سورة الانعام - آیت 139

وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ

ترجمہ مکہ - مولانا جوناگڑھی صاحب

اور وہ کہتے ہیں کہ جو چیز مویشی کے پیٹ میں ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہیں۔ اور اگر وہ مردہ ہے تو اس میں سب برابر ہیں۔ (١) ابھی اللہ ان کی غلط بیانی کی سزا دیئے دیتا ہے (٢) بلاشبہ وہ حکمت والا اور بڑا علم والا ہے۔

تفسیر تیسیر الرحمن لبیان القرآن - محمد لقمان سلفی صاحب

(139) اس آیت کریمہ میں مشرکین عرب کی ایک اور گمراہی بیان کی گئی ہے کہ جب جانوروں کو وہ اپنے بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے، جن کا ذکر اوپر آچکا، ان کے بارے میں میں یہ شریعت ایجاد کرلی تھی کہ ان کا دودھ پینا، اور ان کے بچوں کا گوشت کھانا صرف مردوں کے لیے حلال ہے عورتوں کے لیے نہیں، چناچہ عورتیں نہ ان کا دودھ پیتیں اور نہ ان کے بچوں کا گوشت کھا تیں، ہاں اگر کوئی بچہ مردہ پیدا ہوتا تو اس گوشت مرد اور عورتیں سبھی کھاتے، یہ ان کی خود ساختہ شریعت تھی جسے انہوں نے اللہ کی کی طرف منسوب کر رکھا ہے تھا، جس پر نکیر کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا، کہ اللہ تعالیٰ انہیں عبقرین اس کا بد لہ دے گا ،،