سورة الرعد - آیت 12

هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

وہی ہے کہ خوف اور طمع لانے کے لیے تمہیں بجلی دکھاتا ہے ، اور بھاری بادل اٹھاتا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں یہ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی ابتدا، انتہا سے باخبر ہے اور اسی نے انسان پرنگران مقرر کیے ہوئے ہیں۔ اب ارشاد ہوتا ہے، کہ وہی ذات ہے جو تمہیں آسمان سے گرجتی اور چمکتی ہوئی بجلی دکھاتا ہے۔ جس کے گرجنے چمکنے سے تم سہمے جاتے ہو، اس حال میں کہ اپنے دلوں میں بارش کی امید لیے ہوئے ہوتے ہو۔ وہی فضا اور ہوا میں بھاری بھر کم بادلوں کو اٹھائے اور چلائے رکھتا ہے جس بجلی کی کڑک سے تم ڈرتے ہو۔ درحقیقت وہ اپنی زبان میں اپنے رب کی حمد کرتی ہے اور فرشتے اپنے رب سے لرزاں اور ترساں رہتے ہیں۔ اللہ جہاں چاہتا ہے بجلی کو گرنے کا حکم صادر کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر تدبیر اور منصوبہ بندی کرنے والا ہے۔ لیکن مشرکوں اور منکروں کی حالت یہ ہے کہ وہ پھر بھی اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ کافر اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر ہوتا ہے اور مشرک اللہ تعالیٰ کو ماننے کے باوجود اس کی صفات میں دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں جھگڑا کرنے کے مترادف قرار دیا ہے حالانکہ مشرک اور کافر جانتے ہیں کہ زمین و آسمان کو بنانے والا شمس و قمر کو تسخیر کرنے والا، پہاڑوں کو نصب کرنے والا اور ان کے درمیان دریا بہانے والا۔ پانی سے مختلف قسم کے پھل پیدا کرنے والا اور انسان کو اس کی ماں کے رحم سے لے کر موت تک پالنے اور اس کی نگرانی کرنے والا۔ موت کے بعد اٹھا کر محشر میں اپنے سامنے کھڑا کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ ان تمام کاموں اور امور میں زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک وسہیم ہو۔ مشرک یہ حقیقت جاننے کے باوجود باطل معبودوں کے بارے میں بحث وتکرار کرتا ہے اور کافر اتنی بڑی حقیقت کا انکار کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا۔ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ أَقْبَلَتْ یَہُودُ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالُوْا یَآأَبَا الْقَاسِمِ أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا ہُوَ قَالَ مَلَکٌ مِّنَ الْمَلاآءِکَۃِ مُوَکَّلٌ بالسَّحَابِ مَعَہٗ مَخَارِیْقُ مِّنْ نَارٍ یَّسُوقُ بِہَا السَّحَابَ حَیْثُ شَآء اللّٰہُ فَقَالُوْا فَمَا ہٰذَا الصَّوْتُ الَّذِیْ نَسْمَعُ قَالَ زَجْرُہٗ بالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَہٗ حَتّٰی یَنْتَہِیَ إِلٰی حَیْثُ أُمِرَ قَا لُوْا صَدَقْتَ )[ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الرعد وہو حدیث صحیح ] ” حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا اے ابو القاسم! ہمیں کڑک کے بارے میں خبر دیجئے کہ وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا فرشتوں میں سے ایک فرشتہ بادلوں پر مقرر ہے۔ اس کے پاس آگ کے کوڑے ہوتے ہیں۔ وہ ان کے ساتھ بادلوں کو ہانکتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے۔ انہوں نے کہا وہ آواز کیا ہے جو ہم سنتے ہیں۔ آپ نے فرمایا وہ فرشتہ بادلوں کو چلاتا ہے یہاں تک کہ وہ اس جگہ پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ یہودیوں نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔“ مسائل ١۔ آسمانوں سے بجلیوں کی چمک دکھانے والا اور بھاری بادلوں کو بلند کرنے والا اللہ ہے۔ ٢۔ آسمانی بجلی بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھتی ہے۔ ٣۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ جب اور جہاں چاہے بجلیاں گرا دیتا ہے۔ ٥۔ لوگ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن ہر چیز اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کر رہی ہے : ١۔ رعد اس کی حمد وتسبیح بیان کرتی ہے۔ (الرعد : ١٢) ٢۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ (الحدید : ١) ٣۔ ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتے ہیں۔ (نبی اسرائیل : ٤٤) ٤۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد بیان کرتے ہیں اور مومنوں کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں۔ (الشوریٰ : ٥) ٥۔ مومن اللہ کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔ (السجدۃ: ١٥)