سورة الہب - آیت 2

مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ (١)

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

مَا اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ: ’’نہ اس کے کام اس کا مال آیا اور نہ جو کچھ اس نے کمایا‘‘ کمائی سے مفسرین نے اس کے بیٹے مراد لیے ہیں، علاوہ ازیں اس نے اپنے خیال میں جو اعمال نیکی سمجھ کر کیے تھے وہ اس کے کسی کام نہ آئے۔ صحیح بخاری میں ہے : (( قَالَ عُرْوَةُ : وَ ثُوَيْبَةُ مَوْلَاةٌ لِأَبِيْ لَهَبٍ وَ كَانَ أَبُوْ لَهَبٍ أَعْتَقَهَا فَأَرْضَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا مَاتَ أَبُوْ لَهَبٍ أُرِيَهُ بَعْضُ أَهْلِهِ بِشَرِّ حِيْبَةٍ (بِشَرِّ خَيْبَةٍ) قَالَ لَهُ مَاذَا لَقِيْتَ، قَالَ أَبُوْ لَهَبٍ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ غَيْرَ لَمْ أَلْقَ بَعْدَكُمْ خَيْرًا غَيْرَ أَنِّيْ سُقِيْتُ فِيْ هٰذِهِ بِعَتَاقَتِيْ ثُوَيْبَةَ )) [بخاري، النکاح، باب: ﴿وأمھاتکم الاتي أرضعنکم﴾ : ۵۱۰۱] ’’عروہ نے کہا کہ ثویبہ ابو لہب کی لونڈی تھی جسے ابو لہب نے آزاد کیا تھا، پھر اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلایا۔ جب ابولہب فوت ہوا تو اس کے گھر والوں میں سے کسی کو خواب میں ابو لہب بہت بری حالت میں دکھایا گیا، اس نے اس سے پوچھا : ’’تم کس چیز کو ملے؟‘‘ ابولہب نے کہا : ’’میں تمھارے بعد (کسی خیر کو) نہیں ملا سوائے اس کے کہ میں اپنی اس(انگلی اور انگوٹھے کی درمیانی جگہ) سے پلایا گیا ہوں، میرے ثویبہ کو آزاد کرنے کی وجہ سے۔‘‘ فتح الباری میں ہے کہ سہیلی نے ذکر کیا کہ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’جب ابو لہب فوت ہوا تو میں نے اسے ایک سال بعدخواب میں بہت بری حالت میں دیکھا تو اس نے کہا: ’’میں تمھارے بعد کسی راحت کو نہیں ملا مگر اتنا ہے کہ ہر سوموار کو میرا عذاب ہلکاکردیا جاتا ہے۔‘‘ کہا : ’’اس کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوموار کے دن پیدا ہوئے تھے اور ثویبہ نے ابو لہب کو آپ کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی تو اس نے اسے آزاد کر دیا۔‘‘ (فتح الباری) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد منانے والے حضرات نے اس سے دلیل پکڑی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم میلاد منانا جائز ہے۔ ان حضرات نے خیال نہیں فرمایا کہ یہ عباس رضی اللہ عنہ کا خواب ہے جو اس وقت ابھی کافر تھے، مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اب ایک طرف اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ نہ ابو لہب کا مال اس کے کام آیا اور نہ جو اس نے کمایا اور ایک طرف ایک شخص کے زمانۂ کفر کا خواب ہے کہ ثویبہ کا آزاد کرنا اس کے کام آیا۔ یہ بات مسلم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خواب شریعت میں حجت ہے کیونکہ وہ وحی الٰہی ہے، نبی کے سوا کسی مسلمان کا خواب بھی حجت نہیں، چہ جائے کہ کسی غیر مسلم کا خواب شرعی دلیل بنایا جائے، جب کہ وہ خواب صریح طور پر قرآن مجید کے خلاف ہے، کیونکہ قرآن نے ابو لہب کے ہاتھوں کا نام لے کر ان کے ہلا ک ہونے کی وعید سنائی ہے۔ پھر ان حضرات نے یہ بھی خیال نہیں فرمایا کہ میلاد منانے کی اگر کوئی اصل ہوتی تو اس نیکی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور اہل بیت ہر سال محروم نہ رہتے۔ رہی یہ بات کہ بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں اسے کیوں ذکر فرمایا ہے؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اسے ’’كِتَابُ النِّكَاحِ‘‘ میں ذکر فرمایا ہے اور ان کا مقصد اس سے یہ ثابت کرنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے دودھ پلایا تھا اور اسی نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو بھی دودھ پلایا تھا،اس لیے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز نہ تھا، کیونکہ وہ آپ کی دودھ کی بھتیجی تھی۔ بخاری رحمہ اللہ نے اسے میلاد منانے کے لیے پیش نہیں کیا اور نہ ہی کوئی صاحب عقل کسی غیر مسلم کے خواب سے شریعت اخذ کرتا ہے، خصوصاً جب وہ صاف قرآن مجید کے خلاف بھی ہو۔ قرآن کی اس صریح آیت کی رو سے ابو لہب کو ثوبیہ لونڈی کا آزاد کر دینا کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔