سورة الرعد - آیت 15

وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی یا ناخوشی سے اللہ ہی کو سجدہ کرتا ہے اور ان کے سائے بھی صبح و شام اللہ کو سجدہ کرتے ہیں (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلے مشرک کے شرک کی بے حیثیتی بیان کی گئی اور اب کافر کے کفر کو بے حیثیت قرار دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کا انکار کرنے والا شخص اس قدر نافرمان اور باغی طبیعت کا ہوتا ہے۔ کہ وہ زمین و آسمان کی ہر چیز کے مخالف سمت میں چلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی بات کو یہاں سمجھایا گیا ہے کہ اللہ وہ ذات کبریا ہے۔ جس کے سامنے زمین و آسمان کی ہر چیز طوعاً، کرھاً سجدہ ریز ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کے سائے بھی صبح وشام اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ کرتے ہیں۔ سجدہ سے مراد حقیقی سجدہ بھی ہوسکتا ہے جو ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اپنے اپنے مقام پر سجدہ کر رہی ہے جسے انسان کے لیے دیکھنا اور سمجھنا مشکل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زمین و آسماں کی ہر چیز اس کی حمد وثنا کرتی ہے مگر انسان ان کی حمد کو نہیں سمجھ سکتے۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) یہاں سجدہ سے مراد اکثر مفسرین نے جھکنا اور تابعداری لی ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے دونوں مفہوم لیے جاسکتے ہیں۔ جہاں تک ہر چیز کے سایہ کا سجدہ کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز کا سایہ صبح کے وقت مغرب کی جانب اور مغرب کے وقت مشرق کی جانب اوپر سے نیچے کی طرف آتا اور زمین پر پھیلتا ہے۔ جو درحقیقت اپنے رب کے حضور سجدہ کرنا ہے۔ ہر چیز کے سجدہ کے بارے میں طوعًا، کرھًا کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔” طوعًا“ کا معنی ہے خوشی اور رغبت کے ساتھ جھکنا اور سجدہ کرنا۔ کافر کے سوا کائنات کی ہر چیز دل کی اتھاہ گہرائیوں اور اپنی فطرت کے مطابق اپنے خالق و مالک کو سجدہ کرنے کے ساتھ اس کی اطاعت میں لگی ہوئی ہے۔ صرف انسان ہی اس قدر باغی اور سرکش ہوجاتا ہے جو اپنے رب کی فرمانبرداری اور اس کے سامنے سجدہ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کلمہ پڑھ کر بھی اللہ تعالیٰ کا حکم نہیں مانتا اور اس کے حضور پانچ وقت نماز ادا نہیں کرتا تو اس کے بارے میں اہل علم متفق ہیں کہ ایسے شخص کا رویہ کفر کرنے کے متراوف سمجھا جائے گا۔ لیکن کافر کفر کرنے کے باوجود پوری زندگی بے شمار کاموں میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے جھکنے پر مجبور رہتا ہے۔ جس میں مرنا، جینا، سونا، جاگنا، بیماری اور مشکل میں مبتلا ہونا۔ یہاں تک کہ صحت، زندگی اور رزق کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے بے بس ہے۔ اس طرح مجبوراً کافر بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے پر مجبور ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ” کرھًا“ کا لفظ استعمال فرمایا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حِیْنَ غَرَبَتِ الشَّمْسُ اَتَدْرِیْ اَیْنَ تَذْھَبُ ھٰذِہٖ قُلْتُ اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَعْلَمُ قَالَ فَاِنَّھَا تَذْھََبُ حَتّٰی تَسْجُدَتَحْتَ الْعَرْشِ فَتَسْتَاْذِنُ فَیُؤْذَنُ لَھَا وَیُوْشِکُ اَنْ تَسْجُدَوَلَاتُقْبَلُ مِنْھَا وَتَسْتَأْذِنُ فَلَا یُوؤذَنُ لَھَا وَیُقَالُ لَھَآ اِرْجِعِیْ مِنْ حَیْثُ جِءْتِ فَتَطْلُعُ مِنْ مَّغْرِبِھَا فَذَالِکَ قَوْلُہٗ وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا قَالَ مُسْتَقَرُّھَا تَحْتَ الْعَرْشِ) [ رواہ البخاری : کتاب بدأ الخلق باب صِفَۃِ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ] ” حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تجھے معلوم ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو کہاں جاتا ہے؟ میں نے کہا‘ اللہ اور اس کے رسول کو علم ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سورج عرش کے نیچے جاکر سجدہ کرتا ہے اور اجازت طلب کرتا ہے۔ اسے اجازت مل جاتی ہے قریب ہے کہ وہ سجدہ کرے گا اور اس کا سجدہ قبول نہ ہو وہ طلوع ہونے کی اجازت طلب کرے گا اس کو اجازت نہ ملے بلکہ اسے حکم ہو جدھر سے آیا اسی طرف سے طلوع ہوجا۔ چنانچہ سورج مغرب کی طرف سے طلوع ہوگا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے سورج اپنے مستقر کی طرف چلا جاتا ہے آپ نے فرمایا اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔“ انسان کو ” اللہ“ کی عبادت کا حکم : ” اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔“ (البقرۃ: ٢١) ” نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔“ (٤٣) ” اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔“ (الحجر : ٩٩) مسائل ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے۔ ٢۔ ہر چیز کا سایہ بھی اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز تسبیح کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو سجدہ کرتی ہے : ١۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کو سجدہ کرتی ہے۔ (الر عد : ١٥) ٢۔ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الخل : ٤٩) ٣۔ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ کو زمین و آسمان کی ہر چیز سجدہ کرتی ہے۔ (الحج : ١٨) ٤۔ ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے لیکن انسان اس کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ (بنی اسرائیل : ٤٤) ٥۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے وہ غالب، حکمت والا ہے۔ (الحشر : ١)