سورة یوسف - آیت 91

قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَاطِئِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

بولے ، اللہ کی قسم ، خدا نے تمہیں ہم پر برگزیدہ کیا ۔ اور بیشک ہم خطاوار تھے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جونہی اپنا تعارف کروایا تو بھائی ان کے سامنے معذرت پیش کرنے لگے۔ برادران یوسف نے دل کی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ اللہ کی قسم اٹھاتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی برتری کا اعتراف کیا کہ اللہ نے آپ کو ہم پربڑی عزت وعظمت عطا فرمائی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہم خطا کار ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا بے فکر ہوجاؤ آج تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ تمہیں اللہ معاف فرمائے وہ سب سے بڑھ کر مہربان ہے۔ یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے صاحبزادے، حضرت اسحق (علیہ السلام) کے پوتے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ کے پڑ پوتے تھے۔ اس لیے اس موقع پر دونوں طرف سے بے مثال اور عظیم سے عظیم تر کردار کا مظاہرہ ہوا۔ برادران یوسف کو جب معلوم ہوا کہ یہی یوسف ہیں جن کے ساتھ ہم نے زیادتی کی تھی۔ ذرہ برابر تامل کرنے کی بجائے اللہ کی قسم اٹھا کر یوسف کی برتری کانہ صرف اعتراف کیا بلکہ نہایت عاجزی کے ساتھ اپنی زیادتی کی معافی مانگنے لگے۔ جس کے جواب میں بے مثال اور عظیم الشان اخلاق کے مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ماضی کو بھول جائیں۔ آپ پر رائی برابر بھی زیادتی نہیں ہوگی۔ نہ صرف میں آپ کو معاف کرتا ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ سے بھی التجا ہے کہ وہ بھی آپ کو معاف فرمائے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں کو معاف کرتے ہوئے ” لاتثریب“ کا لفظ استعمال کیا جس کا معنی یہ ہے کہ کسی کو اس طرح معاف کیا جائے کہ جس میں اشارے کنایے میں بھی طعن کا مفہوم موجود نہ ہو۔ اسی اسوہ کا مظاہرہ سرور دوعالمِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے موقع پر کیا تھا۔ سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں داخل ہو کر دو نفل ادا کیے۔ اس کے بعد بیت اللہ کے صحن میں تشریف لائے یہاں مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ کے انتظار میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ نہ معلوم کہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے بیت اللہ میں نماز کے دوران آپ کی گردن پر گندی اوجڑی رکھی تھی۔ آپ کے ساتھیوں پر مظالم ڈھائے تھے۔ وہ شخص بھی موجود تھا جس نے مکی دور میں آپ کو کعبہ کی چابی دینے سے انکار کیا تھا۔ سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حمد وثنا کے بعد مکہ کے سرداروں کو مخاطب کر کے فرمایا ” ھل تظنون“ کیا خیال ہے کہ تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ مکہ کے سردار آنکھیں نیچے کر کے بڑے عاجزی سے کہتے ہیں ” انت کریم“ آپ انتہائی معزز ہیں اور عزت والے خاندان کے فرد ہیں۔ ہم آپ سے بہتر امید رکھتے ہیں۔ (عَنْ أبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) اَنَ النَبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَمَّا دَخَلَ مَکَّۃَ فَقَالَ مَنَ دَخَلَ دَارًا فَہُوَ اٰمِنٌ وَمَنْ اَلَقَی السَّلَاحَ فَہُوَ اٰمِنٌ وَعَمَدَ صَنَادِیْدَ قُرَیْشٍ فَدَخُلُوْا الْکَعْبَۃَ فَغَصَّ بِہِمْ وَطَاف النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَصَلّٰی خَلْفَ الْمَقَامِ۔۔ أَتَی الْکَعْبَۃَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتِی الْبَابِ فَقَالَ مَا تَقُوْلُوْنَ وَمَا تَظُنُّوْنَ قَالُوْا نَقُوْلُ اِبْنَ اَخٍ وَابْنَ عَمٍّ حَلِیْمٌ رَحِیْمٌ قَالَ وَقَا لُوْا ذٰ لِکَ ثَلَا ثا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَقُوْلُ کَمَا قَالَ یُوْسُفُ (لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَہُوَ اَرْحَمُ الرّٰاحِمِیْنَ)[ السنن الکبرٰی : جزء ٩] ” حضرت ابی ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فتح مکہ کے دن جب مکہ میں داخل ہوئے تو فرمایا جو اپنے گھر میں داخل ہوجائے وہ امن میں رہے گا۔ جو اسلحہ پھینک دے اسے بھی پناہ دی جائے گی۔ قریش کے سردار کعبۃ اللہ میں داخل ہوگئے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طواف کعبہ کیا۔۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھر کعبۃ اللہ کے پاس آئے اور اس کی دہلیز پکڑ کر فرمایا تم میرے متعلق کیا کہتے اور کیا خیال کرتے ہو؟ کہنے لگے ہم کہتے ہیں آپ ہمارے بھائی کے بیٹے، چچا کے بیٹے ہیں۔ حلیم الطبع اور رحم کرنے والے ہیں۔ انہوں نے یہ الفاظ تین بار کہے۔ آپ نے فرمایا میں وہی بات کہتاہوں جو یوسف (علیہ السلام) نے کہی تھی۔ آج کے دن کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہاری خطاؤں کو معاف فرمائے یقیناً وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ مسائل ١۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ ٢۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو معاف کردیا۔ ٣۔ بھائیوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کی۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا، مہربان ہے : ١۔ اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے زیادہ مہربان ہے۔ ( یوسف : ٢٢) ٢۔ تیرا پروردگار بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ (الکہف : ٥٨) ٣۔ یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ: ٢١٨) ٤۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : ١٠٩)