سورة الفرقان - آیت 59
الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ الرَّحْمَٰنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا
ترجمہ سراج البیان - مستفاد از ترجمتین شاہ عبدالقادر دھلوی/شاہ رفیع الدین دھلوی
جس نے آسمان (ف 3) اور زمین اور جو ان میں ہے چھ دن میں بنایا ۔ (ف 1) پھر عرش پر قرار پکڑا وہ رحمٰن ہے سو تو اس کا حال کسی خبردار سے پوچھ۔
تفسیر اشرف الہواشی - محمد عبدہ لفلاح
ف5۔ یہاں ” جاننے والے“ سے مراد خود اللہ تعالیٰ ہے اور ” بِهِ “ بمعنی ” عنہ“ ہے اور مطلب یہ ہے کہ آسمان و زمین کی پیدائش اور استواء علی العرش وغیرہ کے بارے میں اہل کتاب یا مشرکین کیا جانیں۔ ان کی تفصیلات کا صحیح علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے لہٰذا اسی سے دریافت کیجئے۔ آیت کی جو توجیہات یہاں بیان کی گئی ہیں ان سب سے یہ توجیہہ بہتر ہے۔ (شوکانی)