إِذْ يُرِيكَهُمُ اللَّهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلًا ۖ وَلَوْ أَرَاكَهُمْ كَثِيرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
جب تجھے (اے محمد ﷺ) اللہ نے تیرے خواب میں انہیں تھوڑا دکھلایا ، اور اگر وہ تجھے انکی کثرت دکھلاتا ، تو تم (مسلمان) نامردی کرتے اور کام میں جھگڑا ڈالتے لیکن اللہ نے تمہیں نامردی سے بچا لیا وہ دلوں کا حال جانتا ہے۔ (ف ١)
ف 9 نبی (ﷺ) نے خواب میں دیکھا کہ کافروں کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ اسی کی خبر آپ (ﷺ) نے صحابہ (رض) کو دی جس کا فائدہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں ہمت اور ثابت قدمی پیدا ہوگئی ( کبیر) آپ (ﷺ) کا خواب اس لحاظ سے سچاتھا کہ بعد کو ان کافروں میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے ساتھ فرشتے بھی شامل تھے اس لیے ان کے مقابلے میں کافروں کی تعداد کم ہی تھی، (کذافی الوحیدی) ف 10 یعنی کوئی کہتا لڑو اور کوئی کہتا نہ لڑو ،وہ بہت ہیں اور ہم کم ( وحیدی) ف 11 یعنی نہ ہمت ہار جانے کا موقع دیا اور نہ آپس میں جھگڑنے اور اختلاف کرنے کا ( وحیدی )