سورة ابراھیم - آیت 0

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(شروع) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

بسم اللہ الرحمن الرحیم سورۃ ابراہیم کا تعارف یہ سورۃ مبارکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے نام سے منسوب کی گئی ہے۔ جن کا اسم گرامی اس سورۃ کی آیت ٣٥ میں مذکورہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا نام نامی قرآن مجید میں مجموعی طور پر ٦٢ مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ اس عظیم سورت کی ابتدا میں قرآن مجید کا ان الفاظ میں تعارف کروایا گیا ہے کہ اے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن مجید اس لیے نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر دنیا اور آخرت کی تابناکیوں میں لاکھڑا کریں۔ یہ اس ذات کبریا کی طرف سے آپ پر نازل ہوا ہے جو ہر اعتبار سے غالب رہنے والا اور لائق تعریف ہے۔ مگر لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ آخرت کی لامتناہی زندگی اور بیش بہا نعمتوں کے بدلے میں دنیا کو ترجیح دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ لوگ پرلے درجے کی گمراہی میں بھٹک چکے ہیں۔ آپ سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایسی ہی کتاب اور فرض تفویض کیا گیا تھا۔ مگر فرعون اور اس کے ساتھیوں نے اسے یکسر طور پر مسترد کردیا۔ جس کے نتیجہ میں انھیں تباہی کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ دراصل کفار کے اعمال کی حیثیت ریت کے ذرّات کی طرح ہے۔ جس طرح آندھی کے مقابلے میں ریت کے ذرات کو ٹھہراؤ حاصل نہیں۔ اسی طرح کفار کے نظریات اور اعمال کی کوئی بنیاد نہ ہے۔ یہ لوگ شیطان کے جال میں پھنس چکے ہیں۔ قیامت کے دنشیطان کی حالت یہ ہوگی کہ وہ اپنے پیچھے لگنے والوں کو یہ کہے گا کہ میں تمھاری کوئی مدد نہیں کرسکتا کیونکہ میری اپنی نجات کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اب ہمیں ہمیشہ ہمیش کے لیے جہنم میں رہنا ہے۔ اس کے بعد جنت کا تذکرہ ہے جس میں جنتیوں کے لیے ہمیشہ سلامتی ہوگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کو ایک سدا بہار درخت کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ جو ہر موسم میں سدا بہار اور پھل دیتا ہے اس کے ساتھ شرک کو ناپاک درخت قرار دیا ہے۔ کلمہ طیبہ دنیا اور آخرت میں ایمانداروں کے لیے قرار اور ثبات کا ذریعہ ہے۔ شرک اور کفر مشرک اور کافر کے لیے دنیا اور آخرت میں تباہی کا سبب ہے۔ سورۃ ابراہیم کے آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کا ذکر ہے جب انھوں نے حضرت ہاجرہ [ اور اپنے نو نہال اسماعیل (علیہ السلام) کو بیت اللہ کے پاس چھوڑا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس دعا کے بعد حضرت ہاجرہ سے رخصت ہوئے۔ ” الٰہی! انھیں نماز پڑھنے کی توفیق عنایت کرنا، لوگوں کے دل ان کی طرف پھیردینا اور انھیں رزق حلال عطا فرماتے ہوئے اپنا شکریہ ادا کرنے کی توفیق عنایت فرمانا۔“ سورۃ کے اختتام میں جہنمیوں کی سزا کا ذکر ہوا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے کہ لوگو! اگر تم جہنم سے بچنا چاہتے ہو تو ایک الٰہ کی عبادت کرو اور اس کی عبادت کے تقاضے پورے کرو۔ یہی عقل اور دانش مندی کا راستہ اور دنیا و آخرت میں مشکلات سے نجات پانے کا ذریعہ ہے۔