سورة البقرة - آیت 9

يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

وہ خدا اور ایمان لانے والوں کو فریب دیتے ہیں حالانکہ کسی کو فریب نہیں دیتے تھے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

درحقیقت یہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں۔ کتنا برا اور بد بخت ہے وہ آدمی جو اپنی ذات کو دھوکے میں مبتلا رکھے۔ کیونکہ منافق اللہ کے رسول کو دھوکہ دیتے، دین اور دین داروں کو مذاق کرتے ہیں۔ دین اللہ تعالیٰ نے بھیجا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اسی نے مبعوث فرمایا ہے اور مومنوں کو بھی دین کی وجہ سے استہزا کا نشانہ بنایا جاتا ہے جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے دھوکہ کو اپنی ذات کے ساتھ دھوکہ اور مذاق قرار دیا ہے۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منافق کے کردار کو اس طرح بیان فرمایا ہے : (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیْرُإِ لٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً وَ إِلٰی ھٰذِہٖ مَرَّۃً) (رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین وأَحکامھم) ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی طرح ہے جو دو ریوڑوں کے درمیان پھرتی ہے کبھی ایک ریوڑکی طرف جاتی ہے کبھی دوسرے کی طرف۔“ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔۔ قَالَ مَنْ غَشَّ فَلَیْسَ مِنِّیْ) (رواہ مسلم : کتاب الإیمان باب قول النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من غشنا فلیس منا) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے دھوکہ دیا وہ مجھ سے نہیں۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ) (رواہ البخاری : باب علامۃ المنافق) ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں، جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے وعدہ خلافی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔“ مسائل ١۔ منافق اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن حقیقتاً وہ ایمان دار نہیں ہوتا۔ ٢۔ منافق اللہ تعالیٰ اور ایمان داروں کو دھوکا دیتا ہے۔ ٣۔ منافق حقیقی فہم و شعور سے عاری ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن منافق کا جھوٹا دعویٰ : ١۔ منافق دعوی ایمان کے باوجود ایمان دار نہیں۔ ( البقرۃ: ٨) ٢۔ اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق دعویٰ ایمانی میں جھوٹے ہیں۔ ( المنافقون : ١) ٣۔ منافقین نے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا ہوا ہے۔ ( المنافقون : ٣) ٤۔ منافق ایمان کے دعویٰ کی جھوٹی قسمیں اٹھاتے ہیں۔ ( التوبۃ: ٥٦) منافق کی دھوکہ بازیاں : ١۔ منافق اللہ اور مومنوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( البقرۃ: ٩) ٢۔ منافق رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ( المنافقون : ١) ٣۔ منافق نماز بھی دھوکہ دینے کی خاطر پڑھتے ہیں۔ ( النساء : ١٤٢)