سورة ھود - آیت 51

يَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اے میری قوم! میں تم سے اس کی کوئی اجرت نہیں مانگتا، میرا اجر اس کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا تو کیا پھر بھی تم عقل سے کام نہیں لیتے (١)۔

تفسیر القرآن کریم (تفسیر عبدالسلام بھٹوی) - حافظ عبدالسلام بن محمد

يٰقَوْمِ لَاۤ اَسْـَٔلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ....: ’’ فَطَرَ ‘‘ کا اصل معنی پھاڑنا ہے، جیسا کہ فرمایا : ﴿ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ ﴾ [الانفطار : ۱ ] ’’اور جب آسمان پھٹ جائے گا۔‘‘ ’’ فَطَرَنِيْ ‘‘ سے مراد مجھے کسی گزشتہ نمونے کے بغیر پیدا فرمایا۔ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ: تو کیا تم سمجھتے نہیں کہ جو شخص سچے دل سے دعوت وتبلیغ اور نصیحت کی مشقت اٹھا رہا ہے اور جسے صرف اپنے رب سے اجر لینا ہے، وہ تم سے کوئی اجرت یا دنیوی فائدہ کیوں چاہے گا؟