سورة الزمر - آیت 9

أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِدًا وَقَائِمًا يَحْذَرُ الْآخِرَةَ وَيَرْجُو رَحْمَةَ رَبِّهِ ۗ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ

ترجمہ سراج البیان - مستفاد از ترجمتین شاہ عبدالقادر دھلوی/شاہ رفیع الدین دھلوی

بھلا کیا وہ جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے سجدہ کرتا اور کھڑا رہتا ہے ۔ آخرت کا خطرہ رکھتا ہے ۔ اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہے ۔ (نافرمان کے برابر ہوجائیگا) تو کہہ کیا کہیں برابر ہوتے ہیں وہ جو علم رکھتے ہیں اور جو علم نہیں رکھتے ؟ وہی سوچتے ہیں جنہیں عقل ہے۔

تفسیر اشرف الہواشی - محمد عبدہ لفلاح

ف 3” اس کی روش بہتر ہے یا اس شخص کی جس کا ذکرا بھی ہوا“۔ یہ عبارت محذوف ہے۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کی عیادت کیلئے تشریف لے گئے اور حال دریافت فرمایا۔ وہ بولا ” مجھے اللہ کی رحمت کی امید ہے اور اپنے گناہوں کا ڈر ہے“۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایسے وقت میں جس بندے میں یہ دونوں باتیں ہوں گی اس کو اللہ تعالیٰ وہی دیگا جس کی اسے امید ہے۔ ( شوکانی) ف 4 یعنی کیا وہ لوگ جو اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جانتے ہیں ان لوگوں کے برابر ہو سکتے ہیں جو ان باتوں کو سچ نہیں جانتے؟ ظاہر ہے کہ دونوں یکساں نہیں ہو سکتے۔ نہ دنیا میں ان کی روش یکساں ہو سکتی ہے اور نہ آخرت میں ان کا انجام ایک سا ہوگا۔ ف 5 ان سے مراد اہل ایمان ہیں کیونکہ عقل وہی معتبر ہے جو اللہ و رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تابع ہو۔