سورة ھود - آیت 89

وَيَا قَوْمِ لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِي أَن يُصِيبَكُم مِّثْلُ مَا أَصَابَ قَوْمَ نُوحٍ أَوْ قَوْمَ هُودٍ أَوْ قَوْمَ صَالِحٍ ۚ وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اے قوم میری مخالفت تمہارے حق میں اس کا باعث نہ ہو کہ تم پر ویسی مصیبت آئے جیسی قوم نوح (علیہ السلام) یا قوم ہود (علیہ السلام) یا قوم صالح (علیہ السلام) پر آئی تھی ، اور قوم لوط (علیہ السلام) تم سے بہت دور نہیں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت شعیب (علیہ السلام) کا قوم کو دوسرا جواب اور خدشہ کا اظہار۔ اس سے پہلے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو یہ سمجھایا تھا کہ میں مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر تمہیں برائی سے نہیں منع کرتا۔ میرا مقصد تو تمہاری اصلاح کرنا ہے۔ مگر قوم ان کی بات سمجھنے کی بجائے تعصب اور ضد کی بنیاد پر مخالفت برائے مخالفت میں آگے ہی بڑھتی گئی۔ اس صورت حال پر جناب شعیب (علیہ السلام) نے انہیں فرمایا کہ اے میری قوم تمہاری مخالفت اور ہٹ دھرمی تمہیں اس مقام پر لاکر کھڑا نہ کردے جس جگہ پر پہنچ کر حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت صالح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم تباہ ہوئی تھی۔ جہاں تک قوم لوط کی تاریخ اور کھنڈرات کا تعلق ہے وہ تم سے دور نہیں ہیں۔ اے میری قوم! اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی اور آئندہ کے لیے سچی توبہ کرو یقیناً میرا رب نہایت ہی مہربان اور بہت ہی زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ کسی شخص یا قوم کی گمراہی کی اس وقت کوئی حد نہیں رہتی جب وہ حقیقت سمجھنے کے باوجود تعصب اور ہٹ دھرمی میں آکر مخالفت برائے مخالفت کا وطیرہ اختیار کرلے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی اقوام یہی وطیرہ اختیار کرتی تھیں۔ ایسا ہی انداز اہل مکہ نے نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اختیار کر رکھا تھا۔ بدر کے میدان میں مکی لشکرکے ایک شخص نے ابو جہل سے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ کبھی محمد نے ہم سے جھوٹ بولا ہے؟ ابو جہل نے جواب دیا ہرگز نہیں۔ سوال کرنے والے نے کہا اب کیا اس کی عمر چوّ ن (٥٤) سال سے زائد ہونے والی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ بول سکتا ہے؟ ابو جہل نے کہا بالکل نہیں۔ سوال کرنے والے نے پوچھا کہ ہم پھر اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟ ابو جہل نے کہا دراصل اس کے خاندان کے پاس زم زم کا کنٹرول، منیٰ اور عرفات میں حجاج کی خدمت اور دیگر اعزازات ہیں۔ اگر ہم اس کی نبوت کا بھی اقرار کرلیں تو ہمارے پلے کیا رہ جائے گا۔ یہ ہے وہ قومی اور شخصی تعصب جو حقیقت سمجھنے کے باوجود حق قبول کرنے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اس قسم کی عصبیت اور خواہ مخواہ کی مخالفت سے منع کرتے ہوئے اپنی قوم کو فرمایا کہ تم ماضی پر استغفار اور مستقبل کے لیے سچے دل سے توبہ کرو۔ یقیناً میرا رب نہایت ہی مہربان اور بڑا محبت کرنے والا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ےَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ وَاَنَا مَعَہُ اِذَا ذَکَرَنِیْ فَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ نَفْسِہٖ ذَکَرْتُہُ فِیْ نَفْسِیْ وَاِنْ ذَکَرَنِیْ فِیْ مَلَاأ ذَکَرْتُہُ فِیْ مَلَاأ خَےْرٍ مِّنْھُمْ) [ رواہ البخاری : باب یحذرکم اللہ نفسہ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے میں اپنے بندے کے ساتھ اپنے بارے میں اس کے ظن کے مطابق معاملہ کرتا ہوں۔ وہ جب میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتاہوں۔ اگر وہ میرا ذکر اپنے دل میں کرتا ہے تو میں اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ میرا ذکر کسی گروہ میں کرتا ہے تو میں اسکا ذکر اس سے بہتر گروہ میں کرتا ہوں۔“ مسائل ١۔ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ سے ہر حال میں بخشش طلب کرنی چاہیے۔ ٣۔ انسان کو اللہ ہی کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ رحم فرمانے والا اور محبت کرنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ نہایت رحم فرمانے اور محبت کرنے والا ہے : ١۔ اگر لوگ شکر کریں تو اللہ کو لوگوں کو عذاب دینے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ (النساء : ١٤٧) ٢۔ میرا پروردگار بڑا رحم فرمانے اور محبت کرنے والا ہے۔ (ھود : ٩٠) ٣۔ اللہ بخشنے اور شفقت کرنے والا ہے۔ (البروج : ١٤) ٤۔ بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ نرمی کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ (البقرۃ: ١٤٣) ٥۔ تمہارا پروردگار شفقت کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (النحل : ٤٧) ٦۔ بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (النساء : ١٦)