سورة الانفال - آیت 19

إِن تَسْتَفْتِحُوا فَقَدْ جَاءَكُمُ الْفَتْحُ ۖ وَإِن تَنتَهُوا فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَإِن تَعُودُوا نَعُدْ وَلَن تُغْنِيَ عَنكُمْ فِئَتُكُمْ شَيْئًا وَلَوْ كَثُرَتْ وَأَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(اے اہل مکہ) اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو فیصلہ تم کو پہنچ چکا ، اب اگر تم باز آؤ ، تمہارے لئے بہتر ہے ، اور جو تم مڑ کے آؤ گے ، ہم بھی مڑ کے آئیں گے ، اور تمہاری جمعیت کچھ تمہیں مفید نہ ہوگی ، اگرچہ بہت ہو ، اور اللہ مسلمانوں کے ساتھ ہے (ف ١) ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ بدر کی ذلت کے بعد کفار کو انتباہ۔ قریش خاندانی سردار اور بیت اللہ کے متولی ہونے کی وجہ سے پوری دنیا میں معزز اور محترم سمجھے جاتے تھے۔ اس پر انھیں بڑا ناز اور فخر تھا۔ لیکن حق کی پے درپے مخالفت اور بدر میں ذلت ناک شکست کی وجہ سے اس قدر ذلیل ہوئے کہ ان کا نام اور مقام خاک میں مل گیا۔ یہاں مفسرین نے ایک عجب واقعہ نقل کیا ہے کہ بدر کی طرف نکلنے سے پہلے۔ سرداران قریش اور ابو جہل نے بیت اللہ کا غلاف پکڑ کر یہ دعا کی کہ اے کعبہ کے رب ! تیری نگاہ میں مسلمانوں اور ہم میں جو حق پر ہے اسے کامیابی عنایت فرما۔ (جامع البیان ) ہو سکتا ہے یہاں اسی بات کی طرف اشارہ ہو کہ جس حق کے لیے تم فتح کے طلبگار ہوئے تھے اس حق پر صرف نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے ساتھی ہیں۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے فتح سے ہمکنار فرمایا۔ لہٰذا تمھاری دعا کے نتیجہ میں جب حق ظاہر ہوچکا تو پھر تمھیں اس حق کی مخالفت سے باز آنا چاہیے۔ یہی تمھاری دنیا و آخرت کے لیے بہتر ہے۔ اگر تم باز آنے کے بجائے پھر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے پلٹو گے تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی پہلے کی طرح امداد کرے گا اور تمھیں تمھاری عددی قوت اور جنگی ساز و سامان کی کثرت کا کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کا ساتھی ہے۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا اور دین کی سربلندی کے لیے اپنے وسائل کو یکجا کرکے متحد ہو کر نکلے تو کفار کی کثرت اور ساز و سامان کی بہتات انھیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکی۔ وہ اپنے سے کمزور اور تھوڑے مسلمانوں کے مقابلہ میں ہمیشہ ذلیل و خوار ہوئے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو تو کفار کی کثرت مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ٢۔ اگر کلمہ گو پکے مومن ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہمیشہ مدد فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ کی مدد کے بغیر جنگ میں ا کثریت کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی : ١۔ تھوڑی جماعتیں اللہ کی مدد سے بڑی جماعتوں پر غالب آگئیں۔ (البقرۃ: ٢٤٩) ٢۔ اے ایمان والو! جب تمھارا کسی لشکر سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ سے مدد کی دعا کرو۔ (الانفال : ٥٣) ٣۔ نہیں ہے کوئی گروہ جو ان کی مدد کرے اللہ تعالیٰ کے سوا۔ (الکہف : ٤٣) ٤۔ بدر میں دو جماعتوں کے لڑنے میں تمھارے لیے عبرت تھی۔ اللہ طاقت دیتا ہے اپنی مدد سے جسے چاہتا ہے۔ (آل عمران : ١٣) ٥۔ تم ہی غالب رہو گے بشرطیکہ تم مومن بن جاؤ۔ ( آل عمران : ١٣٩) تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کن لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے : ١۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ (البقرۃ: ١٥٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (التوبۃ: ٣٦) ٣۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے۔ (النساء : ١٤٦) ٤۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں کے ساتھ ہے۔ (النحل : ١٢٨) ٥۔ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنیوالوں اور نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔ (النحل : ١٢٨)