سورة التوبہ - آیت 46

وَلَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَأَعَدُّوا لَهُ عُدَّةً وَلَٰكِن كَرِهَ اللَّهُ انبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَقِيلَ اقْعُدُوا مَعَ الْقَاعِدِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

اور اگر وہ نکلنا چاہتے ، تو جہاد کے لئے پہلے سے اسباب تیار کرتے ، لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا ، سو اس نے انہیں سست کردیا اور انہیں حکم ہوا کہ بیٹھنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : منافقین کی مزید عادات۔ منافق نقصان کے خوف یا کسی مفاد کے حصول کے لیے ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھتا ہے اس کے دینی کاموں میں اخلاص نہیں پایا جاتا وہ مفاد کا بندہ اور ابن الوقت ہونے کی وجہ سے موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے۔ جونہی اسے موقعہ ملتا ہے تو وہ معمولی مفاد کی خاطر ملت کو نقصان پہنچانے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ یہی حال رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں منافقین کا تھا۔ غزوۂ احد کے موقعہ پر جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے خلاف مورچہ زن ہوچکا تھا تو مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے تین سو منافق ٹولیوں کی شکل میں مدینہ کی طرف بھاگ نکلے۔ غزوۂ احزاب کے موقع پر بھی منافقین کی ہمدردیاں اور خفیہ سرگرمیاں اہل مکہ اور مدینہ کے یہودیوں کے ساتھ تھیں۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی انھوں نے اپنی مذموم حرکتیں جاری رکھیں۔ یہاں تک کہ غزوۂ تبوک کی تیاری کے وقت کھل کر سامنے آگئے اور حیلے بہانوں سے جان چھڑاتے رہے۔ جو منافق کسی مجبوری کے عالم میں لشکر کے ساتھ گئے انھوں نے تبوک سے واپسی پر رات کے وقت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرنے کی کوشش کی جن کو آپ نے پہچان لیا اور حضرت حذیفہ کو ان کے نام بتلاتے ہوئے فرمایا کہ کسی کو بتلانے کی ضرورت نہیں ان کو انہی کے حال پر چھوڑ دو۔ منافقین کے اسی گھناؤنے کردار کی وجہ سے مسلمانوں کو بتلایا جا رہا ہے کہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمھارے ساتھ نکلنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے۔ اگر انھوں نے جہاد کے لیے نکلنا ہوتا تو یہ اس کے لیے کچھ نہ کچھ تیاری کرتے۔ ان کا جہاد کے لیے تیاری نہ کرنا درحقیقت میں اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کا تمھارے ساتھ نکلنا پسند نہیں کرتا تھا اس لیے ان کی سستی اور غفلت کو برقرار رہنے دیا اور کہہ دیا گیا کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔ اللہ تعالیٰ اسی شخص کو نیکی کی توفیق دیتا ہے جو دل میں اس کی چاہت اور اس کے حصول کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔ اگر منافق نکلتے بھی تو ماضی کی طرح مسلمانوں میں انتشار اور بددلی پیدا کرنے کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ یہ تم میں ایسے لوگ ہیں جو غیروں کے لیے سنتے ہیں اور دشمن کے ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔ بعض مفسرین نے ” فِیْکُمْ سَمّٰعُوْنَ“ کا معنی یہ لیا ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے بھولے بھالے تھے جو ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منافقوں کو راز کی باتیں بتلا دیا کرتے تھے انھیں یہ حکم دے کر آئندہ کے لیے متنبہ کیا گیا ہے۔ (عَنْ ابْنِ عُمَر َ عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ کَمَثَلِ الشَّاۃِ الْعَاءِرَۃِ بَیْنَ الْغَنَمَیْنِ تَعِیرُ إِلٰی ہَذِہِ مَرَّۃً وَإِلٰی ہَذِہِ مَرَّۃً) [ رواہ مسلم : کتاب صفات المنافقین] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیان نقل کرتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منافق کی مثال دو ریوڑوں کے درمیان بکری کی ہے کبھی ایک طرف جاتی ہے اور کبھی دوسری جانب۔“ تفسیر بالقرآن فتنہ کیا ہے : ١۔ فتنہ قتل سے زیادہ سخت ہے۔ (البقرۃ: ١٩١) ٢۔ فتنہ کی موجودگی تک لڑتے رہو یہاں تک کہ دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ (البقرۃ: ١٩٣) ٣۔ جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھا پن ہے وہ فتنہ تلاش کرتے ہیں۔ (آل عمران : ٧) ٤۔ جان لو تمھارے مال اور اولاد تمھارے لیے فتنہ ہیں۔ (الانفال : ٢٨) ٥۔ وہ کام نہ کرو جس سے زمین میں فساد اور فتنہ برپا ہو۔ (الانفال : ٧٣)