سورة الانفال - آیت 29

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَتَّقُوا اللَّهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! اگر سے ڈرتے رہو گے ، تو وہ تمہارے لئے (مخالفین کی نسبت) فیصلہ کر دے گا ، اور تمہارے گناہ دور کر دے گا اور تمہیں بخشے گا ، اور اللہ بڑے (ہی) فضل والا ہے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مسلمانوں کو ہدایات کا سلسلہ جاری ہے۔ مال اور اولاد کے فتنہ سے بچنے کا موثر طریقہ یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی گناہوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کرے اور شریعت کے ضابطوں پر عمل پیرا رہے۔ یہی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا مقصد ہے۔ جو مسلمان جلوت اور خلوت میں اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ کو اس کے لیے فرقان بنا دے گا۔ فرقان قرآن مجید کا اسم مبارک ہے اور معجزہ کو بھی فرقان کہا گیا ہے اس کا معنیٰ ہے حق اور باطل، سچ اور جھوٹ، غلط اور صحیح کے درمیان امتیاز کردینے والا۔ جب کوئی مسلمان صرف اپنے رب کی رضا کی خاطراس کا ڈر اختیار کرتا ہے تو پھر اس کے ضمیر میں ایسی قوت اور نور پیدا ہوتا ہے۔ جس کی روشنی میں اسے حرام کاموں سے بچنا آسان ہوجاتا ہے گویا کہ اس کی زندگی میں معجزانہ تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ گناہ وہ ہے جسے انسان کا دل محسوس کرے۔ اس کے ساتھ ہی تقویٰ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کی غلطیوں سے صرف نظر کرکے اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی فضل کرنے والا ہے۔ تقویٰ اختیار کرنے سے نہ صرف انفرادی مسائل حل ہوتے ہیں بلکہ اس سے زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھلتے ہیں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ تقویٰ کا مقام انسان کا دل ہے۔ اور دل انسانی جسم میں قوت متحرکہ کا کام دیتا ہے۔ دل کی حرکت بند ہوجائے تو انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ اگر دل روحانی طور پر مردہ ہوجائے تو جیتا جاگتا اور چلتا پھرتا انسان روحانی اور اخلاقی طور پر مردہ ہوجاتا ہے۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا یَبِعْ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ وَکُونُوا عِبَاد اللّٰہِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا یَظْلِمُہٗ وَلَا یَخْذُلُہٗ وَلَا یَحْقِرُہٗ التَّقْوٰی ہَاہُنَا وَیُشِیرُ إِلَی صَدْرِہٖ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ۔۔) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تحریم ظلم المسلم] ” حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا با ہم حسد نہ کرو اور ایک دوسرے پر بو لی نہ بڑھاؤ اور بغض نہ رکھو اور قطع تعلقی نہ کرو اور تم میں سے کوئی دوسرے کے سودے پر تجارت نہ کرے اللہ کے بندو بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ وہ اپنے بھائی پر ظلم کرتا ہے نہ اسے ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے حقیر سمجھتا ہے تقویٰ اس جگہ ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ فرمایا۔۔“ (عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سِمْعَانَ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ سَأَلْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ فَقَالَ الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ وَالْإِثْمُ مَا حَاکَ فِی صَدْرِکَ وَکَرِہْتَ أَنْ یَطَّلِعَ عَلَیْہِ النَّاسُ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ، باب تفسیر البر والاثم] ” حضرت نواس بن سمعان انصاری (رض) کہتے ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیکی اور گناہ کے متعلق پوچھا آپ نے فرمایا نیکی حسن اخلاق ہے اور برائی جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تو ناپسند کرے کہ اس کے متعلق لوگوں کو پتہ چل جائے۔“ مسائل ١۔ مسلمان کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ کا خوف مسلمان کے لیے حق و باطل کا معیار بن جاتا ہے۔ ٣۔ تقویٰ اختیار کرنے والے کے۔ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کردیتا ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ بڑا فضل وکرم والا ہے۔ تفسیر بالقرآن تقویٰ کے فوائد : ١۔ متقین کے لیے کامیابی ہے۔ (الانبیاء : ٣١ تا ٣٣) ٢۔ متقین کے لیے ان کے رب کے پاس نعمتوں والی جنت ہے۔ (القلم : ٣٤) ٣۔ متقی کا ہر کام آسان اور اس کی سب خطائیں معاف اور ان کے لیے بڑا اجر ہوگا۔ (الطلاق : ٤ تا ٥) ٤۔ متقین اولیاء اللہ ہیں جو بے خوف ہوں گے۔ ( یونس : ٦١ تا ٦٤)