سورة الانفال - آیت 9

إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُم بِأَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

جب تم نے اپنے رب سے فریاد کی سو اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی کہ میں ایک ہزار فرشتے لگاتار بھیج کر تمہاری مدد کروں گا ۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مدینہ طیبہ سے نکلنا، اللہ تعالیٰ کی مشیت کے عین مطابق تھا۔ آپ نے بدر کے ریتلے علاقہ میں پڑاؤ ڈالا جس کا نقشہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات بھر اپنے رب کی بار گاہ میں آہ و زاری کے ساتھ دعا کرتے رہے۔ جس میں آپ اس حد تک اپنے رب کے حضور فریاد کناں ہوئے کہ اے بار الہا! اگر یہ مٹھی بھر مسلمان ختم ہوگئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان الفاظ کے پیچھے دو قسم کے محرکات تھے۔ ایک تو اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں انتہا درجہ کی عاجزی اور بے کسی کا اظہار۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اگر مکے کے لوگ آج غالب آگئے تو وہ اگلے دن مدینہ میں کسی ایک مسلمان کو زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی جذبات کے ساتھ اہل مکہ نے بدر کی طرف پیش قدمی کی تھی۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا کے بارے میں جمع کا جو لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جس میں صحابہ کرام (رض) کو شامل فرمایا گیا ہے۔ امام رازی نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے تھے اور آپ کے کیمپ میں موجود صحابہ آمین کہتے تھے اس کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے۔ جو فطرت کے زیادہ قریب ہے کہ تمام صحابہ رات کے وقت اپنے اپنے مقام پر اللہ تعالیٰ سے آرزوئیں کرتے رہے کہ اے مولائے کریم ! صبح دشمن کے مقابلے میں ہمیں کامیابی نصیب فرمانا۔ کوئی جنگ اس وقت تک نہیں جیتی جا سکتی جب تک فوج کا ایک ایک سپاہی اپنی کامیابی اور دشمن کو ختم کرنے کے جذبات سے لبریز نہ ہو۔ اسی جذبہ کی یہاں ترجمانی کی گئی ہے کہ جب آپ اور آپ کے صحابہ اپنے رب کی بار گاہ میں فتح کی التجائیں کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعے انھیں ایک ہزار فرشتے نازل کرنے کی خوشخبری سنائی۔ (آل عمران ١٢٣، ١٢٤) یہ کمک اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کی مدد، ان کے لیے فتح کی خوشخبری کا پیش خیمہ اور اطمینان قلب کا ذریعہ بنی۔ مدد کے لیے فرشتہ تو ایک ہی کافی تھا لیکن انسانی نفسیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے پے درپے اس مدد میں اضافہ فرما کر نہتے اور کمزور صحابہ (رض) کو شیروں سے زیادہ بہادر اور طاقت ور بنا دیا اور پھر اس کے ساتھ یہ کرم بھی فرمایا کہ رات کو تمام صحابہ (رض) کو خوب نیند آئی حالانکہ حالت جنگ میں نیندبہت ہی کم آیا کرتی ہے۔ کیونکہ خوف و خطر کی بنا پر اعصاب میں شدید تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ مزید اللہ کا یہ کرم ہوا کہ رات کو اچھی خاصی رحمت کی برکھا برسی جس سے میدان جنگ کی صورت حال واضح طور پر صحابہ کے حق میں ہوگئی اس سے پہلے اسلامی فوج میدان کے اوپر کی طرف تھی جو ریت اور ڈھلوان ہونے کی وجہ سے پاؤں کے پھسلنے کا مقام تھا۔ بارش ہونے کی وجہ سے کفار کا میدان دلدل بنا اور صحابہ (رض) کا حصہ ریت جمنے کی وجہ سے سخت ہوگیا۔ صحابہ (رض) نے بارش کا پانی جمع کرلیا جس سے صحابہ نے وضو اور غسل کیے۔ اس سے صحابہ اپنے آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر بھی تازہ دم محسوس کر رہے تھے۔