سورة التوبہ - آیت 86

وَإِذَا أُنزِلَتْ سُورَةٌ أَنْ آمِنُوا بِاللَّهِ وَجَاهِدُوا مَعَ رَسُولِهِ اسْتَأْذَنَكَ أُولُو الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَقَالُوا ذَرْنَا نَكُن مَّعَ الْقَاعِدِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ چل کر جہاد کرو ، تو ان میں سے اہل دوات تجھ رخصت مانگتے اور کہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں میں چھوڑ ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ منافقین کا رویہ۔ منافقین کی حالت یہ تھی کہ جب بھی کوئی آیت یا سورۃ نازل ہوتی جس میں اللہ تعالیٰ پر مخلصانہ ایمان لانے کی دعوت اور رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا جاتا تو یہ لوگ اس کے ساتھ سراسر انحراف کرتے اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر مختلف بہانے بنا کر کہتے کہ ہمیں بیٹھ رہنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھ رہنے کی اجازت دیجیے حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس کوئی نام نہاد عذر بھی نہیں تھا کیونکہ وہ صحت مند اور وسائل رکھنے والے تھے۔ دراصل یہ اس بات پر خوش تھے کہ انھیں جہاد سے پیچھے رہنے والوں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے گویا کہ وہ ہر حال میں جہاد سے پیچھے رہنا پسند کرتے تھے۔ ان کی اس روش اور منافقت کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی جس کی وجہ سے ایمان خالص اور جہاد کی عظمت کو سمجھنے سے قاصر ہوئے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا أَذْنَبَ کَانَتْ نُکْتَۃٌ سَوْدَاءُ فِی قَلْبِہٖ فَإِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِلَ قَلْبُہٗ فَإِنْ زَادَ زَادَتْ فَذَلِکَ الرَّانُ الَّذِی ذَکَرَہُ اللّٰہُ فِی کِتَابِہٖ کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ) [ رواہ ابن ماجۃ: کتاب الزہد، باب ذکر الذنوب] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے اگر وہ توبہ کرتا ہے اس گناہ کو چھوڑ کر بخشش طلب کرتا ہے اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اگر وہ گناہ زیادہ کرتا ہے وہ نکتہ بھی بڑھا دیا جاتا ہے یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کیا ہے۔ خبر دار وہ زنگ ہے جو ان کے دلوں پر ہے اس وجہ سے جو وہ اعمال کرتے تھے۔“ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوبِہِمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ )[ المطففین : ١٤] ” ہرگز یہ بات نہیں بلکہ ان لوگوں کے دلوں پر انکے برے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے۔“ مسائل ١۔ منافق بلا عذر جہاد سے پیچھے رہتا ہے۔ ٢۔ منافق کے دل پر گمراہی کی مہر لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ حقیقت سمجھنے سے قاصر ہوجاتا ہے۔ تفسیر بالقرآن کن کے دلوں پر مہریں ثبت ہوتی ہیں : ١۔ اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہریں لگا دیتا ہے۔ (البقرۃ: ٧) ٢۔ جھوٹوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر لگا دے گا۔ (الشوریٰ : ٢٤) ٣۔ نفسانی خواہشات کی پیروی کرنے والے کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔ (الجاثیۃ : ٢٣)