سورة ھود - آیت 112

فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلَا تَطْغَوْا ۚ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

پس تو (اے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم) مع اپنے تائب ساتھیوں کے جینا مجھے حکم ہوا ، سیدھا رہ اور سرکشی نہ کرو ، وہ تمہارے کام دیکھتا ہے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے رد عمل کے مقابلہ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو استقامت اختیار کرنے کا حکم۔ کفار، مشرکین اور یہود و نصاریٰ اس حد تک آپ کی مخالفت پر اتر آئے تھے کہ آپ کو صادق و امین ماننے کے باوجود آپ کو کذّاب اور جادو گر قرار دیتے تھے۔ جس کا بحیثیت انسان آپ کو بہت رنج ہوتا تھا۔ آپ کی ڈھارس بندھانے اور مستقل مزاجی کا سبق دینے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے متبعین کو مسلسل ہدایات دی گئی ہیں۔ ١۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اس پر قائم رہیے۔ ٢۔ کسی حال میں بھی اللہ کی نازل کردہ وحی سے سرتابی نہیں کرنی۔ ٣۔ ہر دم یہ خیال رہنا چاہییکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ ٤۔ ظالموں کی طرف کسی حال میں بھی جھکاؤ نہیں ہونا چاہیے۔ ٥۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی خیر خواہ اور مدد کرنے والا نہیں ہوتا۔ استقامت کا معنی ہے کسی طرف جھکنے کی بجائے سیدھا کھڑے رہنا۔ جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایک داعی نہ کسی قسم کے دباؤ کی پرواہ کرے اور نہ ہی کسی مفاد اور لالچ کے سامنے جھکے۔ ایسا شخص ہی صحیح معنوں میں حق کا ترجمان اور اس کا پاسبان ہوسکتا ہے۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے ” وَلَاتَرْکَنُوْا“ کے الفاظ استعمال فرمائے۔ جس کا معنی ہے کہ دنیا کا کوئی خوف آپ اور آپ کے متبعین کو باطل کے سامنے جھکنے پر مجبور نہ کرسکے۔ اگر تم لوگ جھک گئے تو پھر تمہیں جہنم کی آگ سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی تمہارا خیر خواہ اور مددگار نہیں ہوسکتا۔ ظلم سے پہلی مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ جس کی سزا جہنم ہوگی۔ ترکنو کا لغوی معنی ہے : محبت اور دلی میلان۔ اور یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ ظالموں کی خوشامد مت کرو۔ (ضیاء القرآن، ج : ٢۔ ص : ٣٩٦) (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ (رض) قَالَ لَمَّا نَزَلَتِ (الَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ) قَالَ أَصْحَابُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَیُّنَا لَمْ یَظْلِمْ فَأَنْزَلَ اللّٰہُ (إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ (رض) کہنے لگے ہم میں سے کون ہے جو ظلم نہیں کرتا یعنی ہر انسان سے غلطی ہوجاتی ہے تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی ” یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔“ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اَلظُّلْمُ ظُلُمَاتٌ یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ) [ رواہ البخاری : باب الظلم] ” حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ظلم قیامت کے دن اندھیرے ہوں گے۔“ مسائل ١۔ اللہ کے حکم پر استقامت اختیار کرنی چاہیے۔ ٢۔ حق کے داعی کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے اعمال کو دیکھنے والا ہے۔ ٤۔ ظالموں کی طرف جھکاؤ نہیں کرنا چاہیے۔ ٥۔ اللہ کے علاوہ کوئی رفیق اور مدد کرنے والا نہیں ہے۔ تفسیر بالقرآن ظلم اور ظالم : ١۔ ظالموں کی طرف نہ جھکیں ورنہ تمہیں بھی جہنم کی آگ چھوئے گی۔ (ھود : ١١٣) ٢۔ اللہ کی مساجد کو ویران کرنے والا ظالم ہے۔ ( البقرۃ: ١١٤) ٣۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ( لقمان : ١٣) ٤۔ نبی کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنے والا ظالم ہے۔ (الانعام : ٩٣) ٥۔ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والا ظالم ہے۔ (الاعراف : ٣٧) ٦۔ اللہ نے بستیوں والوں کو ظلم کی وجہ سے ہلاک کردیا۔ (یونس : ١٣)