سورة ابراھیم - آیت 31

قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُنفِقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَالٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

میرے ایماندار بندوں سے کہہ نماز پڑھیں ۔ اور جو ہم نے ان کو دیا اس میں سے چھپا کر اور اعلانیہ خرچ کرتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس میں خرید وفروخت ہے اور دوستی نہ چلے گی (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : توحید کے فوائد اور شرک کے نقصانات کا ذکر کرنے کے بعد توحید کے تقاضوں کا بیان ہے۔ مخلوق ہونے کے ناطے تمام انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں مگر جن لوگوں نے کفر و شرک اختیار کیا وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی سے نکل کر شیطان کے بندے بن جاتے ہیں۔ قرآن مجید نے انہیں ” عبدالطاغوت“ قرار دیا ہے۔ ان کے مقابلے میں جنہوں نے عقیدۂ توحید اپنایا انہیں قرآن مجید آمنوا کے اعزاز سے نوازتا ہے۔ انھیں اللہ تعالیٰ اپنے بندے قرار دیتا ہے۔ جن کے بارے میں سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا :” آپ انہیں فرمائیں کہ اے اللہ کے بندو! توحید کا تقاضا ہے کہ پانچ وقت نماز قائم کرو جو کچھ اللہ نے تمہیں عطا فرمایا اس میں پوشیدہ اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتے رہو۔ تاآنکہ وہ دن آپہنچے جس میں نہ خرید وفروخت ہوگی نہ کسی کی دوستی کام آئے گی۔“ اس فرمان میں واضح اشارہ ہے کہ یقیناً توحید اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور دنیا و آخرت کی کامیابی کی کلید ہے مگر جو شخص جان بوجھ کر اس کے تقاضے پورے نہیں کرتا، جنہیں قرآن و حدیث میں ارکان اسلام کے نام سے بیان کیا گیا ہے۔ بے شک بالآخر جنت میں داخل ہوگا لیکن ارکان اسلام پورے نہ کرنے کی وجہ سے اسے جہنم میں جانا پڑے گا۔ نہ معلوم وہ کتنی مدت تک سزا بھگتتا رہے گا اس لیے ایمان یعنی عقیدۂ توحید کے بعد قرآن و حدیث میں بار بار اس بات پرزور دیا گیا ہے کہ ایمان لانے کے بعد انسان کو ارکان اسلام کی پاپندی کرنا ہوگی۔ یہاں ایمان کے بعد اسلام کے بنیادی ارکان میں سے نماز اور انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ نماز میں انسان اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اور باجماعت نماز پڑھنے سے ٢٧ گنا زیادہ ثواب پانے کے ساتھ اپنے بھائیوں کے قریب ہونے اور آپس کے حالات جاننے کا موقع ملتا ہے۔ نماز کے ساتھ زکوٰۃ انفاق فی سبیل اللہ کی لازمی صورت ہے اس سے صاحب ثروت حضرات کو حکم ہے کہ پانچ وقت مسجد میں اکٹھا ہونے والے ساتھیوں کی ضروریات کا بھی خیال رکھیں۔ نماز کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ کا احساس اجا گر کرنے کے لیے فرمایا کہ اس دن کے آنے سے پہلے ان امورکا خیال رکھو، جس دن نہ لین دین ہوگا اور نہ مجرم کو کسی کا واسطہ اور دوستی کام آئے گی۔ (عن أُمَامَۃَ یَقُوْلُ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَخْطُبُ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ فَقَالَ اتَّقُوا اللَّہَ رَبَّکُمْ وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ وَأَدُّوْا زَکَاۃَ أَمْوَالِکُمْ وَأَطِیْعُوْا ذَا أَمْرِکُمْ تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ)[ رواہ الترمذی : کتاب الصلاۃ، الباب الأخیر وہو حدیث صحیح ] ” حضرت امامہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجۃ الوداع کے موقعہ پر خطبہ دیتے ہوئے سنا۔ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر جاؤ جو تمہار ارب ہے۔ پانچ نمازیں پڑھو، رمضان کے روزے رکھو، اپنے مالوں سے زکٰوۃ ادا کرو اور صاحب امر لوگوں کی اطاعت کرو۔ تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔“ مسائل ١۔ ایمان والوں کو نماز قائم کرنے کا حکم ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کرنا چاہیے۔ ٣۔ قیامت کے دن خرید و فروخت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن دوستی کام آئے گی اور نہ رشوت چلے گی : ١۔ اس دن نہ دوستی کام آئے گی نہ لین دین ہوگا۔ (ابراہیم : ٣١) ٢۔ قیامت کے دن سے ڈر جاؤ جس دن کوئی معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (البقرۃ: ٤٨) ٣۔ قیامت کے دن مجرم سونا بھر کر زمین دے، تب بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : ٩١) ٤۔ مجرم خواہش کرے گا جو کچھ زمین میں ہے سب کچھ دے کر عذاب سے بچ جائے۔ (المائدۃ : ٣٦) ٥۔ قیامت کے دن مجرم اپنے اہل و عیال بطور فدیہ پیش کرے گا۔ ( المعارج : ١١ تا ١٣) ٦۔ اس دن کے آنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرو جس دن سفارش اور دوستی کام نہ آئے گی۔ (البقرۃ: ٢٥٤)