سورة التوبہ - آیت 2

فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَاعْلَمُوا أَنَّكُمْ غَيْرُ مُعْجِزِي اللَّهِ ۙ وَأَنَّ اللَّهَ مُخْزِي الْكَافِرِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

پس اے مشرکو چار مہینے تک اس ملک میں پھر لو اور جان لو ، کہ تم خدا کو عاجز نہ کر سکوگے ، اور یہ کہ اللہ کافروں (ف ٢) ۔ کو رسوا کرے گا ،

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : سورۃ انفال کے اختتام میں ایمان، ہجرت اور جہاد کو باہم بھائی چارے کی بنیاد قرار دیا گیا۔ جو اس معیاد پر پورا نہیں اترتا اس کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی رشتہ ناطہ قائم نہیں رہ سکتا۔ اس بنا پرسورۃ التوبۃ کی ابتدا میں ایسے لوگوں سے برأت کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سورۃ کے تعارف میں اس کے نام کی وضاحت کردی گئی ہے تفصیل جاننے کے لیے اس کا تعارف ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ کے رسول نے صلح حدیبیہ میں مشرکین مکہ سے اور دوسرے موقعوں پر مشرکین کے ساتھ بقائے باہمی کی بنیاد پر معاہدات کیے تھے۔ صلح حدیبیہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ یہ شرائط طے پائی تھیں کہ آپس میں دس سال تک جنگ نہیں ہوگی۔ عرب کا جو قبیلہ ہمارا اور تمہارا حلیف بنے گا اس پر بھی اس معاہدہ کا اطلاق ہوگا۔ اس میں یہ شق بھی شامل تھی کہ اگر کوئی مسلمان مکہ والوں کے ساتھ آملے تو وہ اسے واپس نہیں کریں گے لیکن اگر کفار میں سے کوئی شخص مسلمانوں کے ساتھ آملے گا تو مسلمان اسے واپس کرنے کے پابند ہوں گے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس معاہدہ کی پوری سختی کے ساتھ پابندی فرمائی۔ معاہدہ کی تحریر کے وقت ابو جندل (رض) کو واپس کیا اور کچھ عرصہ کے بعد ابوبصیر (رض) مسلمان ہو کر مدینہ آیا تو آپ نے اسے بھی واپس جانے کا حکم دیا لیکن مکہ والوں نے اس معاہدہ کے اس وقت پر خچے اڑا دیے جب ان کے حلیف قبیلہ بنو بکر نے مسلمانوں کے حلیف قبیلے بنو خزاعہ پر رات کے وقت شب خون مارا اور ان کا مالی و جانی نقصان کیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اللہ کے رسول فی الفور معاہدہ ختم کرنے کا اعلان فرماتے لیکن آپ رحمۃ اللعالمین اور صلح جو شخصیت کے مالک تھے اس لیے آپ نے مکہ والوں کو پیغام بھیجا کہ معاہدہ کی رو سے بنو بکر کو مجبور کریں کہ وہ بنو خزاعہ کا مال واپس کریں اور ان کے مقتولوں کی دیت ادا کریں۔ مکہ والوں نے اس پیغام کا بڑا متکبرانہ جواب دیتے ہوئے اس شق کو ماننے سے انکار کردیا گویا کہ دوسرے لفظوں میں ان کی طرف سے معاہدہ ختم کرنے کا اعلان تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے صحابہ کرام (رض) کو جہاد کی تیاری کا حکم صادر فرمایا۔ آٹھ ہجری دس رمضان المبارک کو دس ہزار کا لشکر جرار لے کر مکہ کی طرف پیش قدمی فرمائی اور اس طرح منصوبہ بندی کی کہ مکہ میں داخل ہوئے تو ایک معمولی واقعہ کے سوا کسی کو ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہوسکی اس موقع پر آپ نے بے پناہ شفقت و مہربانی فرماتے ہوئے چار پانچ قومی مجرموں کے سوا باقی سب کو معاف فرما دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مکہ اور حجاز کے لوگ جوق در جوق اور فوج در فوج حلقہ اسلام میں داخل ہوئے۔ اس کے باوجود کچھ مشرکین ایسے تھے کہ جو اس امید پر رومیوں اور یہودیوں کے ساتھ مل کر ساز باز کرتے رہتے کہ عنقریب سلطنت رومہ کا حکمران قیصر مسلمانوں کو تہس نہس کر دے گا۔ خاص کر غزوۂ تبوک کے موقع پر مشرکین کے حوصلے اس قدر بڑھے کہ وہ سمجھتے تھے کہ اب مسلمانوں کا باقی رہنا چند دنوں کی بات ہے۔ ایسی صورت حال میں بیت اللہ کے تقدس اور اس کی مرکزیت کا تقاضا تھا کہ مشرکین کو ہمیشہ کے لیے یہاں سے نکال دیا جائے۔ چنانچہ ٨ ہجری میں مکہ فتح ہوا اور ٩ ہجری کو اللہ کے پاک نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو بکر (رض) کو امیر حج بنا کر روانہ فرمایا ابھی حجاج کا قافلہ راستے میں تھا کہ مدینہ میں آپ پر اس سورۃ مبارکہ کی تیس کے قریب آیات نازل ہوئیں۔ جن میں دو ٹوک اور قطعی طور پر اعلان کیا گیا کہ اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکین سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ اس کے لیے آپ نے حضرت علی (رض) کو بھیجا کیونکہ اس زمانے میں کسی اہم عہد کی منسوخی، کے لیے قوم کا نمائندہ خود اعلان کرتا یا قریبی عزیز کے ذریعے اعلان کروایا جاتا تھا۔ آپ نے حضرت علی (رض) کو فرمایا کہ آپ میرے نمائندہ بن کر چار باتوں کا اعلان کریں حضرت علی (رض) تیز رفتاری کے ساتھ امیر حج حضرت ابو بکر صدیق (رض) کی خدمت میں پہنچے امیر حج نے ان سے استفسار فرمایا۔ امیرًاومامورًا کہ آپ امیر حج بن کر تشریف لائے ہیں یا مامورکی حیثیت سے ؟ حضرت علی (رض) نے عرض کی میں ماتحت کی حیثیت سے حاضر ہوا ہوں کیونکہ میرے ذمہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک اعلان کرنے کی ڈیوٹی لگائی ہے۔ چنانچہ انھوں نے جمرہ، عقبیٰ کے قریب کھڑے ہو کر اعلان فرمایا کہ یہ برأت کا اعلان اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ یہاں برأت کا اعلان اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہے جب کہ معاہدہ کی نسبت مسلمانوں کی طرف سے کی گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیبیہ کا معاہدہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق ہوا تھا کیونکہ جب حضرت عمر (رض) نے اس پر اعتراض کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا کہ میں اللہ کا رسول ہوں لہٰذا یہ معاہدہ صرف آپ کی طرف سے ہی نہیں تھا بلکہ تمام صحابہ نے اسے تسلیم کیا جس وجہ سے اسے مسلمانوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ١۔ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے کیے ہوئے عہد سے برأت کا اعلان کرتے ہیں۔ ٢۔ مشرکین چار مہینے کے اندر حدود حرم کو ہمیشہ کے لیے خالی کردیں۔ اس کے بعد کوئی مشرک حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ٣۔ اگر تم ایمان لے آؤ تو دنیا اور آخرت میں تمھارے لیے بہتر ہوگا۔ ٤۔ اے مشرکو تم کبھی اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے۔ تمھارے لیے دنیا میں ذلت اور آخرت میں شدید ترین عذاب ہوگا۔ ٥۔ جن مشرکوں نے اپنے عہد کی پاسداری کی ہے اس عہد کی تکمیل کی جائے گی۔ ٦۔ آئندہ کوئی شخص برہنہ طواف نہیں کرسکتا۔ ٧۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے بغیر کوئی آدمی جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں سے برأت کا اعلان فرما دیا۔ ٢۔ کوئی بھی مشرک حدود حرم میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ٣۔ اللہ کافروں کو ذلیل و رسوا کرے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کفار اور مشرکوں کو دنیا میں ہی ذلیل کرتا ہے : ١۔ ہجرت کے موقعہ پر کفار ذلیل ہوئے۔ (التوبۃ: ٤٠) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کے موقعہ پر مسلمانوں کو فتح سے ہمکنارفرما کر کفار کو ذلیل کیا۔ (آل عمران : ٢٣ اتا ١٢٧) ٣۔ فتح مکہ کے موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے کفار کو ذلیل و خوار کیا۔ (الفتح : ١) ٤۔ غزوۂ حنین میں مشرک شکست فاش سے دو چار ہو کر ذلیل ہوئے۔ (التوبۃ: ٢٦) ٥۔ جنگ خندق میں کفار اور اہل کتاب ذلیل ہوئے۔ (الاحزاب : ٢٥ تا ٢٧)