سورة التوبہ - آیت 55

فَلَا تُعْجِبْكَ أَمْوَالُهُمْ وَلَا أَوْلَادُهُمْ ۚ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم بِهَا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ أَنفُسُهُمْ وَهُمْ كَافِرُونَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

سو تو ان کو دولت واولاد سے تعجب نہ کر ، اللہ فقط یہ چاہتا ہے ، کہ ان چیزوں سے انہیں حیات دنیا میں عذاب دے ۔ اور وہ کافر مریں ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی مزیدنشانیوں کا تذکرہ جاری ہے۔ مدینہ کے منافق مال اور اولاد کے اعتبار سے بے شمار لوگوں سے زیادہ حیثیت کے مالک تھے۔ لیکن کمینے اور منافق شخص کے پاس مال کی کثرت اور افرادی قوت ہو تو وہ اپنی خباثت میں آگے ہی بڑھتا جاتا ہے۔ کیونکہ معاشرے میں جس شخص کے پاس یہ دو چیزیں وافر ہوں تو اسے کوئی ٹوکنے اور روکنے والا نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنے قول و فعل میں سچا ہوں۔ عوام الناس ایسے شخص سے متاثر اور مرعوب ہوجاتے ہیں اس تاثر کو ختم کرنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو براہ راست مخاطب کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگوں کے سامنے منافقوں کی بے وقعتی ثابت ہوجائے۔ آپ کو حکم ہوتا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو منافقوں کے کاروبار، محلات، مال و اسباب اور افرادی قوت دیکھ کر تعجب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں انھیں بطور خیر کے عطا نہیں کی گئیں بلکہ اس لیے دی گئیں ہیں کہ ان کے مال اور اولاد دنیا میں ان کے لیے ذلت کا باعث اور آخرت میں ان کے لیے عذاب کا سبب ثابت ہوں اور یہ کفر کی حالت میں ہی جان دیں۔ یہ حلف دے دے کر آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ تمھارے ساتھی ہیں حالانکہ وہ ایمان، اخلاص اور ہمدردی کے حوالے سے تمھارے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتے ایسی باتیں محض اپنی منافقت اور بزدلی چھپانے کے لیے کرتے ہیں۔ منافقین کو چاہیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر اس کے شکر گزار ہوتے ہوئے، اخلاص اور تابعداری کا مظاہرہ کرتے لیکن منافق ان نعمتوں کو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے انھی چیزوں کے ساتھ انھیں دنیا میں سزا دی جائے گی۔ اگر سوچا جائے تو کیا یہ سزا کم ہے ؟ کہ عبداللہ بن ابی نے جب غزوۂ بنی مصطلق سے واپسی پر اپنے مخصوص ساتھیوں میں یہ کہا کہ مدینہ پہنچ کر گھٹیا لوگوں یعنی صحابہ کرام (رض) کو شہر سے نکال دیا جائے گا۔ حالانکہ وہ اس قابل نہیں تھا۔ کیونکہ آج تو سلطنت رومہ کا حکمران بھی صحابہ کی تاب نہیں لا سکا۔ جس کی وجہ سے اس نے تبوک کے محاذ سے پسپائی اختیار کی تھی یہ صرف منافق کی یا وہ گوئی اور ہرزہ سرائی تھی۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا : (ہُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْاطوَ لِلّٰہِ خَزَآءِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَفْقَہُوْنَ یَقُوْلُوْنَ لَءِنْ رَّجَعْنَآ اِلٰی الْمَدِیْنَۃِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْہَا الْاَذَلَّطوَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ )[ المنافقون : آیْت، ٧۔ ٨] ” یہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں نہ خرچ کرو ان (درویشوں) پر جو اللہ کے رسول کے پاس ہوتے ہیں یہاں تک کہ وہ (بھوک سے تنگ آکر) تِتر بتر ہوجائیں، اور اللہ کے لیے ہی ہیں خزانے آسمانوں اور زمین کے لیکن منافقین ( اس حقیقت کو) سمجھتے ہی نہیں۔ منافق کہتے ہیں کہ اگر ہم لوٹ کر گئے مدینہ میں تو نکال دیں گے عزت والے وہاں سے ذلیلوں کو حالانکہ (ساری) عزت تو صرف اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے اور ایمان والوں کے لیے ہے مگر منافقوں کو ( اس بات کا) علم ہی نہیں۔“ جو نہی وہ مدینہ داخل ہوا۔ اس کا بیٹا جس کا نام بھی عبداللہ تھا وہ تلوار سونت کر سامنے آیا اور اپنے باپ سے کہا کہ میں تم کو مدینہ داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک آپ اپنے الفاظ واپس لے کر معذرت نہیں کرتے چنانچہ عبداللہ بن ابی نے اس سے معافی مانگی۔ اس کے باوجود یہ شخص منافقت کی حالت میں مرا تھا یہاں تک منافقوں کے مال کا تعلق ہے وہ بھی منافقین کی زندگی میں ختم ہوا۔ صحابہ کرام (رض) کو اللہ تعالیٰ نے عزت و اقبال کے ساتھ دنیا کی فراوانی سے ہم کنار فرمایا۔ مسائل ١۔ منافق اور کافر کے مال اور اولاد پر حیران نہیں ہونا چاہیے۔ ٢۔ منافق اور کافر کا مال اور اولاد اس کے لیے دنیا میں بھی ذلت کا باعث بنتے ہیں۔ ٣۔ منافق کا حلف جھوٹا اور یہ بزدل ہوتا ہے۔ ٤۔ منافق کی جان بھی منافقت کی حالت میں نکلتی ہے۔