سورة یوسف - آیت 111

لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُولِي الْأَلْبَابِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

البتہ ان کے قصوں میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے ۔ کچھ بناوٹی بات نہیں ہے ۔ لیکن اس کلام کی تصدیق ہے ، جو اس کے پہلے ہے ۔ اور ہر شئے کی تفصیل ہے ۔ اور مومنوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے (ف ٢)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اہل مکہ نے اس ذہن کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا ٹھیک ٹھیک جواب نہیں دے پائیں گے اور ہماری یہ بات سچ ثابت ہوگی کہ یہ نبی اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگاتا ہے۔ اہل مکہ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے یہ فرمادیا گیا کہ جن لوگوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائیوں کے بارے میں سوال اٹھایا ہے۔ اس کے جواب میں ان کے لیے عبرت کی بہت سی باتیں پائی جاتی ہیں۔ (یوسف : ٧) اس سورۃ مبارکہ کا اختتام بھی اسی بات سے کیا جا رہا ہے۔ جس کا اشارہ ابتدا میں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ارشاد ہوتا ہے کہ ان واقعات میں سوال کرنے والوں کے لیے بہت ساسامان عبرت موجود ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنی عقل استعمال کریں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے بیان میں یہ بات پوری طرح واضح ہوچکی ہے کہ یہ قرآن حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے بنائی ہوئی باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ جسے اس نے اپنے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کیا ہے۔ قرآن مجید کے من جانب اللہ ہونے کا یہ بھی واضح ثبوت ہے کہ اس میں جو احکام اور واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ وہ تورات، انجیل اور زبور کے حقیقی احکام اور واقعات کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس قرآن میں ہدایت کے مفصل دلائل دیے گئے ہیں جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت کا سرچشمہ اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کا پیکر ہیں۔ سوال کرنے والوں کے لیے عبرت کے دلائل : ١۔ اہل مکہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لاجواب کرنے کے لیے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا تھا۔ جس کے جواب میں خود لاجواب ہوئے اور انہیں شرمندگی اٹھانا پڑی۔ ٢۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی طرح اہل مکہ نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناکام کرنے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کو مٹانے کی کوشش کی۔ جس میں وہ برادران یوسف کی طرح ناکام رہے۔ ٣۔ بھائیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے خلاف سازش کی۔ جس میں وہ ناکام ہوئے۔ اسی طرح اہل مکہ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ہجرت اور دوسرے مواقعوں پر سازشیں کی۔ جس میں وہ ہر بار ناکام ہوئے۔ ٤۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں صبر کیا۔ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں خوشیاں نصیب فرمائیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل مکہ کے جبرو تشدد کے مقابلہ میں صبر سے کام لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بھی خوشیاں اور کامیابیاں عطا فرمائیں۔ ٥۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے صبر و حوصلہ کے ساتھ مشکلات کا سامنا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر کا اقتدار عطا فرمایا۔ نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار کے مظالم کے مقابلے میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہل مکہ اور پورے عرب پر غلبہ عطا فرمایا۔ ٦۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان سے معافی مانگنے پر مجبور ہوئے۔ فتح مکہ کے موقع پر اہل مکہ بھی نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی معافی کے خواستگار ہوئے۔ ٧۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کی درخواست پر (لاَ تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ) کہتے ہوئے معاف کردیا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہی الفاظ کے ساتھ فتح مکہ کے موقعہ پر اہل مکہ کو معاف فرمایا۔ مسائل ١۔ حضرت یوسف کے واقعہ میں عقلمندوں کے لیے عبرت ہے۔ ٢۔ قرآنی واقعات لوگوں کے لیے باعث ہدایت ہیں۔ ٣۔ قرآن مجید پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔ ٤۔ قرآن مجید میں انسان کی ہدایت کے متعلق ہر بات کی تفصیل ہے۔