سورة یونس - آیت 58

قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَٰلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

تو کہہ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہر سے سوچاہئے کہوہ اس سے خوش ہوں ، یہ اس سے بہتر ہے جو سمیٹتے ہیں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اس سے پہلی آیت میں قرآن مجید کو موعظت اور شفاء قرار دیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔ اس پر مومنوں کو خوش اور مطمئن ہونا چاہیے۔ قرآن مجیددنیا میں واحد کتاب ہے جسے جتنی بار تلاوت کیا جائے اتنی ہی اس کی تاثیر بڑھتی جاتی ہے۔ اس کے نزول مسعود سے لے کر ہر دور میں ہزاروں اور لاکھوں لوگ صرف اس کی تلاوت سے متاثر ہو کر اس پر ایمان لے آئے اور ان کی زندگی کی کایا پلٹ گئی۔ قرآن مجید کے سب سے بڑے دشمن اہل مکہ تھے ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیے کہ جو لوگ آخر دم تک حلقہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے وہ بھی قرآن مجید کی تاثیر کا برملا اقرار کرتے تھے۔ اسی بنا پر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جادوگر کہتے تھے حضرت عمر فاروق (رض) کا واقعہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی بہن سے براہ راست سورۃ طٰہٰ کی ابتدائی آیات سنیں تو قرآن کی تاثیر کی تاب نہ لاتے ہوئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ ایک مرتبہ مکہ والوں نے ولید کو اپنا نمائندہ بنا کر نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بھیجا گفتگو کے دوران نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سورۃ حٰم سجدہ کی چند آیات پڑھ کر سنائیں ولید کی حالت یہ ہوئی کہ وہ بے ساختہ کہنے لگا کہ اتنا موثر کلام کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ جب اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا تو انہوں نے اس کا چہرہ دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ یہ نبی کی گفتگو سے بے حد متاثر ہوچکا ہے۔ قرآن مجید کی تاثیر کا عالم یہ کہ مخارج اور صفات کا لحاظ رکھ کر اس کی تلاوت کی جائے یا سادہ اور عجمی لہجے میں پڑھا جائے۔ یہ دل پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کیونکہ اس کے نازل کرنے والے رب کا فرمان ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت سے دل نرم ہوتے ہیں اور ایماندار کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ جہاں تک قرآن مجید کو سمجھنے اور اس کے ساتھ وعظ و خطاب کا تعلق ہے۔ اگر وعظ کرنے میں تھوڑا سا بھی اخلاص ہو تو سننے والا اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ جس کی واضح مثال پورے عالم اسلام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اس وقت مسلمانوں کی ٥٦ حکومتوں میں سے سعودی عرب کو چھوڑ کر کون سا ملک ہے جس ملک میں دین کی سرپرستی کی جارہی ہو یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ صرف خطیبوں کے وعظ کی وجہ سے کروڑوں مسلمان دین پر جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انشاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا اور لوگ قرآن مجید کی دعوت قبول کرتے رہیں گے۔ قرآن مجید کا دوسراوصف یہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ دل کی بیماریوں میں کفرو شرک اور نفاق سب سے بری بیماریاں ہیں جوں ہی توجہ کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کی جائے۔ یہ کفرو شرک کی بیماری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ بشرطیکہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق پرہیز بھی کیا جائے۔ کیونکہ علاج کے ساتھ پرہیز لازم ہے۔ قرآن مجید نے ابتداء ہی میں (ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ) کہہ کر پرہیز لازم قرار دیا ہے۔ قرآن مجید ہدایت اور خزانہ ہے : قرآن مجید صرف فرد کی نہیں بلکہ قوموں کی ہدایت اور راہنمائی کا مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے اسے زندگی کا آئینہ بنایا وہ دینی اخلاقی، معاشی اور معاشرتی اعتبار سے ہدایت پاجائے گا۔ قرآن مجید ایسا خزانہ ہے۔ جس کا موازنہ دنیا کی دولت اور کسی نعمت سے نہیں کیا جا سکتا۔ مسائل ١۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت ہے۔ ٢۔ قرآن مجید روحانی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ ٣۔ قرآن کریم باعث ہدایت ہے۔ ٤۔ قرآن مجید باعث رحمت ہے۔ ٥۔ اللہ کا فضل و رحمت دنیا کے مال و منال سے بہتر ہے۔ تفسیر بالقرآن قرآن مجید کے فضائل کی جھلکیاں : ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جو کچھ نازل کیا ہے وہ مومنوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے۔ (بنی اسرائیل : ٨٢) ٢۔ قرآن مجید کو اللہ نے ہی نازل فرمایا ہے اور وہی اس کا محافظ ہے۔ (الحجر : ٩) ٣۔ جن و انس مل کر بھی اس قرآن کی مثل کوئی چیز نہیں لا سکتے۔ (بنی اسرائیل : ٨٨) ٤۔ یہ کتاب مبین ہے اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے۔ (البقرۃ: ٢) ٥۔ قرآن مجید میں کوئی کجی نہیں ہے۔ (الکہف : ١) ٦۔ قرآن مجید لوگوں کے لیے باعث نصیحت اور مومنوں کے لیے باعث ہدایت اور رحمت ہے۔ (یونس : ٥٧)