سورة البقرة - آیت 104

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ

ترجمہ سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

مومنو ! تم (رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو) راعنا نہ کہا کرو اور انظرنا کہا کرو ، اور سنتے رہو ، اور کافروں کے لئے دکھ کا عذاب ہے (ف ١)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : یہودی جبریل امین، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور پہلے انبیاء کے بدترین گستاخ تھے اور ہیں اسی عادت خبیثہ کی وجہ سے نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخیاں کیا کرتے ہیں جس کی سزا جہنم قرار دی گئی ہے۔ ہر زبان میں کچھ الفاظ ایسے ہوتے ہیں جو دوسری زبان سے ملتے جلتے اور ہم آواز ہوتے ہیں۔ عربی کے جو الفاظ عبرانی زبان سے مشابہت اور مماثلت رکھتے ہیں ان میں ایک لفظ ” راعنا“ ہے۔ جس کو ذرا کھینچ کر ادا کیا جائے تو اس کے معانی بنتے ہیں احمق‘ اجڈ اور چرواہا۔ مسلمانوں کی عزت، اسلام کی عظمت ورفعت اور نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احترام واکرام میں روز افزوں اضافہ دیکھ کر یہودی اپنے دلوں میں کڑھتے اور جلتے رہتے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے وہ کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں آپ کی مجلس میں آتے تو آپ کی گفتگو کے دوران ” راعنا“ کا لفظ استعمال کر کے یہ تأثر دینے کی کوشش کرتے کہ ہم آپ کی بات کو سمجھ نہیں سکے۔ بسا اوقات فہم کلام کے لیے مسلمان بھی آپ کی خدمت میں ” رَاعِنَا“ عرض کرتے لیکن دونوں کی ادائیگی اور نیت میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ صحابہ کا مقصد یہ تھا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھوڑاسا توقف فرمائیں تاکہ آپ کا ارشاد سمجھنے میں آسانی ہو۔ یہودی گستاخی کے انداز میں بولتے اور بعد ازاں اپنی مجلسوں میں مسلمانوں کا مذاق اڑاتے کہ دیکھو ان کا نبی اور یہ لوگ کس قدر نادان اور بیوقوف ہیں کہ انہیں اس لفظ کا مفہوم سمجھ نہیں آتا۔ اس موقع پر ارشاد خداوندی نازل ہوا کہ اے مسلمانو! اب کے بعد اس ذو معنیٰ لفظ کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دو۔ اس کی بجائے ” انظرنا“ کا لفظ استعمال کیا کرو جس کا معنٰی ہے اے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف نظر التفات فرمائیں۔ پھر جو کچھ آپ کی زبان اقدس سے الفاظ جاری ہوں انہیں پوری توجہ اور اخلاص کے ساتھ سنا کرو۔ ” وَاسْمَعُوْا“ کا لفظ استعمال فرما کر یہ اشارہ بھی دیا کہ دوران خطاب متکلم کو ٹوکنا سننے والے کی عدم توجہ کی دلیل ہوا کرتا ہے۔ لہٰذا سامع کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کے کلام کو ایسے انہماک کے ساتھ سنے کہ حتی الوسع اسے استفسار کرنے کی حاجت پیش نہ آئے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے کلام کو عدم توجہ اور بد نیتی کے ساتھ سننے کی بجائے ہمہ تن گوش ہو کر سننا اور ماننا چاہیے۔ یہ بھی انتباہ فرمایا کہ رسول خدا کی گستاخی کرنا کفر ہے۔ یہودی انبیاء کے گستاخ نوح (علیہ السلام) اور شراب : بائبل میں لکھا ہے کہ ” اس نے مے پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہوگیا۔“ اس کے بیٹے حام نے انہیں اس حالت میں دیکھا۔ (پیدائش ٦: ٩‘ ٩ : ٢٠۔ ٢٢) لوط (علیہ السلام) اور ان کی بیٹیاں : بائبل کے بیان کے مطابق‘ لوط (علیہ السلام) کی دو سگی بیٹیوں نے انہیں شراب پلائی اور پھر باری باری ان سے ہم آغوش ہوئیں۔ (نعوذ باللہ) حتی کہ لوط (علیہ السلام) کی یہ دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں اور ان سے ایک ایک بیٹا پیدا ہوا۔ (پیدائش ١٩: ٣٠۔ ٣٨) حضرت داؤد (علیہ السلام) کے بیٹوں پر الزام : بائبل کے بیان کے مطابق‘ داؤد کا بیٹا امنون بھی عشق اور زناکاری کے مرحلہ سے گزرا‘ اور اس نے یہ کام اپنی سوتیلی بہن تمر سے کیا۔ اس نے مقصد برآوری کے لیے فریب اور جھوٹ سے کام لیا اور دھوکہ سے بہن کو الگ کمرہ میں بلا کر اس سے زبردستی کی۔ داؤد نے یہ سب سنا تو ” نہایت غصہ ہوا“ مگر امنون کو پورے دو سال تک کوئی سزا نہ ملی۔ یہاں تک کہ داؤد کے ایک دوسرے بیٹے اور تمر کے سگے بھائی ابی سلوم نے دھوکہ سے امنون کو مروا کر اپنی بہن کا بدلہ لے لیا۔ (سموئیل۔ باب ١٣) حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر شرک کا الزام : ” اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے۔۔ محبت کرنے لگا۔۔ اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اور تین سو حر میں تھیں۔ اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اس کا دل خداوند کے ساتھ کامل نہ رہا، جیسا کہ اس کے باپ داؤد کا دل تھا۔۔ سلیمان نے خداوند کے آگے بدی کی اور اس نے خداوند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اس کے باپ داؤد نے کی تھی۔ (سلاطین ١: ١۔ ٤) گستاخ اور شاتم رسول کی سزا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت و تکریم مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے۔ آپ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں سخت ترین عذاب میں مبتلا ہوگا اور دنیا میں واجب القتل ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اور اسلام کے بے شمار دشمنوں کو معاف فرما دیا لیکن چند بدبختوں کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ کعبہ کے پردوں سے چمٹ جائیں تو بھی انہیں قتل کردیا جائے۔ یہ فرمان ذاتی انتقام پسندی کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) اور صحابہ کرام (رض) کی گواہی ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کبھی کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ شاتم رسول دوسروں کے دلوں سے عظمت و احترام رسول گھٹانے کی کوشش کرتا اور ان میں کفر و نفاق کے بیج بوتا ہے۔ اس لیے توہین رسول کو برداشت کرلینا، ایمان سے ہاتھ دھونے اور دوسروں کے ایمان چھن جانے کا راستہ کھولنے کرنے کے مترادف ہے۔ نیز رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چونکہ ہر زمانے کے مسلمانوں کی محبت عقیدت کا مرکز و محور ہے اور اس کے بغیر مسلمان کا ایمان اللہ کی بارگاہ میں قبول نہیں ہے اس لیے جو زباں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر طعن کے لیے کھلتی ہے۔ اگر اسے کاٹا نہ جائے اور جو قلم آپ کی گستاخی کے لیے اٹھتا ہے اگر اسے توڑا نہ جائے تو اسلامی معاشرہ اعتقادی و عملی فساد کا شکار ہو کر رہ جائے گا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نازیبا الفاظ کہنے والا امام ابن تیمیہ (رض) کے الفاظ میں ساری امت کو گالی دیتا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے ایمان اور غیرت کی خاطر گستاخی کرنے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ امام ابن تیمیہ (رض) اپنی کتاب ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ میں فرماتے ہیں کہ ائمہ اہلحدیث امام احمد (رض) اور امام مالک (رض) کے نزدیک شاتم رسول کی توبہ اسے قتل کی سزا سے نہیں بچا سکتی جبکہ امام شافعی (رض) سے اس سلسلہ میں توبہ کے قبول و عدم قبول کے دونوں قول منقول ہیں۔ البتہ امام ابو جعفر (رض) کے نزدیک اگر وہ سزا سے پہلے توبہ کرے تو سزا سے بچ سکتا ہے۔ امام ابن تیمیہ (رض) اکثر محدثین اور فقہا کی طرح اس بات کے قائل ہیں کہ شاتم رسول توبہ کے باوجود قتل کی سزا کا مستحق ہے۔ انہوں نے اس سلسلہ میں اپنی کتاب کے مختلف مقامات پر جو دلائل دیے ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔ (١)۔ شاتم رسول فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی توبہ سے اس بگاڑ کی تلافی نہیں ہوسکتی جو اس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کیا ہے۔ (٢)۔ اگر توبہ کی وجہ سے سزا نہ دی جائے تو اس سے دوسرے بدبختوں کو جرأت ہوگی کہ وہ جب چاہیں توہین رسول کا ارتکاب کریں اور جب چاہیں توبہ کر کے سزا سے بچ جائیں۔ اس طرح غیروں کو موقع ملے گا کہ وہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو بازیچۂ طفلاں بنا لیں گے۔ (٣)۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت وتحقیر کے جرم کا تعلق حقوق اللہ سے بھی ہے اور حقوق العباد سے بھی۔ حقوق اللہ اللہ تعالیٰ چاہے معاف کر دے مگر حقوق العباد میں زیادتی اس وقت تک معاف نہیں ہوتی جب تک متعلقہ مظلوم اسے معاف نہ کرے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حیات مبارکہ میں اگر کسی کا یہ جرم معاف کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے۔ مگر اب اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ امت مسلمہ یا مسلمان حاکم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نیابۃً اس جرم کو معاف کرنے کا حق نہیں رکھتے۔ (٤)۔ قتل، زنا، سرقہ جیسے جرائم کے بارے میں بھی اصول یہی ہے کہ ان کا مجرم سچی توبہ کرنے سے آخرت کی سزا سے بچ سکتا ہے‘ مگر دنیاوی سزا سے نہیں۔ یہ ممکن نہیں کہ قاتل‘ زانی یا چور گرفتار ہوجائے اور کہے کہ میں نے جرم تو کیا ہے مگر اب توبہ کرتا ہوں تو اسے چھوڑ دیا جائے اسے ہر صورت سزا دی جائے گی۔ اسی طرح شاتم رسول کا مرتکب بھی جرم کے بعد توبہ کا اظہار کرے تو دنیاوی سزا سے نہیں بچ سکتا اور اس کا جرم مذکورہ جرائم سے زیادہ سنگین ہے۔ گستاخ رسول کے بارے میں احکامات (اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاَعدَّلَہُمْ عَذَابًا مُہِیْنًا) (الأحزاب : ٥٧) ” بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف دیتے ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیا و آخرت میں ان پر لعنت ہے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔“ گستاخ رسول کا قتل : ( اِنَّ أعْمٰی کَانَتْ لَہٗ اُمُّ وَلَدٍ تَشْتُمُ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَ تَقَعُ فِیْہِ فَیَنْہَا ہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَیَزْجُرُہَا فَلَا تَنْزَجِرُ فَلَمَّا کَانَتْ ذَاتَ لَیْلَۃٍ جَعَلَتْ تَقَعُ فِی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَتَشْتُمُہٗ فَاخَذَا لْمِغْوَلَ فَوَ ضَعَہٗ فِیْ بَطْنِہَا وَتَّکَأَ عَلَیْہَا فَقَتَلَہَا فَلَمَّا أَصْبَحَ ذُکِرَ ذَلِکَ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَجَمَعَ النَّاسَ فَقَالَ اُنْشِدُ رَجُلًا فَعَل مَا فَعَلَ لِیْ عَلَیْہِ حَقُّٗ اِلَّا قَامَ قَالَ فَقَامَ الْاَعْمٰی یَتَخَطَّی النَّاسَ وَہُوَ یَتَدَلْدَلُ حَتّٰی قَعَدَبَیْنَ یَدَیِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَنَا صَاحِبُہَا کَانَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاَنْہَاہَا فَلَا تَنْتَہِیْ وَأَزْجُرُہَا فَلاَ تَنْزَجِرُ وَلِیَ مِنْہَا اِبْنَانِ مِثْلُ الْلُؤلُؤَتَیْنِ وَکَانَتْ بِیْ رَفِیْقَۃً فَلَمَّا کَانَ الْبَارِحَۃُ جَعَلَتْ تَشْتُمُکَ وَتَقَعُ فِیْکَ فَاخَذْتُ الْمِغْوَلَ فَوَضَعْتُہُ فِیْ بَطْنِہَا وَاتَّکَأْتُ عَلَیْہِ حَتّٰی قَتَلْتُہَا فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَلَا أَشْہِدُوْا أَنَّ دَمَہَا ہَدَرٌ) (رواہ ابوداؤد : کتاب الحدود باب الحکم فیمن سب النبی) ” ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے منع کرتا۔ وہ گالیاں دینے سے باز نہیں آتی تھی وہ اسے جھڑکتا تھا۔ مگر وہ نہ رکتی تھی۔ ایک رات اس لونڈی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالیاں دینا شروع کیں تو نابینا صحابی نے ایک چھرا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کرتے ہوئے اسے زور سے دبایا جس سے وہ مر گئی۔ صبح اس کا ذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوا تو آپ نے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا۔ میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا‘ جو کچھ کیا۔ میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ بات سن کر ایک نابینا صحابی کھڑا ہوا۔ اضطراب کی کیفیت میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! میں اسے منع کرتا تھا مگر وہ اس کی پروا نہیں کرتی تھی۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں اور وہ میری رفیقۂ حیات تھی۔ گزشتہ رات جب وہ آپ کو گالیاں دینے لگی تو میں نے چھرا لے کر اس کے پیٹ میں پیوست کرتے ہوئے اسے زور سے دبایا یہاں تک کہ وہ مر گئی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گفتگو سننے کے بعد فرمایا تم گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں ہوا۔“ حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : (قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ سَبَّ نَبِّیًا قُتِلَ وَمَنْ سَبَّ اَصْحَابَہٗ جُلِدَ) (رواہ الطبرانی فی الصغیر صفحہ 236 جلد 1) ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے اس کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں۔“ مشرک گستاخ رسول کا قتل : (اِنَّ رَجُلًا مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ شَتَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ یَّکْفِیْنِیْ عَدُوِّی فَقَام الزُّبَیْرُ بْنُ الْعَوَّامِ فَقَالَ اَنَا فَبَارَزَہٗ فَاَعْطَاہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سَلَبَہٗ) (الصارم المسلول ١٧٧) ” مشرکین میں سے ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے اس دشمن کی کون خبر لے گا؟ تو حضرت زبیر بن عوام کھڑے ہو کر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔ حضرت زبیر (رض) نے اسے قتل کردیا۔ تو رسول اللہْ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا سامان زبیر کو دے دیا۔“ ابو لہب کا عبرت ناک انجام : سورۃ لہب کے نزول پر ابھی آٹھ سال ہی گزرے تھے کہ جنگ بدر میں بڑے بڑے سرداران قریش مارے گئے۔ مکہ میں بدر کی شکست کی اطلاع پہنچی تو سب سے زیادہ دکھ اور رنج ابولہب کو ہوا۔ یہ اسی صدمے اور رنج میں بیمار پڑگیا۔ ساتویں روز بیماری کوڑھ کی شکل اختیار کرگئی۔ جس وجہ سے اس کے گھر والوں نے اسے چھوڑ دیا اور اس کے بیٹوں نے اس کے ساتھ کھانا پینا ترک کردیا۔ بالآخر وہ نہایت بے کسی کی موت مرا۔ مرنے کے بعد بھی اس کے بیٹے اس کے قریب نہ گئے یہاں تک کہ اس کی لاش سے بو پھیلنے لگی۔ تب لوگوں نے اس کے بیٹوں کو طعنے دیے تو انہوں نے ایک حبشی کو مزدوری دی۔ جس نے گڑھا کھودا اور لکڑی سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینکا اور مٹی ڈال دی۔ گستاخ رسول کو قبر نے باہر پھینک دیا : حضرت انس (رض) فرماتے ہیں : (کَانَ رَجُلٌ نَصْرانِیًّا فَأسْلَمَ وَقَرَأَ الْبَقَرَۃَ وَآلَ عِمْرَانَ فَکَانَ یَکْتُبُ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَعَادَ نَصْرَانِیًّا فَکَانَ یَقُوْلُ مَایَدْرِی مُحَمَّدٌ الاَّ مَا کَتَبْتُ لَہٗ فَأَمَاتَہُ اللّٰہُ فَدَ فَنُوْہُ فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْ ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَ اَصْحَابِہٖ لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ فَأَعْمَقُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَقَالُوْا ہَذَا فِعْلُ مُحَمَّدٍ وَاَصْحَابِہٖ نَبَشُوْا عَنْ صَاحِبِنَا لَمَّا ہَرَبَ مِنْہُمْ فَأَلْقَوْہُ فَحَفَرُوْا لَہٗ وَأَعْمَقُوْا لَہٗ فِی الْاَرْضِ مَاسْتَطَاعُوْا فَأَصْبَحَ وَقَدْ لَفَظَتْہُ الْاَرْضُ فَعَلِمُوْا اَنَّہُ لَیْسَ مِنَ النَّاسِ فَالْقَوْہُ) (رواہ البخاری : کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام) ” ایک شخص عیسائی تھا وہ مسلمان ہوگیا سورۃ بقرۃ اور آل عمران پڑھ چکا تھا وہ کاتب وحی تھا۔ پھر وہ مرتد ہو کر عیسائی ہوگیا اور کہنے لگا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا اسے کچھ معلوم نہیں۔ اس کی موت واقع ہوگئی تو اس کے ساتھیوں نے اسے دفن کیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر کی بجائے زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائیوں نے کہا کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا۔ اس لیے انہوں نے قبر کھود کر لاش کو باہر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر کھودی جو بہت گہری تھی لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی جتنی گہری ان کے بس میں تھی اور اس میں ڈال دیا لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر پڑی تھی۔ اب انہیں یقین ہوگیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں بلکہ یہ آدمی عذاب خداوندی میں گرفتار ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے یونہی زمین پر پھینک دیا۔“ امام احمد بن حنبل a: (کُلُّ مَنْ شَتَمَ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اَوْ تَنَقَّصَہٗ مُسْلِمًا کَانَ اَوْ کَافِرًا فَعَلَیْہِ الْقَتْلُ وَأَرٰی اَنْ یُقْتَلَ وَلَا یُسْتَتَابَ) (الصارم المسلول : ٣٣) ” جو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دیتا ہے یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا کافر اس کا قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کرنے کی مہلت نہ دی جائے بلکہ فوراً قتل کردیا جائے۔“ امام مالک (رح) : خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک (رض) سے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے کے بارے میں پوچھا۔ امام مالک (رح) نے فرمایا : (مَابَقَاءَ الْاُمَّۃِ بَعْدَ شَتْمِ نَبِیِّہَا) (الشفاء للقاضی عیاض : ٢/٢٣٣) ” اس امت کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں جس کے نبی کو گالیاں دی جائیں۔“ امام ابن تیمیہ (رح) : (اِنَّ مَنْ سَبَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مِنْ مُسْلِمٍ اَوْ کَافِرٍ فَاِنَّہ یَجِبُ قَتْلُہُ ہَذَا مَذْہَبُ عَامَۃِ اَہْلِ الْعِلْمِ) (الصارم المسلول : ٣١) ” جو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے۔“ ستمبر ٢٠٠٥ ء میں ڈنمارک کے بدنام زمانہ صحافی نے رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خاکے شائع کیے جس سے تو پورے عالم اسلام میں ایسا اضطراب پیدا ہوا کہ مسلمان تڑپ اٹھے اور پوری دنیا میں جلوس، ہڑتالیں اور بے مثال مظاہرے ہوئے اس میں سعودی عرب نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ ڈنمارک کے گستاخانہ عمل کی وجہ سے سعودی عرب نے عالم اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے ٢٦ جنوری کو ڈنمارک سے اپنا سفیر واپس بلا لیا اور سعودی عرب سے ڈنمارک کی اشیاء کے بائیکاٹ کا آغاز ہوگیا جو تمام عرب ریاستوں‘ مصر‘ لیبیا‘ ایران اور دوسرے مسلمان ممالک تک پھیل گیا۔ ٤ فروری کو پاکستان نے ڈنمارک‘ ناروے‘ فرانس‘ جرمنی‘ اٹلی‘ سپین‘ سوئٹزر لینڈ‘ ہینگری‘ ہالینڈ اور جمہوریہ چیک ری پبلک کے سفیروں کو طلب کر کے گستاخانہ خاکوں کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ پاکستان نے خاکوں کے شائع کرنے والے ممالک سے ادویات درآمد کرنے پر پابندی لگا دی‘ فرانس اور ڈنمارک کی چار میڈیسن کمپنیوں کی تقریباً ایک سو گیارہ ادویات پاکستانی میڈیکل سٹورز پر فروخت کی جاتی تھیں۔ ڈاکٹرز صاحبان نے ان ادویات کے بجائے متبادل ادویات تجویز کردیں۔ شام، لبنان اور لیبیا میں ڈنمارک کے سفارت خانوں کو آگ لگا دی گئی۔ مسلم ممالک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا۔ بس جس ملک سے جو بن پڑا اور جس دینی‘ سیاسی اور رفاہی تنظیم سے جو ہوسکا اس نے اپنی اسلامی غیرت کا ثبوت فراہم کرکے اپنے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ جس کو دیکھ کر عالم کفر کے بعض حکمرانوں اور اخبارات کے ایڈیٹرز اور مالکان نے معذرت کا رویہ اپنایا جن میں چند ایک یہ ہیں : ناروے کے اخبار کے ایڈیٹر انچیف ” ویجیو ان سیلبک“ نے معافی مانگی جس کو ناروے کی اسلامی کونسل نے قبول کرلیا۔ فرانس کے اخبار کے مالک نے ایڈیٹر کو نوکری سے برطرف کردیا۔ ٣١ جنوری کو ڈنمارک کے اخبار نے معافی نامہ جاری کیا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے معافی مانگی۔ مسائل ١۔ ذو معنٰی لفظ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ ٢۔ کلام اللہ اور حدیث رسول توجہ کے ساتھ سننی چاہیے۔ ٣۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گستاخ کافر اور واجب القتل ہے۔