِ مِیْلٍ فَیَکُوْنُ النَّا سُ عَلٰی قَدْرِ اَعْمَالِھِمْ فِیْ الْعََرَ قِ فَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی کَعْبَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی رُکْبَتَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یَّکُوْنُ اِلٰی حَقْوَیْہِ وَمِنْھُمْ مَنْ یُّلْجِمُھُمُ الْعَرَقُ اِلْجَامًا وَاَشَارَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بِیَدِہٖ اِلٰی فِیْہِ)[ رواہ مسلم : کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا وأہلہا، باب فِی صِفَۃِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ أَعَانَنَا اللَّہُ عَلَی أَہْوَالِہَا] ” حضرت مقداد (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے سرورِدو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمارہے تھے قیامت کے دن سورج لوگوں سے ایک میل کی مسافت پر ہوگا لوگوں کا پسینہ ان کے اعمال کے مطابق ہوگا بعض لوگوں کے ٹخنوں تک‘ بعض کے گھٹنوں تک بعض کی کمر تک اور بعض کے منہ تک پسینہ ہوگا یہ بیان کرتے ہوئے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منہ کی طرف اشارہ کیا۔“ مسائل ١۔ قیامت کے دن زمین و آسمان بدل دیے جائیں گے۔ ٢۔ تمام لوگ اللہ تعالیٰ واحد وقہار کے روبرو پیش ہوں گے۔ ٣۔ قیامت کے دن مجرموں کو زنجیروں میں جکڑ دیا جائے گا۔ ٤۔ قیامت کے دن مجرموں کو گندھک کے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ ٥۔ مجرموں کے چہروں کو آگ ڈھانپ رہی ہوگی۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن مجرموں کا براحال ہوگا : ١۔ قیامت کے دن مجرموں کو با ہم زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا۔ (ابراہیم : ٤٩) ٢۔ قیامت کے دن کفار کو طوق پہنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (الحاقۃ: ٣٠۔ ٣١) ٣۔ قیامت کے دن مجرموں کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ (المعارج : ٤٤) ٤۔ قیامت کے دن مجرموں کے ابرو پاؤں کے انگوٹھے کے بال سے باندھ دیے جائیں گے۔ (الرحمن : ٤١) ٥۔ اس دن آپ دیکھیں گے کہ مجرم اپنے سروں کو جھکائے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے۔ (السجدۃ: ١٢) ٦۔ بے شک مجرم ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ٧۔ قیامت کے دن مجرم گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی اور سیاہ دھویں میں ہوں گے۔ (الواقعۃ: ٤١۔ ٤٣) ٨۔ قیامت کے دن مجرموں کو دھکتی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا۔ (الغاشیۃ : ٤) ٩۔ مجرموں کا کھانا تھور کا درخت ہوگا۔ (الدخان : ٤٣۔ ٤٤) ١٠۔ مجرم تھور کے درخت سے اپنے پیٹ بھریں گے اور کھولتا ہوا پانی پئیں گے۔ (الصٰفٰت : ٦٦۔ ٦٧)