سورة المؤمنون - آیت 50

وَجَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَأُمَّهُ آيَةً وَآوَيْنَاهُمَا إِلَىٰ رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَمَعِينٍ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

ہم نے ابن مریم اور اس کی والدہ کو ایک نشانی بنایا (١) اور ان دونوں کو بلند صاف قرار والی اور جاری پانی (٢) والی جگہ میں پناہ دی۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَ اُمَّهٗ اٰيَةً: ’’ اٰيَةً ‘‘ میں تنوین تعظیم کی ہے ’’عظیم نشانی۔‘‘ یہ نہیں فرمایا کہ ہم نے ابن مریم کو نشانی بنایا، نہ یہ فرمایا کہ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو دو نشانیاں بنایا، بلکہ دونوں کو ملاکر ایک عظیم نشانی قرار دیا، کیونکہ ان دونوں کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عظیم نشان تھا کہ اس نے آدم علیہ السلام کو ماں باپ دونوں کے بغیر پیدا فرمایا، حوا علیھا السلام کو صرف مرد سے پیدا فرمایا اور مریم علیھا السلام کے بطن سے عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا۔ جب کہ عام پیدائش ماں باپ دونوں سے ہوتی ہے اور وہ بھی اللہ کی قدرت کا نشان ہے۔ 2۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کا نام لینے کے بجائے ’’ابن مریم‘‘ فرمایا کہ انھیں خدا قرار دینے والوں کو توجہ دلائی جائے کہ وہ ایک خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے تھے، سو خدا کیسے ہو گئے؟ وَ اٰوَيْنٰهُمَا اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ : ’’ رَبْوَةٍ ‘‘ ٹیلا، اونچی جگہ۔ ’’ ذَاتِ قَرَارٍ ‘‘ ہموار، جہاں رہنا آسان ہو۔ ’’ مَعِيْنٍ ‘‘ جاری پانی، یہ ’’عَانَ يَعِيْنُ‘‘ (بَاعَ يَبِيْعُ) سے ہو تو ’’مَبِيْعٌ‘‘ کے وزن پر اسم مفعول ہے، اصل اس کا ’’مَعْيُوْنٌ ‘‘ ہے، میم زائد ہے۔ زجاج نے فرمایا : ’’ مَعِيْنٍ ‘‘ چشموں میں جاری پانی، گویا یہ ’’عَيْنٌ‘‘ (چشمہ) سے مشتق ہے۔‘‘ ابن الاعرابی نے فرمایا : ’’ مَعَنَ الْمَاءُ‘‘ ’’پانی بہ پڑا۔‘‘ اس صورت میں اس کا وزن ’’فَعِيْلٌ‘‘ ہے اور میم اصلی ہے، جاری پانی۔ (قرطبی) 4۔ اس ربوہ (ٹیلا) سے کیا مراد ہے۔ بعض مفسرین نے اس سے مراد سرزمین مصر لی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں ملک شام (جہاں عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے) کا حاکم ہیروڈس تھا، وہ نجومیوں سے سن کر کہ عیسیٰ علیہ السلام کو سرداری ملے گی، بچپن ہی سے ان کا دشمن ہو گیا تھا اور ان کے قتل کے در پے تھا۔ مریم علیھا السلام انھیں لے کر مصر چلی گئیں اور جب تک ہیروڈس زندہ رہا واپس نہ آئیں۔ انجیل متیّٰ میں یہ واقعہ اسی طرح مذکور ہے، لیکن حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا : ’’زیادہ ظاہر بات یہ ہے کہ اس سے مراد بیت المقدس کے قریب کھجور والی وہ بلند جگہ ہے جہاں عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور مریم علیھا السلام کو نیچے سے آواز دی گئی کہ غم نہ کر، تیرے نیچے تیرے رب نے ایک ندی جاری کر دی ہے اور کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلا تو وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گی، پس کھا، پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ۔ (دیکھیے مریم : ۲۳ تا ۲۶) کیونکہ قرآن کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو قرآن کی کسی آیت سے ہو، پھر صحیح احادیث سے اور پھر آثار سے۔‘‘(ابن کثیر) اسرائیلی روایات کو جب ہم نہ سچا کہہ سکتے نہ جھوٹا تو ان سے کوئی بات کیسے ثابت ہو سکتی ہے؟